مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اسلام آباد میں طے پانے والے تفاهم پر عمل کرتا اور ایک ماہ صبر کرتا تو آبنائے ہرمز کے راستے کھولنے سمیت تفاهم کے دیگر مراحل بھی جاری رہ سکتے تھے۔
تفصیلات کے مطابق صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے نیویارک میں امریکی نشریاتی ادارے سیبیاس کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو میں کہا کہ ایران اور آمریکا کے درمیان پہلے سے طے شدہ تفاهم کے مطابق آبنائے ہرمز میں آمدورفت کے راستے مقرر کیے گئے تھے، تاہم فریقِ مقابل کی جانب سے طے شدہ طریقہ کار پر عمل نہ ہونے کے باعث صورتحال کشیدگی اور پھر حملوں تک پہنچ گئی۔
ایرانی صدر نے کہا کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت ہوئی تھی اور دونوں ممالک کے صدور نے اس پر دستخط کیے تھے، لیکن اس تفاهم پر عمل کا سلسلہ رک گیا۔ ان کے مطابق موجودہ تجویز بھی اسی سابقہ تفاهم اور اس کے مقاصد کے مطابق ہے اور اگر امریکہ سابقہ عمل کو قبول کرلے تو معاملات دوبارہ پہلے کی حالت میں آسکتے ہیں۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ اگر ایک ماہ انتظار کیا جاتا تو اسلام آباد تفاهم کے مطابق تمام راستے کھولے جانے تھے اور تفاهم کے باقی مراحل بھی جاری رہ سکتے تھے، لیکن امریکہ کی عجلت نے تفاهم کو مشکل سے دوچار کردیا۔
ایرانی صدر نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ ایران مذاکرات کا راستہ کھلا رکھتا ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان گہرا عدم اعتماد پیدا ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عدم اعتماد کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کو عملی طور پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ایران کی حکومت اور نظام کو گرانے کا ارادہ نہیں رکھتا اور طے شدہ معاہدوں کی پابندی کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے درپے نہیں اور جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات اور نگرانی کے طریقہ کار پر بین الاقوامی قوانین اور این پی ٹی کے دائرے میں تفاهم ممکن ہے۔ ایران کے جوہری مراکز بین الاقوامی نگرانی میں تھے، اس کے باوجود ان پر حملے کیے گئے۔
آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر پزشکیان نے کہا کہ انہوں نے رہبر معظم سے تفصیلی ملاقات اور گفتگو کی ہے اور حکومت کے سفارتی اقدامات ان کے ساتھ ہم آہنگی سے انجام پا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی ملاقات کے دوران رہبر انقلاب کو کوئی جسمانی چوٹ نہیں تھی اور ان کی صحت مکمل طور پر ٹھیک تھی۔
ایرانی صدر نے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے قیدیوں کی رہائی کے امکان پر بھی بات کی اور کہا کہ ایران ماضی میں اپنے بعض اقدامات کے ذریعے اپنی آمادگی ظاہر کرچکا ہے، لیکن امریکہ کی جانب سے وعدوں کی خلاف ورزی نے اعتماد کو مزید متاثر کیا۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اگر اس پر حملہ کیا جائے تو وہ دفاع کرے گا۔ انہوں نے خطے میں امن، ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ روابط اور مسائل کے حل کے لیے گفتوگو، عدالت اور انصاف کی بنیاد پر عمل کرنے پر زور دیا۔
آپ کا تبصرہ