مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان اور قطر سمیت ثالثی کرنے والے ممالک کے ذریعے مسلسل مذاکرات جاری ہیں۔
تفصیلات کے مطابق عراقی ٹی وی چینل الاخباریہ کو انٹرویو دیتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ایران نے اس سے قبل امریکہ کو سات روزہ منصوبے کے نام سے ایک تجویز پیش کی تھی، جس میں ایران کی شرائط واضح طور پر بیان کی گئی تھیں۔ اس منصوبے کے مطابق، سات روزہ مدت کے چھٹے دن آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولا جانا تھا۔ امریکی فریق نے ایران کو آگاہ کیا تھا کہ وہ ان شرائط سے اتفاق کرتا ہے، تاہم وہ معاہدے میں چند مزید شقیں شامل کرنا چاہتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اضافی امریکی شرائط کی تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت میں درج تمام وعدوں پر عمل کرے، جس پر پہلے ہی دستخط ہو چکے ہیں۔ ان وعدوں پر عمل درآمد کے بعد دیگر معاملات پر مذاکرات کیے جا سکتے ہیں، جبکہ مذاکرات کے آخری مرحلے میں دونوں فریقوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے کسی بھی معاملے پر بات چیت اور حتمی اتفاقِ رائے ممکن ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے تین ادوار میں شریک ہو چکا ہے، لیکن ہر دور کے بعد ایران کے خلاف جنگ ہوئی۔ تیسرے دور کے مذاکرات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مفاہمت طے پائی تھی، تاہم ٹرمپ نے خود اس مفاہمت کی خلاف ورزی کی اور صرف دو ہفتے تک اس کی پابندی کی۔ ان تجربات کے بعد امریکہ کے طرزِ عمل پر اعتماد کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔
سات روزہ منصوبے کی پیش کش کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ ایران نے سفارت کاری کا راستہ جاری رکھنے کے لیے یہ اقدام کیا ہے۔ ان کے بقول، ایران کے نزدیک سفارت کاری کے دروازے مکمل طور پر کھلے ہیں، بشرطیکہ دوسرا فریق طے شدہ مفاہمتوں کی پابندی کرے۔
عراقچی نے مزید کہا کہ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ مذاکرات کا راستہ ایران نہیں بلکہ امریکہ بند کر رہا ہے۔ اگر امریکہ واقعی مفاہمت کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے پہلے سے طے شدہ شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔ ایسا ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھول دی جائے گی اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کے مزید ادوار منعقد کیے جا سکیں گے۔
آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی اور بحیرۂ احمر میں کشیدگی بڑھانے کے الزامات کے حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بحیرۂ احمر میں ہونے والی پیش رفت کا ایران سے کوئی تعلق نہیں اور اس کے اپنے مخصوص معاملات ہیں۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے بارے میں ایران کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ جب تک اس آبی گزرگاہ کے حوالے سے کوئی معاہدہ یا مفاہمت طے نہیں پاتی، یہ تمام فریقوں کے لیے کھلی نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق، امریکہ کو ایران کی شرائط قبول کرنا ہوں گی تاکہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت ممکن ہو سکے۔
عراقچی نے کہا کہ کسی مفاہمت یا معاہدے کے طے پانے سے پہلے آبنائے ہرمز بند رہے گی اور اس سے گزرنے والے جہازوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے امریکی مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایک طرف آبنائے ہرمز کو کھلا قرار دیتا ہے اور دوسری طرف جہازوں کو وہاں سے گزرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن جب یہ جہاز آبنائے کے پانیوں میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ آٹھ ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود امریکہ جنگ میں اپنے کسی بھی مقصد کو حاصل نہیں کر سکا۔ ان کے مطابق، امریکی اہداف کا پورا نہ ہونا واشنگٹن کی تزویراتی ناکامی جبکہ ایران کے لیے تزویراتی کامیابی اور فتح ہے۔
عراقچی نے کہا کہ امریکہ اس وقت ایک گہرے دلدل میں پھنس چکا ہے اور اس سے نکلنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ اسی لیے وہ فوجی دھمکیوں، اقتصادی پابندیوں اور نئی پابندیوں کا سہارا لے رہا ہے۔ اس کے علاوہ، امریکہ ایران کے ہمسایہ ممالک پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ وہ تہران کے ساتھ تعاون نہ کریں، لیکن اسے ان کوششوں میں مثبت نتائج حاصل نہیں ہوئے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ اقدامات کامیاب نہیں ہوں گے اور ایران اقتصادی پابندیوں یا فوجی دھمکیوں کے سامنے کسی صورت تسلیم نہیں ہوگا۔ موجودہ صورتِ حال کا مناسب حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے طے پانے والا معاہدہ ہے۔
آپ کا تبصرہ