مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکومت نے چینی ہیکنگ آپریشن کو ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے، جس کے ذریعے امریکی حکومت کے متعدد حساس اداروں اور دیگر اہم تنظیموں کے کمپیوٹر نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، امریکی محکمہ انصاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس سائبر مہم میں استعمال ہونے والے دو ہیکنگ پلیٹ فارمز، «QScan» اور «QTRouter»، سے منسلک ڈومینز کو ضبط کر لیا گیا ہے۔
عدالتی حلف نامے میں امریکی محکمہ توانائی، محکمہ صحت و انسانی خدمات، نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اور امریکہ و جنوبی کوریا کی چار دیگر کمپنیوں کو مبینہ سائبر حملوں کا نشانہ بننے والوں میں شامل کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق، یہ پلیٹ فارم ایک چینی کمپنی «نانجنگ شینجوئی نیٹ ورک ٹیکنالوجی» کے زیر انتظام تھے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کمپنی کے صارفین میں چین کی سویلین انٹیلی جنس ایجنسی، یعنی وزارتِ ریاستی سلامتی، اور چینی فوج، یعنی پیپلز لبریشن آرمی، بھی شامل ہیں۔
چینی سفارتخانے نے واشنگٹن میں سامنے آنے والے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، جبکہ مذکورہ چینی کمپنی نے بھی تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
حلف نامے کے مطابق، ہیکرز کم از کم 2018 سے اپنے تیار کردہ سائبر ٹولز کے ذریعے امریکہ اور دنیا بھر میں اہم بنیادی ڈھانچے اور دیگر حساس نیٹ ورکس میں دراندازی کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق، مختلف حملوں میں ہیکرز کو متاثرہ نیٹ ورکس تک مختلف سطحوں کی رسائی حاصل ہوئی۔ امریکی حکام کے مطابق، 2019 میں ہیکرز نے ایک وی پی این میں موجود کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ناسا کے نیٹ ورکس میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
حلف نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ستمبر 2024 میں ہیکرز نے امریکی محکمہ توانائی کی تین لیبارٹریوں، نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ، محکمہ صحت و انسانی خدمات کی ایک نامعلوم ایجنسی اور امریکہ میں سکیورٹی آلات تیار کرنے والی ایک کمپنی کے نیٹ ورکس میں بھی دراندازی کی۔
امریکی حکام کے مطابق، چین سے منسلک ہیکنگ مہمات حالیہ برسوں میں امریکی حکومت اور نجی شعبے کے حساس نیٹ ورکس کی ایک وسیع زنجیر کو متاثر کر چکی ہیں، جس کے باعث واشنگٹن میں چینی سائبر سرگرمیوں کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
آپ کا تبصرہ