23 اکتوبر، 2026، 11:26 PM

جیش العدل، پس منظر، فنڈنگ اور دہشت گردانہ کاروائیاں

جیش العدل، پس منظر، فنڈنگ اور دہشت گردانہ کاروائیاں

ایران کے جنوب مشرقی علاقوں میں انقلابِ اسلامی کے بعد سے دہشت گرد گروہوں کی تشکیل اور سرگرمیوں کا سلسلہ مختلف ادوار میں مختلف شکلوں میں جاری رہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک، ڈاکٹر عسکری: ایران کے جنوب مشرقی علاقوں میں انقلابِ اسلامی کے بعد سے دہشت گرد گروہوں کی تشکیل اور سرگرمیوں کا سلسلہ مختلف ادوار میں مختلف شکلوں میں جاری رہا ہے۔سوویت یونین کی افغانستان میں جنگ کے بعد کے برسوں میں شدت پسند گروہوں اور مسلح نیٹ ورکس کی سرگرمیوں میں اضافے نے اسلامی جمہوریہ ایران کے اطراف میں امن و امان کی صورت حال کو مزید سنگین بنا دیا۔  جس کے اثرات ایران کے جنوب مشرقی علاقوں میں بھی نمایاں ہوئے۔ جیش العدل اسی شدت پسندانہ سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس  تکفیری تنظیم نے سرحدی علاقوں سے آگے اپنی کارروائیوں کا دائرہ پھیلایا۔ اس کی مسلح سرگرمیوں نے ایران کی داخلی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و استحکام کے لیے بھی خطرات پیدا کیے۔

جیش العدل، پس منظر، فنڈنگ اور دہشت گردانہ کاروائیاں

جنداللہ سے جیش العدل تک

دہشت گرد گروہ جنداللہ، جیش العدل کا پیش رو گروہ تھا۔ اس نے ایران کے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان سے مشابہت رکھنے والے طریقۂ کار کے تحت اپنی مسلح سرگرمیوں کا آغاز کیا، جن میں وقت کے ساتھ شدت آتی گئی۔ عبدالمالک ریگی کی قیادت میں جنداللہ نے تشدد، تکفیر، شیعہ مخالف نظریات اور ایران دشمنی پر مبنی طرزِ فکر کو فروغ دیا۔ اس گروہ نے ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اس کی کارروائیوں میں شیعہ اور سنی شہریوں سمیت مختلف طبقات کے افراد متاثر ہوئے۔ ان حملوں کے نتیجے میں صوبہ سیستان و بلوچستان کے عوام کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ ایک ہزار سے زائد افراد پر قاتلانہ حملوں میں عبدالمالک ریگی اور اس کے گروہ کا ہاتھ ہے۔ یکم مارچ 2010ء کو عبدالمالک ریگی کی گرفتاری کے بعد تنظیم میں اختلافات اور دھڑے بندی پیدا ہوئی۔ اس کے بعد باقی ماندہ ارکان کی قیادت اور تنظیمی ڈھانچے پر تنازعات شدت اختیار کر گئے۔ نتیجتاً جنداللہ مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوگئی

جیش العدل کی بنیاد عبدالرحیم ملازادہ نے رکھی۔ 2012 میں جیش العدل کی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ اس تنظیم نے بھی سیستان و بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح کارروائیاں شروع کیں۔ اس تنظیم کا ڈھانچہ القاعدہ سے متاثر تھا۔ اس نے سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مسلح تصادم اور معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کو اپنے مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنایا۔ عبدالمالک ریگی کی پھانسی کے بعد ایرانی سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سرحدی علاقوں کی نگرانی سخت کر دی۔ اس کے نتیجے میں ملک کے اندر دہشت گرد گروہوں کی نقل و حرکت اور ان کے ٹھکانوں کے لیے مشکلات بڑھ گئیں۔ جیش العدل نے دشوار گزار علاقوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ پہاڑوں، چٹانوں اور دور افتادہ مقامات پر غیر قانونی ٹھکانے قائم کرکے تنظیم نے اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے متبادل مراکز اور معاون نیٹ ورکس پر انحصار بڑھایا۔ اس طرح اس کی پناہ گاہوں اور معاونت کا مرکز ایران سے باہر منتقل ہوگیا۔

جیش العدل، پس منظر، فنڈنگ اور دہشت گردانہ کاروائیاں

جیش العدل کے مالی ذرائع اور بیرونی پشت پناہی

جیش العدل اپنی دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے مختلف ذرائع سے مالی وسائل حاصل کرتی ہے۔ اس گروہ کی آمدنی کے اہم ذرائع میں غیر ملکی امداد،  منشیات کی اسمگلنگ اور اغوا برائے تاوان شامل ہیں۔ تنظیم کے رہنماؤں نے کبھی منشیات کی اسمگلنگ کی تردید نہیں کی بلکہ اسے بلوچ معاشرے میں ایک عام عمل قرار دیا۔ اس کے علاوہ، یہ گروہ لوگوں کو اغوا کرکے ان کی رہائی کے بدلے رقم وصول کرتا ہے اور اس طرح اپنی مالی ضروریات پوری کرتا ہے۔

غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کے علاوہ، جیش العدل کو بیرونی مالی اور سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور خطے کے بعض عرب ممالک کی حمایت اس تنظیم کی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم سمجھی جاتی ہے۔ جب اس دہشت گرد تنظیم نے چندہ جمع کرنے کے لیے اپنے سرکاری ذرائع پر کرپٹو کرنسی کے ذریعے عطیات بھیجنے کا طریقہ جاری کیاتو بعض اسرائیلی چینلز اور آن لائن گروہوں نے اس اپیل کو پھیلایا، تنظیم کی مالی حمایت کا اعلان کیا اور لوگوں کو اس کے ڈیجیٹل بٹوے میں رقم بھیجنے کی ترغیب دی۔ اسی طرح ٹیرر الرٹ جیسے چینلز نے بھی اس گروہ کی مالی مدد اور پشت پناہی کی حمایت کی۔

امریکہ کی جانب سے ایران مخالف تخریبی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل مختص کرنے کا معاملہ بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ ایران کے خلاف تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کے لیے 30 کروڑ ڈالر کے بجٹ کی تجویز کو امریکی کانگریس کی دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہوئی۔ اس حوالے سے ایک پڑوسی ملک کے سابق نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن جیش العدل کو فعال کرکے دو پڑوسی ممالک کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا چاہتا ہے۔

جیش العدل کے حوالے سے خطے کے بعض عرب ممالک کی حمایت بھی زیر بحث رہی ہے۔سعودی چینل العربیہ نے اس تنظیم کے ترجمان کو متعدد مواقع پر خصوصی کوریج دی اور اسے اپنا تنظیمی مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اسی طرح فرانسیسی خبر رساں ویب سائٹ انٹیلی جنس آن لائن (Intelligence Online) نے رپورٹ کیا کہ سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ نے مختلف گروہوں کی مدد اور ایران کے اندر نسلی اقلیتوں کو اکسانے کے لیے 50 کروڑ ڈالر مختص کیے تھے۔ مجموعی طور پر، منشیات کی اسمگلنگ، اغوا برائے تاوان، بیرونی مالی معاونت جیش العدل کی آمدنی کے اہم ذرائع ہیں۔

جیش العدل، پس منظر، فنڈنگ اور دہشت گردانہ کاروائیاں

بلوچ عوام کے حقوق کا دعویٰ اور زمینی حقائق

جیش العدل اپنے آپ کو بلوچ عوام کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مطالبات کی نمائندگی کرنے والی تنظیم کے طور پر پیش کرتی ہے۔ تاہم جیش العدل کی کارروائیوں میں شیعہ اور سنی، بلوچ اور فارس سمیت مختلف شناختوں سے تعلق رکھنے والے ایرانی شہری نشانہ بن گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچ عوام کے حقوق اور جیش العدل کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں کوئی مماثلت نہیں۔ جیش العدل کی سرگرمیاں ایران کے جنوب مشرقی علاقوں میں امن و امان کے لیے ایک سنگین چیلنج بن گئی ہیں۔ دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی شہادت، خاندانوں کا نقصان، مقامی آبادی میں خوف و ہراس اور معاشی سرگرمیوں میں خلل جیسے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

جیش العدل کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے نتیجے میں سیستان و بلوچستان کے شیعہ و سنی علماء اور عام شہریوں کی بڑی تعداد جان سے ہاتھ دھو چکی ہے۔ تنظیم کے سفاک دہشت گردوں نے گزشتہ دنوں عوامی خدمت میں مصروف دو خواتین کو بھی قتل کر دیا۔ ان میں ڈاکٹر نصرت افتخاری شامل ہیں، جو صوبائی پولیس کمان کے شعبہ ثقافتی و سماجی امور کی نائب سربراہ تھیں۔ 9 اکتوبر 2026 کو زاہدان کے علاقے چشمہ زیارت میں سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں انہیں نشانہ بنایا گیا۔ وہ مقامی لوگوں کی مدد اور قبائلی برادریوں کے مسائل حل کرنے کے لیے وہاں گئی تھیں۔ جیش العدل نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ دوسری خاتون افسانہ عقیلہ تھیں، جو مہرستان میں خواتین کی بسیج یونٹ کی کمانڈر تھیں۔ انہیں 14 اکتوبر کو ان کے گھر کے باہر فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔

ان دہشت گردانہ کارروائیوں پر سیستان و بلوچستان کے عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اہل سنت علماء نے بھی دہشت گردوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے  جیش العدل کی کاروائیوں کو بلوچ روایات اور مفادات کے منافی قرار دیا ہے اور حکومت سے ان کے خلاف مؤثر آپریشن کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

سیستان و بلوچستان کے جوانوں  اور تعلیم یافتہ طبقے نے سوشل میڈیا پر جیش العدل کی دہشت گرد کارروائیوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو نشانہ بنانا بلوچ معاشرے کی روایات اور اقدار کے خلاف ہے، جہاں خواتین کو ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سیستان و بلوچستان کے حقوق اور بلوچ عوام کے نام پر دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے والے عناصر درحقیقت بیرونی قوتوں اور دشمن کے مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد عوام کے حقوق کا تحفظ یا صوبے کی ترقی نہیں، بلکہ بدامنی پھیلا کر ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچانا اور علاقے کی تعمیر و ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔

News ID 1942317

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha