مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے لبنان کی صورتحال کے حوالے سے کہا ہے کہ اسرائیل اب ضاحیہ یا بیروت کی طرف پیش قدمی نہیں کر سکتا، کیونکہ حزب اللہ نے گزشتہ تین یا چار ماہ کے دوران اسرائیل کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے اور ایران کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں نے بھی اپنا مکمل اثر دکھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضاحیہ جنوبی اور بیروت ایران کی سرخ لکیر ہیں اور تہران لبنان کی صورتحال پر سنجیدگی سے نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کو بالآخر لبنان سے پیچھے ہٹنا پڑے گا۔
محسن رضائی نے لبنان کی جنگ میں شام کے ممکنہ داخلے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شام کی حکومت کو متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ دمشق اور اس کے اطراف میں اسرائیل کے مسلسل حملوں نے ایسی صورتحال پیدا ہونے کے امکانات کو کم کر دیا ہے۔ شامی حکومت بھی اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ اسرائیل کسی معاہدے کی پابندی نہیں کرتا۔
قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے حزب اللہ کے بارے میں کہا کہ ایران حزب اللہ کے فوجی ڈھانچے یا میدان جنگ کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کرتا۔ حزب اللہ کے پاس ایسے فوجی کمانڈر اور اہلکار موجود ہیں جو اپنے معاملات چلانے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوری ایران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو جہنم واصل کر دے گا۔ ہم ثابت کریں گے کہ نیتن یاہو کی بڑی غلطیوں نے صہیونی حکومت کے خاتمے کو قریب کر دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ