28 اگست، 2026، 6:35 AM

ڈاکٹر عنبر فاطمہ عابدی کی مہر نیوز سے گفتگو:

وحدتِ امت؛ مسلم دنیا کی بقا، وقار اور مؤثر عالمی کردار کی بنیادی ضرورت ہے

وحدتِ امت؛ مسلم دنیا کی بقا، وقار اور مؤثر عالمی کردار کی بنیادی ضرورت ہے

ڈاکٹر عنبر فاطمہ عابدی، اسسٹنٹ پروفیسر اُردو شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء، کراچی پاکستان نے ہفتۂ وحدت کے موقع پر کہا کہ آج وحدتِ امت صرف ایک مذہبی ضرورت نہیں رہی، بلکہ مسلم دنیا کی بقا، وقار اور مؤثر عالمی کردار کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: ڈاکٹر عنبر فاطمہ عابدی، اسسٹنٹ پروفیسر اُردو شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء، کراچی پاکستان نے ہفتۂ وحدت کے موقع پر مہر خبررساں ایجنسی سے، موجودہ عالمی حالات میں وحدتِ امت کی اہمیّت، جامعات کا فرقہ وارانہ کشیدگی کم کرنے میں کردار اور علمی مراکز کا ہفتۂ وحدت کو ایک علمی تحریک بنانے میں کردار کے عنوان پر گفتگو کی ہے۔

سوال: موجودہ عالمی حالات میں وحدتِ امت کو کس تناظر میں دیکھتی ہیں؟

ڈاکٹر عنبر فاطمہ عابدی: آج وحدتِ امت صرف ایک مذہبی ضرورت نہیں رہی، بلکہ مسلم دنیا کی بقا، وقار اور مؤثر عالمی کردار کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ فلسطین کا المیہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہمارے اختلافات اگر علمی حدود سے نکل کر باہمی تقسیم اور عدم اعتماد میں تبدیل ہو جائیں تو ہماری اجتماعی قوت کمزور ہو جاتی ہے۔

قرآنِ حکیم کا پیغام واضح ہے: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا. اس آیت میں وحدت کا تصور کسی یکسانیت کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ ایک ایسے اجتماعی رشتے کی دعوت دیتا ہے جو اختلاف کے باوجود انسانوں کو ایک دوسرے سے منسلک رکھے۔

پھر یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ فقہی اور فکری اختلافات ہماری تاریخ کا حصہ ہیں؛ اصل مسئلہ اختلاف نہیں، اختلاف کو ملت، مسلک، زبانوں، رنگ اور نسل کی بنیاد پر تنفر و عداوت میں تبدیل کرنا ہے۔

فلسطین سمیت آج امت مسلمہ کے تمام اہم مسائل اس امر کے متقاضی ہیں کہ مسلم ممالک اور مسلم معاشرے من حیث القوم اجتماعی مفادات کے لیے مشترکہ ترجیحات جیسے عدل، انسانی وقار، آزادی، خودمختاری، امن اور مظلوم کی حمایت پر جمع ہوں۔ یہ وحدت صرف نعروں سے نہیں، بلکہ مشترکہ علمی، قانونی، سفارتی، معاشی اور ابلاغی حکمتِ عملی سے پیدا ہوگی۔

لہٰذا میں وحدتِ امت کو "اختلاف ختم کرنے" کے بجائے اختلاف کو تہذیب، احترام اور مشترکہ مقصد کے تابع کرنے کا نام سمجھتی ہوں۔ حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق، مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں اگر جسم کے کسی ایک حصے میں تکلیف ہوتی ہے تو تمام جسم کو درد محسوس ہوتا ہے، لہٰذا فلسطین کا مسئلہ محض ایک ریاستی مسئلہ نہیں، بلکہ امت مسلمہ کی اجتماعی حمیت و قدر مشترک ہے، اسی لیے فلسطین کے مظلوموں کی آواز ہر پلیٹ فارم اور ہر سطح پر مزاحمت کی بازگشت کے طور پر پہنچنی چاہیے۔

سوال: آپ کی نظر میں علمی مراکز اور جامعات فرقہ وارانہ فاصلے کم کرنے میں کس طرح مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں؟

ڈاکٹر عنبر فاطمہ عابدی: آج المیہ یہ ہے کہ عام طور پر ہمارے ذہنوں میں یہ تصور تقویت پا گیا ہے کہ جامعات چاہے سرکاری ہوں یا نجی یہ محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ علمی درسگاہیں علم کی ترویج کے ساتھ ساتھ بہترین تربیت گاہیں بھی ثابت ہوسکتی ہیں جہاں اذہان و کردار کی تشکیل سازی بھی ہونی چاہیے۔ گویا یہ جامعات کسی بھی معاشرے کے مستقبل کی تعمیر گاہ ہیں۔ اگر ہم آنے والی نسل کو بحیثیتِ طالب علم، فرقہ وارانہ تقسیم، عصبیت و گروہ بندی کے حوالے سے وحدت، تحمل و برداشت اور مکالمے کی روایت کا ماحول دینا چاہتے ہیں تو اس کا آغاز مسجد یا منبر سے قبل کلاس روم اور کیمپس سے ہونا چاہیے۔ یہ امر بھی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستانی جامعات کو یہ انفرادیت حاصل ہے کہ یہان ایک ہی کلاس روم میں مختلف علاقوں، زبانوں، ثقافتوں اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے نوجوان ایک ساتھ حصولِ علم میں یکجا ہوتے ہیں۔ یہ تنوع اگر تعصب کے بغیر علمی انداز میں برتا جائے تو یہی اختلاف نظریاتی فاصلے نہیں، بلکہ فکری وسعت پیدا کر سکتا ہے۔ یونیورسٹی میں مختلف کلیہ جاتی اور شعبہ جاتی سطح پر اساتذہ کا یہ فریضہ ہے کہ اپنے انداز، الفاظ، رویے اور افکار سے کسی ایک مکتبِ فکر کو دوسرے پر فوقیت دینے کے بجائے طلبہ کی ذہن سازی میں روادری، وسعت نظر اور برداشت جیسے عناصر کو لازمی شامل کیا جائے، تاکہ ان میں اختلاف رائے کی صورت میں تحمل کے ساتھ دوسرے کا نقطۂ نظر سننے کا حوصلہ ہو، طلبہ کو باور کروایا جائے کہ اختلاف ہو تو دلیل اور احترام کے ساتھ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے بین المسالک علمی مکالمے، مشترکہ تحقیقی منصوبے، مطالعاتی حلقے، سیمینارز، مباحثے اور طلبہ کے مشترکہ سماجی و فلاحی منصوبے نہایت مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہاں یہ نکتہ بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اختلافِ رائے، دشمنی نہیں اور دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنا، اپنے مؤقف سے دستبرداری نہیں۔

اگر ایک طالب علم دوسرے مکتبِ فکر کے نقطۂ نظر کو براہِ راست سن کر سمجھنا سیکھ لے تو بہت سے وہ تعصبات خود بخود ختم ہو جاتے ہیں جو عموماً فاصلے، افواہوں اور یک طرفہ معلومات سے پیدا ہوتے ہیں۔

اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ وحدتِ امت کا سب سے پائیدار راستہ علمی مکالمہ ہے اور علمی مکالمے کی سب سے مضبوط درس گاہ یونیورسٹی ہے۔

اگر ہم اپنے کیمپس میں یہ ماحول پیدا کر سکیں کہ دلیل کا جواب دلیل سے، اختلاف کا جواب احترام سے اور نفرت کا جواب مکالمے سے دیا جائے تو ہم صرف بہتر طلبہ پیدا نہیں کریں گے؛ ہم ایسے کار آمد شہری تیار کریں گے جو مستقبل میں عدالت، پارلیمنٹ، میڈیا، تحقیق اور ریاستی اداروں میں تقسیم نہیں، بلکہ اتحاد، عدل اور اجتماعی ذمہ داری کی ثقافت کو آگے بڑھائیں گے۔

گویا یہی وہ مقام ہے جہاں جامعہ، وحدتِ امت کی عملی تربیت گاہ بن سکتی ہے۔

سوال: ہفتۂ وحدت کو صرف ایک مذہبی مناسبت کے بجائے ایک مستقل فکری و سماجی تحریک بنانے کے لیے پاکستان کے علمی مراکز، جامعات اور دانشور طبقے کو کن عملی اقدامات کی طرف جانا چاہیے؟

ڈاکٹر عنبر فاطمہ عابدی:میرے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ جو ہمیں اس حوالے سے درپیش ہے وہ یہ ہے کہ ہم ہفتۂ وحدت کو محض مختلف سطحوں پر منعقد ہونے والی تقریبات سمجھتے ہیں، ایک مسلسل عمل نہیں۔ ہفتہ ختم ہوتا ہے، تقریبات ختم ہوتی ہیں، مگر وحدت کا اصل تقاضا اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اس لیے ہفتۂ وحدت کو اختتام نہیں، بلکہ پورے سال کی فکری و سماجی سرگرمیوں کا نقطۂ آغاز بنانا چاہیے۔ جامعات میں مستقل وحدتِ امت ریسرچ فورمز اور بین المسالک مکالماتی مراکز قائم ہوں، جہاں مختلف مکاتبِ فکر کے اہلِ علم اور نوجوان سال بھر مشترکہ موضوعات پر تحقیق، مکالمہ اور علمی تبادلہ کریں۔

دوسرا، وحدت کو صرف تقاریر اور مذہبی اجتماعات تک محدود رکھنے کے بجائے مشترکہ سماجی خدمت سے منسلک و مربوط کیا جائے۔ جب مختلف مکاتبِ فکر کے نوجوان تعلیم، فلاح، انسانی خدمت اور قومی مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کریں گے تو نظری اختلافات کے باوجود عملی رفاقت پیدا ہوگی۔

تیسرا، وحدت پر معیاری تحقیق، کتب، پالیسی پیپرز اور ڈیجیٹل مواد تیار کیا جائے، تاکہ وحدت جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر ایک سنجیدہ علمی اور سماجی بیانیہ کی صورت اختیار کرے۔

اور سب سے اہم، سوشل میڈیا پر نفرت و اشتعال انگیزی کے مقابلے میں علم، احترام، مکالمے اور مشترکہ اقدار پر مبنی جدید وحدتی بیانیہ تشکیل دیا جائے۔

News ID 1940940

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha