21 اکتوبر، 2026، 8:37 AM

آئندہ ممکنہ جنگ میں ایران کی حیران کن حکمتِ عملی؛ امریکہ اور اسرائیل کے لیے بڑے چیلنجز، عرب مبصر

آئندہ ممکنہ جنگ میں ایران کی حیران کن حکمتِ عملی؛ امریکہ اور اسرائیل کے لیے بڑے چیلنجز، عرب مبصر

علاقائی تزویراتی امور کے تجزیہ کار نے آئندہ ممکنہ جنگ میں امریکی اور غاصب صیہونی جارحین کے لیے ایران کی جانب سے تیار کی گئی حیران کن حکمتِ عملیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس جنگ میں تہران کی حکمتِ عملی کا اندازہ پیش کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اپنے ایک تجزیے میں آبنائے ہرمز میں ایران کے حملوں کا ذکر کیا ہے، جن میں 12 بڑے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ جہاز ایران کے سکیورٹی انتظامات کو نظرانداز کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ عطوان نے لکھا ہے کہ یہ اقدام امریکہ کے لیے ایک چیلنج ہے اور اس کے ان دعوؤں کی تردید کرتا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور وہاں تجارتی جہاز رانی بحال کر سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ’’مدر آف آل بمز‘‘ سے بمباری کی دھمکی سے پیچھے ہٹنا بھی اس کے نتائج کے خوف کا مظہر ہے۔

عطوان کے مطابق، ایرانی قوم اور حکومت اب امریکی و غاصب صیہونی حملوں سے خوف زدہ نہیں ہیں اور کسی بھی نئی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے انتہائی بلند سطح کی تیاری رکھتی ہیں۔

ان کے بقول، ایران کے خلاف فوجی جارحیت میں تیزی لانے کی بنیامین نیتن یاہو کی کوشش بھی اسی خوف اور گھبراہٹ کا نتیجہ ہے۔

عطوان نے کہا کہ ایران کا آٹھ ماہ تک محاصرہ کرنے، جس میں اس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی شامل تھی، کے باوجود نظام کو تبدیل کرنے کا مقصد پورا نہیں ہو سکا۔ دشمن ایرانی عوام کو سڑکوں پر احتجاج کے لیے اکسانے میں بھی ناکام رہا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران میں صورتِ حال اس کے بالکل برعکس رہی اور اس ملک کے رہبر اور حکومت کے ساتھ قومی یکجہتی میں اضافہ ہوا، جبکہ ان کی حمایت بھی مزید مضبوط ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ صیہونی حکومت کے پارلیمانی انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت کے لیے ٹرمپ کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے اپنے تمام انڈے لیکوڈ پارٹی اور اس کے سربراہ بنیامین نیتن یاہو کی ٹوکری میں رکھ دیے ہیں۔

امریکی و غاصب صیہونی اتحاد کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے عطوان نے لکھا ہے کہ اس جنگ میں ایران کے اتحادی کامیاب ہوں گے اور روز بروز مزید طاقتور ہوتے جائیں گے۔ وہ جنگ میں داخل ہونے کے لیے انگلیاں ٹریگر پر رکھے ہوئے ہیں اور اس کے آغاز کے منتظر ہیں، تاکہ تمام ریڈ لائن عبور کر سکیں۔ حزب الله لبنان اپنے اوپر لگنے والی ضرب سے سنبھل چکی ہے اور اپنی فوجی صلاحیتیں مکمل طور پر بحال کر چکی ہے۔ یمن میں انصارالله پہلے سے زیادہ طاقتور ہو چکی ہے، جبکہ عراق میں حشد الشعبی اور فلسطین میں حماس بھی تسلیم نہیں ہوئیں اور میدان میں موجود ہیں۔

عرب تجزیہ کار نے زور دے کر کہا کہ امریکی صیہونی اتحاد اس معرکے میں سب سے بڑا نقصان اٹھانے والا فریق ہو گا، خواہ جارحیت کا آغاز وہ کرے یا ایران پہل کرتے ہوئے بمباری شروع کر دے۔ ایران کی تیز رفتار کشتیاں اور ہزاروں بحری میزائل، جن میں کلسٹر وارہیڈز والے میزائل بھی شامل ہیں، سب ایک بڑی جنگ کے منتظر ہیں۔

عطوان نے آئندہ جنگ میں ایران کی حکمتِ عملی کو امریکی فوجیوں کو زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے اور ممکنہ حد تک زیادہ تعداد میں انہیں قیدی بنانے پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جانی نقصان امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں پر موجود فوجیوں کے ساتھ ساتھ اردن اور خلیج فارس کے علاقے میں واقع امریکی اڈوں پر تعینات اہلکاروں کو بھی پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحری جہازوں پر موجود 50 ہزار میرینز کی لاشوں کا تابوتوں میں امریکہ واپس پہنچنا، امریکہ کو شکست دینے اور اسے ذلت آمیز انداز میں خطے سے نکلنے پر مجبور کرنے کا مختصر ترین راستہ ہے، بالکل اسی طرح جیسے افغانستان، عراق، لبنان اور ویتنام میں ایسا ہوا تھا۔

عطوان نے اپنے مضمون کے اختتام پر لکھا کہ 2025 کی 12 روزہ جنگ میں ایران کے کلسٹر وارہیڈز والے میزائلوں نے تل ابیب کے بیشتر محلوں کو تباہ کر دیا تھا اور 70 لاکھ صیہونی آبادکاروں کو دن رات پناہ گاہوں میں جانے پر مجبور کر دیا تھا۔

انہوں نے مزید لکھا کہ آئندہ جنگ میں شاید حیفا، تل ابیب، عسقلان، اشدود اور ایلات میں بلند و بالا عمارتوں کو اسی طرح گرتے ہوئے دیکھا جائے، جس طرح نیویارک میں عالمی تجارتی مرکز کی عمارتیں گری تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی صورتِ حال میں صیہونی حکومت کی فوجی سنسرشپ بھی ان ہولناک حقائق کو چھپانے، ان کی عکس بندی روکنے اور انہیں منظرِ عام پر آنے سے باز رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

News ID 1942252

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha