مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، معروف عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ صلالہ میں ہونے والا یہ اجلاس مذاکرات کے عمل میں اصلاحی قدم ہے اور 6 وجوہات کی بنا پر اس کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔
انہوں نے پہلی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہے اور طویل عرصے سے مؤخر ہونے کے بعد اب ایران اور خلیج فارس تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوں گے، جبکہ اس میں امریکہ کی مداخلت اور دھمکیوں کا کردار نہیں ہوگا۔
عطوان کے مطابق دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے اہداف، خصوصا ایرانی نظام کو تبدیل کرنے اور اس کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ ایران نے فوجی اور اقتصادی دباؤ کے باوجود اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا۔
انہوں نے تیسری وجہ میں کہا کہ خلیج فارس کے ممالک اس جنگ کے سب سے بڑے نقصان اٹھارہے ہیں، جو اب چھٹے ماہ میں داخل ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش اور ایران کی جانب سے محاصرہ ختم کرنے اور منجمد اثاثے آزاد کرنے سمیت اپنے مطالبات پر اصرار کے باعث یہ ممالک تیل اور گیس برآمد نہیں کر پا رہے۔
عطوان نے کہا کہ چوتھی وجہ یہ ہے کہ بعض ثالث ٹرمپ سے خوفزدہ تھے اور غیر جانب دار ہونے کے بجائے امریکہ کے مطالبات اور دباؤ ایران تک پہنچا رہے تھے۔
پانچویں وجہ کے طور پر انہوں نے عمان کی علاقائی حیثیت اور تمام فریقوں کے ساتھ اس کے تعلقات کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق ایران اور عرب ممالک کے درمیان عمان کے ذریعے مذاکرات ایک طرح کا خاندانی مذاکرات ہیں۔
چھٹی وجہ کے طور پر عطوان نے کہا کہ خلیج فارس کے ممالک اب اس حقیقت سے آگاہ ہوچکے ہیں کہ امریکہ اور حتی کہ اسرائیل بھی ان کی حفاظت نہیں کرسکتے۔ ان کے مطابق خطے میں امریکی اڈے بھی ان کے لیے مالی دباؤ اور اخاذی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔
عطوان نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی دانش مندی، سفارت کاری اور خلیجی دارالحکومتوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے اس اجلاس کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے تنازع سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک اس اجلاس کے ذریعے سب سے بڑے فائدہ اٹھانے والے بھی بن سکتے ہیں، خصوصا اگر اجلاس میں آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر ہی سہی، دوبارہ کھولنے پر اتفاق ہوجائے۔
عطوان نے امید ظاہر کی کہ مصر اور اردن کو بھی مستقبل میں ایسے اجلاسوں میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ یمن اور وہاں جاری جنگ صلالہ اجلاس کے ایجنڈے میں سرفہرست ہوگی اور یہ اجلاس عرب ممالک اور ایران کے درمیان مفاہمت اور قربت کی بنیاد بنے گا۔
آپ کا تبصرہ