مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک: آج امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کا دن ہے۔ امام حسن عسکریؑ کی امامت کا دور تاریخ تشیع کے حساس ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ آپؑ نے ایسے حالات میں امامت کی ذمہ داری سنبھالی جب عباسی حکومت کی جانب سے آپؑ پر سخت نگرانی اور دباؤ تھا۔ اس کے باوجود آپؑ نے اعتقادی شبہات کا جواب دینے، شیعوں سے رابطہ برقرار رکھنے، وکالت کے نظام کو مضبوط بنانے اور مقام امامت کی وضاحت کے ساتھ ساتھ شیعہ معاشرے کو حضرت ولی عصرؑ کی غیبت کے دور میں داخل ہونے کے لیے تیار کیا۔
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے حالات زندگی اور ان کی حکمت عملی پر روشنی ڈالنے کے لیے مہر نیوز نے حوزہ علمیہ کے استاد حجۃ الاسلام حسنلو سے گفتگو کی ہے جس کا متن ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔
مہر نیوز: امام حسن عسکریؑ کے دور کے سیاسی اور سکیورٹی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، آپؑ کے دور امامت کی اہم ترین خصوصیات کیا تھیں؟
حجۃ الاسلام حسنلو: امام حسن عسکریؑ کا دور امامت تاریخِ تشیع کے حساس ترین اور دشوار ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ آپؑ نے اپنے بزرگوار والد امام ہادیؑ کی شہادت کے بعد 254 ہجری قمری میں منصب امامت سنبھالا اور 260 ہجری تک تقریبا چھ برس شیعہ معاشرے کی رہنمائی فرمائی۔ اگرچہ یہ مدت مختصر تھی، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس دور کے اثرات محدود تھے؛ بلکہ امامؑ نے اسی مختصر عرصے میں شیعہ عقائد کی بنیادوں کو مستحکم کرنے اور اپنے پیروکاروں کو عصر غیبت کے لیے تیار کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
اس دور کی نمایاں خصوصیت عباسی حکومت کی جانب سے شدید دباؤ اور مسلسل نگرانی تھی۔ امام حسن عسکریؑ کو عباسی خلافت کے سیاسی اور فوجی مرکز سامرہ میں رہنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ عسکری کا لقب بھی اسی فوجی علاقے عسکر میں آپؑ کی جبری رہائش کی نسبت سے مشہور ہوا۔ ایسے ماحول میں امامؑ کی موجودگی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ عباسی حکومت آپؑ کی سرگرمیوں اور شیعوں کے ساتھ آپؑ کے روابط پر گہری نظر رکھتی تھی۔
دوسری جانب، امام حسن عسکریؑ کا دور امامت شیعہ فکر اور معاشرے کے جغرافیائی پھیلاؤ کے ساتھ بھی وابستہ تھا۔ اہل بیتؑ کے پیروکار صرف مدینہ اور عراق تک محدود نہیں تھے بلکہ قم، رے، نیشاپور، کوفہ، بغداد، اہواز اور دیگر علاقوں میں بھی شیعہ اجتماعات اور مراکز وجود میں آچکے تھے۔ ایسے وسیع اور منتشر معاشرے کی رہنمائی، جبکہ امامؑ سے براہ راست رابطہ انتہائی مشکل تھا، غیر معمولی تدبیر، تنظیم اور قابل اعتماد نمائندوں کے ذریعے رابطے کے نظام کی ضرورت رکھتی تھی۔
امام حسن عسکریؑ کو سیاسی دباؤ کے ساتھ ساتھ فکری اور اعتقادی چیلنجز کا بھی سامنا تھا۔ اس دور میں مختلف فرقے اور فکری گروہ امامت، قرآن، صفات الٰہی اور دیگر کلامی مسائل کے بارے میں شبہات پیدا کر رہے تھے اور معاشرے کے فکری ماحول کو متاثر کر رہے تھے۔ امامؑ نے علمی جوابات، شاگردوں کی تربیت اور شیعوں کی فکری رہنمائی کے ذریعے اسلامی معاشرے، بالخصوص شیعہ مکتب فکر کے اعتقادی تشخص کا دفاع کیا۔
امام حسن عسکریؑ کے دور کی سب سے اہم خصوصیت آپؑ کا حضرت مهدیؑ کی غیبت کے لیے پیشگی تیاری کا کردار ہے۔ شیعہ معاشرہ صدیوں سے اپنے ائمہؑ کی ظاہری موجودگی اور براہِ راست رہنمائی کا عادی تھا، لیکن مستقبل کے حالات اس بات کے متقاضی تھے کہ شیعوں کو امام سے بالواسطہ رابطے کے ایک نئے مرحلے کے لیے تیار کیا جائے۔ امام حسن عسکریؑ نے اعلانیہ روابط کو محدود کرتے ہوئے وکالت کے نظام کو مضبوط کیا اور اپنے فرزند حضرت مهدیؑ کو اپنے مخصوص اور قابل اعتماد اصحاب کے سامنے متعارف کرایا۔ اس طرح آپؑ نے شیعہ معاشرے کو تاریخ امامت کے ایک نئے مرحلے، یعنی عصرِ غیبت میں داخل ہونے کے لیے عملی اور فکری طور پر تیار کیا۔
اگرچہ امام حسن عسکریؑ شدید نگرانی میں سامرہ میں مقید تھے، لیکن آپؑ کی روحانی شخصیت، علمی مقام اور اخلاقی اثر اس قدر گہرا تھا کہ بعض مخالفین اور حتیٰ کہ حکومتی اہلکار بھی آپؑ کے اخلاق، کردار اور عظیم مقام سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
مہر نیوز: عباسی حکومت نے امام حسن عسکریؑ کو شدید نگرانی اور پابندیوں میں کیوں رکھا اور ان دباؤ کا مقصد کیا تھا؟
حجۃ الاسلام حسنلو: عباسی حکومت امام حسن عسکریؑ کے سماجی اور روحانی مقام سے بخوبی واقف تھی۔ اگرچہ عباسی خلفا بظاہر سیاسی اور فوجی طاقت رکھتے تھے، لیکن مسلمانوں، بالخصوص شیعوں کے ایک بڑے طبقے میں حقیقی دینی مقبولیت اور اعتماد خاندانِ رسولؐ کو حاصل تھا۔ امام حسن عسکریؑ، امام ہادیؑ کے فرزند اور سلسلۂ امامت کے امین و جانشین کی حیثیت سے لوگوں کے لیے امید اور رجوع کا مرکز تھے۔
عباسیوں کی حساسیت کی ایک اہم وجہ وہ متعدد روایات تھیں جن میں امام حسن عسکریؑ کی نسل سے موعود مہدیؑ کی ولادت کی خبر دی گئی تھی۔ یہ روایات صرف شیعہ حلقوں تک محدود نہیں تھیں، بلکہ خاندان رسولؐ سے ایک مصلح کے ظہور کا تصور پورے اسلامی معاشرے میں معروف تھا۔ عباسی خلفا کو خوف تھا کہ امام عسکریؑ کے ہاں پیدا ہونے والا فرزند ظالم حکومتوں کی حیثیت کو چیلنج کرے گا اور عدل و انصاف کی تحریکوں کا محور بن جائے گا۔
اسی وجہ سے امام حسن عسکریؑ کو سامرہ میں سخت نگرانی میں رکھا گیا اور عباسی حکومت ان کے شیعوں اور ساتھیوں کی آمد و رفت پر بھی نظر رکھتی تھی۔ کبھی امامؑ کو دربار یا حکومتی مراکز میں طلب کیا جاتا تاکہ ان کے معمولات اور روابط کی براہِ راست نگرانی کی جا سکے۔ یہ نگرانی صرف سکیورٹی کے نقطۂ نظر سے نہیں تھی بلکہ امامؑ کی دینی مرجعیت اور سماجی اثر و رسوخ کو محدود کرنا بھی اس کا ایک اہم مقصد تھا۔
عباسی حکومت یہ بھی چاہتی تھی کہ امامؑ کو ان کے عوامی اور سماجی مرکز سے الگ کر دیا جائے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر امامؑ کا لوگوں سے رابطہ منقطع یا انتہائی مشکل بنا دیا جائے تو شیعہ تحریک کمزور پڑ جائے گی۔ لیکن امام حسن عسکریؑ نے اپنی حکمت عملی کے ذریعے شیعوں کے ساتھ فکری، مالی اور تنظیمی روابط برقرار رکھے اور ظاہری پابندیوں کو معاشرے کی ہدایت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔
عباسیوں کا یہ دباؤ بالآخر امام حسن عسکریؑ کی شہادت پر منتج ہوا۔ شیعہ تاریخی منابع کے مطابق آپؑ کو 260 ہجری قمری میں عباسی حکومت نے زہر دے کر شہید کیا۔ تاہم، خلافت اپنے بنیادی مقصد میں کامیاب نہ ہو سکی؛ کیونکہ سلسلۂ امامت ختم ہونے کے بجائے امام مہدیؑ کی امامت کے آغاز کے ساتھ تشیع کی تاریخ میں ولایت اور الٰہی قیادت کے تسلسل کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوگیا۔
مہر نیوز: امام حسن عسکریؑ نے سامرہ میں شدید گھٹن اور فوجی محاصرے کے ماحول میں شیعوں اور پیروان اہل بیتؑ سے اپنا رابطہ کیسے برقرار رکھا؟
حجۃ الاسلام حسنلو: امام حسن عسکریؑ ایسے حالات میں زندگی گزار رہے تھے جہاں لوگوں کے لیے آپؑ سے آزادانہ ملاقات اور رابطہ ممکن نہیں تھا۔ عباسی اہلکار امامؑ کے گھر، آمد و رفت اور ملاقات کرنے والوں کی نگرانی کرتے تھے اور آپؑ کے گرد کسی بھی قسم کا اجتماع حکومت کی حساسیت کو بڑھا سکتا تھا۔ چنانچہ امامؑ نے شیعوں کی جان کی حفاظت اور معاشرے کی مسلسل رہنمائی کے لیے ایک حکیمانہ، محتاط اور منظم طریقۂ کار اختیار کیا۔
امامؑ کے رابطے کے اہم ترین ذرائع میں خط و کتابت شامل تھی۔ آپؑ خطوط کے ذریعے شیعوں کے شرعی اور اعتقادی سوالات کے جوابات دیتے، اپنے نمائندوں کی رہنمائی فرماتے اور ضرورت کے مطابق معاشرے کے اہم مسائل کی وضاحت کرتے تھے۔ یہ خطوط صرف علمی اور فقہی رہنمائی کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ مختلف شہروں میں موجود شیعہ معاشرے کے ساتھ امامؑ کے مسلسل رابطے کی علامت بھی تھے۔
اس دور میں نظام وکالت نے بھی انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ امامؑ نے مختلف علاقوں میں قابل اعتماد، باصلاحیت اور امین افراد کو اپنے نمائندوں اور وکلا کے طور پر مقرر کیا۔ یہ افراد لوگوں کے مسائل حل کرتے، شرعی وجوہات وصول کرکے امامؑ تک پہنچاتے اور امامؑ کی ہدایات کی روشنی میں ان کے سوالات کے جوابات فراہم کرتے تھے۔ اس نظام نے شیعوں اور امامؑ کے رابطے کو انفرادی اور منتشر صورت سے نکال کر ایک منظم ڈھانچے میں تبدیل کردیا۔
امام حسن عسکریؑ نے شیعوں کی حفاظت کے لیے تقیہ اور اشتعال انگیز اقدامات سے اجتناب کو بھی اہمیت دی۔ یہاں تقیہ سے مراد عقیدے سے دستبرداری نہیں تھی بلکہ ایک جابرانہ حکومت کے مقابلے میں جان، عزت اور شیعہ معاشرے کی علمی و ثقافتی صلاحیتوں کے تحفظ کی ایک عقلی حکمتِ عملی تھی۔ امامؑ کی کوشش تھی کہ شیعہ اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے دشمن کو دوسرے اہل ایمان کو نقصان پہنچانے کا کوئی بہانہ فراہم نہ کریں۔
ان تمام پابندیوں کے باوجود امام حسن عسکریؑ کی روحانی اور علمی شخصیت اتنی مؤثر تھی کہ بعض مخالفین اور حتیٰ کہ حکومتی اہلکار بھی آپؑ کے اخلاق، کردار اور بلند مقام سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ محدود مواقع میں بھی اپنے علمی، اخلاقی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے امامؑ کی طرف رجوع کرتے تھے۔
یوں عباسی حکومت امامؑ کے عوامی روابط کو محدود کرنے میں تو کسی حد تک کامیاب ہوئی، لیکن لوگوں کے دلوں میں موجود امامؑ سے عقیدت اور فکری وابستگی کو ختم نہ کرسکی۔ امام حسن عسکریؑ نے بالواسطہ رابطوں، نظام وکالت، خط و کتابت اور قابل اعتماد افراد کی تربیت کے ذریعے نہ صرف شیعوں سے اپنا رابطہ برقرار رکھا بلکہ انہیں اس نئے دور کے لیے بھی تیار کیا جس میں امام معصومؑ سے رابطہ براہ راست ملاقات اور ظاہری موجودگی کے بجائے ایک نئے نظام کے ذریعے قائم ہونا تھا۔
مہر نیوز: امام حسن عسکریؑ کے دور میں نظام وکالت کا کیا کردار تھا اور اس نظام نے شیعوں کے امام سے رابطے کی راہ کیسے ہموار کی؟
حجۃ الاسلام حسنلو: نظام وکالت امام حسن عسکریؑ کے دور میں شیعوں اور امام کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ تھا۔ یہ نظام دراصل امامان شیعہ کے قابل اعتماد نمائندوں پر مشتمل ایک منظم سلسلہ تھا جو مختلف شہروں اور علاقوں میں امام اور شیعوں کے درمیان رابطے کی ذمہ داری انجام دیتا تھا۔ اگرچہ اس نظام کی بنیاد سابقہ ائمہؑ کے ادوار میں پڑ چکی تھی، لیکن امام حسن عسکریؑ کے زمانے میں سیاسی دباؤ اور رابطے کی سخت پابندیوں کے باعث اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ درحقیقت، ایسے حالات میں جب امامؑ تک براہ راست رسائی انتہائی دشوار ہوچکی تھی، نظامِ وکالت شیعوں کی دینی رہنمائی کے تسلسل کا ایک اہم ذریعہ تھا۔
امامؑ کے وکلا مختلف ذمہ داریاں انجام دیتے تھے۔ وہ لوگوں کے دینی اور اعتقادی سوالات وصول کرکے ان کے جوابات امامؑ یا آپؑ کے قریبی نمائندوں تک پہنچاتے تھے۔ اسی طرح شیعوں کے شرعی اموال، نذورات اور مالی عطیات جمع کرکے امامؑ کی ہدایات کے مطابق انہیں مناسب مقاصد میں استعمال کیا جاتا تھا۔ اس طرح شیعہ معاشرے کی مالی اور بعض سماجی ضروریات کو بھی ممکنہ حد تک منظم کیا جاتا تھا۔
نظام وکالت میں سب سے اہم مسئلہ قابل اعتماد اور اہل افراد کا انتخاب تھا۔ ایسے ماحول میں جب عباسی حکومت امامؑ کے ساتھیوں کی شناخت، ان میں نفوذ اور اختلاف پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کرتی تھی، ہر شخص اس ذمہ داری کے لیے موزوں نہیں ہوسکتا تھا۔ امام حسن عسکریؑ قابل اعتماد افراد کی شناخت اور تائید کے ذریعے شیعوں کو ان کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت فرماتے اور جھوٹے دعوے داروں سے ہوشیار رہنے کی تاکید کرتے تھے۔
یہ نظام صرف رابطے کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ شیعوں کے اعتقادی اتحاد اور فکری یکجہتی کے تحفظ میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا تھا۔ اس دور میں بعض مفاد پرست افراد اور منحرف گروہ غلط دعووں کے ذریعے پیروان اہل بیتؑ کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ امامؑ کے تائید یافتہ وکلا صحیح تعلیمات کی تشخیص اور انہیں لوگوں تک پہنچانے کا معتبر ذریعہ تھے اور شیعوں کو شبہات، اختلافات اور گمراہ کن دعووں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے تھے۔
نظام وکالت کی تاریخی اہمیت یہ بھی ہے کہ اس نے عصر غیبت صغری کی بنیاد ہموار کی۔ امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے بعد شیعوں کو بتدریج اس طریقۂ کار سے آشنا ہونا تھا کہ غیبت میں موجود امام سے کس طرح رابطہ قائم رکھا جائے۔ امام ہادیؑ اور امام حسن عسکریؑ کے ادوار میں امام کے نمائندوں سے رجوع کرنے کا تجربہ شیعہ معاشرے کو اس نئے نظام کو قبول کرنے کے لیے تیار کرچکا تھا۔ یوں امام اور پیروکاروں کے درمیان دینی اور تنظیمی رابطہ اچانک منقطع ہونے سے محفوظ رہا۔
مہر نیوز: امام حسن عسکریؑ نے شیعہ معاشرے کو عصر غیبت کے لیے کن طریقوں سے تیار کیا؟
حجۃ الاسلام حسنلو: شیعوں کی عصر غیبت کے لیے تیاری امام حسن عسکریؑ کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک تھی۔ شیعہ معاشرہ دو صدیوں سے زیادہ عرصے تک اپنے ائمہؑ کو لوگوں کے درمیان دیکھنے اور مختلف مسائل میں براہ راست ان سے رجوع کرنے کا عادی تھا۔ لیکن حضرت مهدیؑ کی غیبت کا زمانہ قریب آنے کے ساتھ ضروری تھا کہ شیعوں کی ایسی تربیت کی جائے کہ امامؑ تک ظاہری اور براہ راست رسائی نہ ہونے کی صورت میں وہ شک، حیرانی یا گمراہی کا شکار نہ ہوں۔
اس تیاری کا ایک طریقہ امامؑ کے عوام سے براہ راست روابط کا بتدریج محدود ہونا تھا۔ ایک طرف یہ صورتحال عباسی حکومت کے شدید دباؤ کا نتیجہ تھی، لیکن دوسری طرف اس کے باعث شیعہ معاشرہ نئے حالات سے بھی بتدریج آشنا ہوتا گیا۔ شیعوں نے یہ سیکھا کہ دینی معارف حاصل کرنے اور اپنے مسائل حل کرنے کے لیے قابل اعتماد ذرائع، جیسے خطوط اور امامؑ کے منتخب نمائندوں سے رجوع کریں۔
نظام وکالت کو مضبوط کرنا امام حسن عسکریؑ کی ایک اور اہم حکمت عملی تھی۔ امامؑ نے قابل اعتماد وکلا کو متعارف کرایا اور شیعوں کو ان کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت فرمائی۔ اس طرح ایک ایسا نظام مستحکم ہوا جس نے غیبت صغری کے آغاز کے بعد بھی خصوصی اہمیت حاصل کی۔ اس اقدام سے یہ واضح ہوا کہ حجت الٰہی سے ظاہری رابطہ اگرچہ دشوار ہوجائے، لیکن مقررہ اور قابل اعتماد ذرائع کے ذریعے دینی رہنمائی کا سلسلہ منقطع نہیں ہوگا۔
امام حسن عسکریؑ نے مناسب مواقع پر اپنے فرزند حضرت مهدیؑ کو اپنے بعض قابل اعتماد اصحاب اور شیعوں کے سامنے بھی متعارف کرایا۔ ان افراد نے حضرت مهدیؑ کو دیکھا اور ان کی امامت سے آگاہ ہوئے۔ اس زمانے کے سخت سکیورٹی حالات کے پیش نظر یہ تعارف محدود اور انتہائی محتاط انداز میں کیا گیا، کیونکہ عباسی حکومت امامؑ کے فرزند کی تلاش میں تھی۔ تاہم، خواص اور قابل اعتماد افراد کے لیے اتنا تعارف کافی تھا کہ امام عسکریؑ کی شہادت کے بعد وہ حضرت حجتؑ کے وجود اور امامت کے بارے میں شک و تردید کا شکار نہ ہوں۔
اعتقادی بنیادوں کو مضبوط کرنا بھی اس تیاری کا اہم حصہ تھا۔ امام حسن عسکریؑ نے شبہات کے جوابات، شیعوں کی تعلیم و تربیت اور امام کی معرفت کی اہمیت پر زور دے کر معاشرے کی فکری بنیادوں کو مستحکم کیا۔ آپؑ کی سیرت کا پیغام یہ تھا کہ ایک مؤمن کو مشکل حالات میں معرفت، صبر، معتبر دینی ذرائع سے رجوع اور جھوٹے دعوے داروں سے اجتناب کے ذریعے حق کے راستے پر قائم رہنا چاہیے۔
یہی وہ فکری اور عملی میراث تھی جس نے شیعہ معاشرے کو امام کی ظاہری عدم موجودگی کے دور میں بھی دینی راستہ برقرار رکھنے کے قابل بنایا اور عصر غیبت کے لیے ایک مضبوط اعتقادی و تنظیمی بنیاد فراہم کی۔
آپ کا تبصرہ