مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی وزارتِ دفاع نے قومی یوم دفاعی صنعت کے موقع پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ملک کی دفاعی صنعت خطرات اور پابندیوں کے ماحول میں وجود میں آئی، لیکن ان خطرات نے اس کے سفر کو نہیں روکا بلکہ خود انحصاری اور ملکی صلاحیتوں پر بھروسے کی ضرورت کو مزید اجاگر کیا۔
وزارت دفاع کے مطابق ہر دباؤ اور پابندی نے ملکی صلاحیتوں پر انحصار کی ضرورت اور یقین کو مضبوط کیا، جبکہ ہر جنگی محاذ نے ایرانی ماہرین اور سائنس دانوں کے لیے نئی صلاحیتیں پیدا کرنے اور اپنی ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کا موقع فراہم کیا۔
بیان میں اسلامی انقلاب کے شہید رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو دفاعی خودکفالت کی راہ وضع کرنے اور اسے عملی شکل دینے پر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ وزارت دفاع نے کہا کہ اس راستے کی بنیاد عوام، بالخصوص نوجوان ایرانی سائنس دانوں پر اعتماد اور علم و ٹیکنالوجی کی مقامی ترقی و خودکفالت پر رکھی گئی۔
وزارت نے اس راہ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے کمانڈروں اور ماہرین کو بھی خراج عقیدت پیش کیا، جن میں مصطفیٰ چمران اور عزیز نصیرزادہ سمیت وزارت دفاع کے سیکڑوں اہلکار شامل ہیں جو 12 روزہ جنگ اور رمضان جنگ کے دوران شہید ہوگئے۔
بیان میں کہا گیا کہ حالیہ مسلط کردہ جنگیں ملک کی دفاعی صلاحیتوں کے حقیقی امتحان کا میدان تھیں۔ کئی برسوں کی ایرانی ماہرین کی محنت سے تیار ہونے والی دفاعی صلاحیتوں کو عملی طور پر بروئے کار لایا گیا اور مسلح افواج و ایرانی قوم کی عملی استعداد کے ساتھ مل کر دشمن کے متعدد اندازوں اور اہداف کو ناکام بنایا گیا۔
وزارت دفاع نے واضح کیا کہ حالیہ جنگیں صرف محاذ آرائی کا میدان نہیں تھیں بلکہ ان کے ذریعے دفاعی صلاحیتوں کو زیادہ درست انداز میں جانچنے، نئی ضروریات کی نشاندہی کرنے اور مستقبل کی سمت متعین کرنے کا موقع بھی ملا۔
بیان میں کہا گیا کہ ہم نے سیکھا ہے کہ کبھی رکنا نہیں ہے۔ وزارت دفاع نے حالیہ جنگ کو ماضی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حاصل ہونے والے نتائج اور اسباق کی بنیاد پر دفاعی صنعت کو مسلسل نیا، ازسرِنو منظم اور جدید بنانا ضروری ہے۔
وزارت نے دفاعی صنعت میں انقلاب کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قومی سطح پر دفاعی شمولیت کے ماڈل پر مبنی یہ عمل محض نئی مصنوعات کی تیاری تک محدود نہیں، بلکہ سوچ، ڈیزائن، پیداوار، ٹیکنالوجی مینجمنٹ، سائنسی اداروں کی صلاحیتوں، اسمارٹ نظام اور علم کو دفاعی طاقت میں تبدیل کرنے کی رفتار میں بنیادی تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے۔
وزارت دفاع کے مطابق حالیہ جنگوں کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ قوم اور مسلح افواج کے درمیان جتنا مضبوط تعلق ہوگا، ملک کی خطرات کا مقابلہ کرنے اور بحرانوں پر قابو پانے کی صلاحیت بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔
بیان کے آخر میں وزارت دفاع نے اپنی واضح ذمہ داری بیان کرتے ہوئے کہا کہ میدان جنگ کے تجربات کو علم، علم کو ٹیکنالوجی اور ٹیکنالوجی کو مستقبل کی دفاعی طاقت میں تبدیل کیا جائے گا اور یہ عمل رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کی دوراندیش قیادت میں آگے بڑھایا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ