مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور ناظم الامور غلامحسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھ کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی حکام کی حالیہ دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف ’’مدر آف آل بمز‘‘ استعمال کرنے کی دھمکی اور اسرائیلی وزیر جنگ یسرائیل کاٹز کی جانب سے ایران کے توانائی کے تمام مراکز کو نشانہ بنانے کے اعلان سے خطے اور عالمی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
ایرانی سفارت کار کے مطابق، امریکی اور اسرائیلی دھمکیاں ایران کے خلاف جاری جارحانہ اقدامات اور شہریوں و اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے تناظر میں بین الاقوامی قوانین کی مزید خلاف ورزیوں کا خطرہ بڑھا رہی ہیں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو غیرقانونی دھمکیاں ختم کرنے اور اقوام متحدہ کے منشور سمیت بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرنے کا کہا جائے۔ اس کے علاوہ ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کی واضح مذمت اور سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
خط کے مطابق، 15 اکتوبر 2026 کو امریکی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے منصوبوں پر غور کر رہے ہیں، جن میں ’’مدر آف آل بمز‘‘ کا استعمال بھی شامل ہے۔ اسی روز امریکی صدر نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں اس ہتھیار کا ذکر کرتے ہوئے ایران کو مزید حملوں کی دھمکی دی۔
ایرانی خط میں مزید کہا گیا ہے کہ 18 اکتوبر کو اسرائیلی وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے ایران پر ممکنہ حملے کی تیاری اور دوبارہ فوجی کارروائی کی صورت میں ایرانی توانائی کے تمام مراکز کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔
ایران نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کو جواب دہ ٹھہرانے کے لیے فوری اقدامات کرے اور ایران کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کو یقینی بنائے۔
خط کے اختتام پر ایران نے اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کے تحت اپنے حقِ دفاع پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر سلامتی کونسل اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی تو ایران بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے قومی مفادات کے دفاع میں فیصلہ کن جواب دے گا۔
آپ کا تبصرہ