مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک، احسان موحدیان: وسطی ایشیا میں صحرائی علاقوں کا پھیلاؤ اب محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہا؛ خشک سالی، چراگاہوں کی تباہی، زمینوں کا شور زدہ ہونا، گردوغبار کے طوفان اور موسمیاتی تبدیلی بتدریج اس مسئلے کو خطے کے ممالک کے لیے اقتصادی اور سماجی مسئلے میں تبدیل کر رہے ہیں۔
ایسے حالات میں صحرائی علاقوں کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے چین کے کئی دہائیوں پر محیط تجربے نے وسطی ایشیاء کے ممالک کی توجہ حاصل کی ہے۔ بیجنگ نے متحرک ریت کو مستحکم کرنے، تباہ شدہ زمینوں کو بحال کرنے اور پانی کے استعمال کی کارکردگی بڑھانے کے لیے اپنی متعدد ٹیکنالوجیز اور انتظامی طریقوں کو خطے کے ممالک کے لیے قابلِ استفادہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
تاہم چین کے تجربے کو صحرائی علاقوں کی بحالی کے بعض روایتی پروگراموں سے ممتاز کرنے والی واحد چیز، استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز نہیں ہیں؛ بلکہ چین نے ماحولیاتی بحالی اور مقامی آبادی کے لیے معاشی فوائد پیدا کرنے کے درمیان تعلق قائم کرنے کی کوشش کی ہے؛ اس طریقۂ کار کو ’’علاقائی بحالی کے لیے معیشت کی خدمت‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔
متحرک ریت پر قابو پانے کے لیے بھوسے کے جال
متحرک ریت کی نقل و حرکت سے نمٹنے کے لیے چین کا ایک معروف طریقہ بھوسے کے جال کا استعمال ہے۔ اس طریقے میں خشک بھوسے کے گٹھوں کو ریت کی سطح پر رکھ کر جال کی شکل میں زمین میں گاڑ دیا جاتا ہے۔ یہ جال زمین کے قریب ہوا کی رفتار کم کرتے اور ریت کی حرکت کو محدود کرتے ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی 1950 کی دہائی سے ننگ شیا کے ژانگ وے کے علاقے میں استعمال کی جا رہی ہے؛ یہ وہ علاقہ ہے جہاں ریت کی منتقلی سے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، بالخصوص باؤتو-لانژو ریلوے لائن کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔
ابتدائی مقصد ریت کو مستحکم کرنا تھا، لیکن رفتہ رفتہ اس طریقے کو نباتاتی غلاف کی کاشت کے ساتھ استعمال کیا جانے لگا، تاکہ ریت کی حرکت کم ہونے کے بعد پودوں کے نشوونما پانے کے لیے حالات پیدا ہوسکیں۔
تاہم چین اس ٹیکنالوجی کو تمام علاقوں میں یکساں طور پر قابلِ استعمال کوئی مستقل نسخہ نہیں سمجھتا۔ صحرائی علاقے کی وسعت، نباتاتی غلاف کی کثافت اور اس کی نوعیت کو آب و ہوا، مٹی اور پانی تک رسائی کی مقدار کے مطابق تبدیل کرنا ضروری ہے۔ یہی اصول اب وسطی ایشیاء کے ممالک کو چین کا تجربہ منتقل کرنے میں بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
بیجنگ نے اپنا تجربہ وسطی ایشیا کے حوالے کردیا
جولائی 2025ء میں ننگ شیا میں صحرائی علاقوں کے پھیلاؤ کی روک تھام اور اس سے نمٹنے کے لیے چین اور وسطی ایشیاء کے ممالک کے درمیان تعاون کا مرکز قائم کیا گیا۔
یہ مرکز وسطی ایشیاء کے ممالک کو زمین کی تباہی سے نمٹنے کے شعبے میں چین کا تجربہ فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اپنی سرگرمی کے پہلے سال میں قازقستان، ازبکستان اور کرغیزستان کے لیے تین عملی منصوبے تیار کیے گئے۔
اس کے علاوہ وسطی ایشیاء کے ممالک اور ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ اقدام کے بعض رکن ممالک کے ماہرین کی شرکت سے تین بین الاقوامی تربیتی کورسز منعقد کیے گئے اور ان کورسز میں 170 افراد کو تربیت دی گئی۔
ان تربیتی پروگراموں کا دائرہ کار بھی صرف متحرک ریت پر قابو پانے تک محدود نہیں رہا۔ تاجکستان کے ماہرین کے لیے پہاڑی علاقوں میں شجرکاری، مٹی کے کٹاؤ سے نمٹنے، جنگلاتی کیڑوں کے خلاف اقدامات اور چراگاہوں و جنگلات میں آگ لگنے کی روک تھام جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے ہیں۔ اس طرح وسطی ایشیاء کے ممالک کے ساتھ چین کا تعاون زمین کی تباہی سے نمٹنے کے لیے تجربات کی منتقلی کے ایک طرح کے نیٹ ورک میں تبدیل ہو رہا ہے۔
جب صحرائی علاقوں کی بحالی آمدنی کا ذریعہ بن جائے
تاہم چین کے تجربے کا سب سے اہم پہلو ماحولیات اور معیشت کے درمیان تعلق میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ چین اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ درخت لگانا اور ریت کو مستحکم کرنا، مقامی آبادی کے لیے معاشی ترغیب پیدا کیے بغیر، زمین کی تباہی کے عمل کو اکیلے نہیں روک سکتا۔ اسی وجہ سے بعض علاقوں میں ایسے ماڈل تیار کیے گئے ہیں جن میں صحرائی علاقوں کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے استعمال ہونے والی نباتات بیک وقت آمدنی پیدا کرنے کا امکان بھی فراہم کرتی ہیں۔
سنکیانگ اس طریقۂ کار کی ایک مثال ہے؛ یہ وہ علاقہ ہے جس کا ایک بڑا حصہ صحرائی اور نیم صحرائی حدود میں واقع ہے۔ اس علاقے کے بعض صحرائی علاقوں میں ریت کو مستحکم کرنے اور حفاظتی نباتاتی غلاف پیدا کرنے کے لیے سیاہ تاغ یا ساکساؤل اور گز کی جھاڑیاں لگائی جاتی ہیں اور ان کے ساتھ دواؤں کے پودے بھی اگائے جاتے ہیں۔ ان پودوں میں سے ایک سیستانچ نامی جڑی بوٹی بھی ہے جو صحرائی پودوں کے قریب اگتی ہے اور بعض طبی مصنوعات کے خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔
اس ماڈل میں ماحولیاتی تحفظ اور معیشت کے درمیان براہِ راست تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ صحرائی پودے مٹی کو مستحکم کرنے میں مدد دیتے ہیں، دواؤں کے پودے آمدنی پیدا کرنے کا امکان فراہم کرتے ہیں اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی مقامی آبادی کے لیے نباتاتی غلاف کے تحفظ کی ترغیب میں اضافہ کرتی ہے۔
چین کے یوتیان کاؤنٹی میں بھی، جہاں اس کے قابلِ ذکر حصے کی زمین صحرائی علاقوں کے پھیلاؤ کے خطرے سے دوچار ہے، سیستانچ کے ساتھ ساتھ مُلَیٹھی، پودینہ اور مریم گلی جیسے پودے استعمال کیے گئے ہیں۔ خشک علاقوں میں کاشت کی کامیابی کی شرح بڑھانے کے لیے ڈرِپ آبپاشی بھی استعمال کی گئی ہے۔ اس علاقے کے بعض منصوبوں میں ڈرِپ آبپاشی کے ذریعے پودوں کے کامیابی سے قائم ہونے کی شرح تقریباً 90 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
ازبکستان میں چین کے تجربے کی آزمائش
اب اس تجربے کے ایک حصے کو وسطی ایشیاء میں آزمایا جا رہا ہے۔ وسطی ایشیاء میں اس طریقۂ کار کا ایک اہم آزمائشی میدان ازبکستان، بالخصوص بحیرۂ ارال کے اطراف کا علاقہ ہے۔
بحیرۂ ارال کے خشک ہونے سے پیدا ہونے والے بحران کے باعث ازبکستان زمین کی تباہی سے نمٹنے کے شعبے میں خطے کے اہم ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ازبکستان کے چھٹے بڑے شہر نوکاث کے اطراف میں بھی چینی فریق کی شراکت سے شور زدہ زمینوں کی بحالی اور پانی کے استعمال کی کارکردگی بڑھانے کے لیے منصوبے نافذ کیے گئے ہیں، جن میں ڈرِپ آبپاشی کے نیٹ ورکس، شمسی پینلز اور کھاد کے استعمال کے ذہین انتظامی نظام شامل ہیں۔
چین کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، ان علاقوں میں خام کپاس کی اوسط پیداوار سالانہ 46 ٹن فی ہیکٹر سے زیادہ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں اوسط پیداوار تقریباً 18 ٹن فی سال بتائی گئی ہے۔ پانی کے استعمال کی مقدار بھی روایتی طریقے کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد کم بتائی گئی ہے۔
مزید تحقیقات کے بغیر وسطی ایشیاء کے تمام علاقوں میں ان اعداد و شمار کے حصول کی امید نہیں کی جا سکتی، تاہم یہی کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ خطے کے ممالک کے ساتھ چین کا ماحولیاتی تعاون صرف درخت لگانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ زمین کی اقتصادی پیداوار بڑھانے اور پانی کے استعمال کو کم کرنے جیسے اہداف بھی حاصل کیے جا رہے ہیں۔
خشک ارال میں شجرکاری
زرعی منصوبوں کے ساتھ ساتھ ازبکستان کئی سال سے بحیرۂ ارال کی خشکی میں ساکساؤل کی کاشت بھی کر رہا ہے۔ یہ جھاڑی خشک اور شور زدہ زمینوں کے موجودہ حالات کے خلاف مزاحمت رکھتی ہے اور اسے مٹی کو مستحکم کرنے اور بحیرۂ ارال کی خشکی سے نمک اور گردوغبار کی منتقلی کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ازبک فریق کے اعداد و شمار کے مطابق، اس علاقے کے لاکھوں ہیکٹر رقبے میں شجرکاری کی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ آنے والے برسوں میں بھی یہ اقدامات جاری رکھنے اور اس کے ساتھ ساتھ شور زدگی کے خلاف مزاحمت رکھنے والے پودوں کی کاشت اور صحرائی علاقوں کے لیے مخصوص نرسریاں قائم کرنے جیسی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا منصوبہ ہے۔
اس طرح زمین کی بحالی کے روایتی منصوبوں کے ساتھ ’’صحرائی معیشت‘‘ کا تصور بھی سامنے آیا ہے؛ ایسی معیشت جس میں مقصد خشک علاقوں کی محدود، لیکن حقیقی صلاحیتوں کو آمدنی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنا ہے۔
قازقستان ’’گرین بیلٹ‘‘ کا خواہاں ہے
قازقستان بھی اپنے وسیع خشک اور نیم خشک علاقوں کے پیش نظر ’’وسطی ایشیاء گرین بیلٹ‘‘ کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد گردوغبار کے طوفانوں کے اثرات کو کم کرنے اور زمین کی تباہی کے عمل کو سست کرنے کے لیے سبز پٹیوں اور قدرتی رکاوٹوں کا قیام ہے۔
قازقستان کے لیے گردوغبار کا مسئلہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے؛ کیونکہ گردوغبار کے طوفان اور متحرک ریت سیاسی سرحدوں کی پابند نہیں ہوتے۔ اسی لیے زمین کی نگرانی اور گردوغبار کے مراکز کی شناخت کے لیے علاقائی نظام کا قیام مقامی اقدامات کے ساتھ اہمیت رکھتا ہے۔
چین نے اس شعبے میں اپنی متعدد ٹیکنالوجیز اور تجربات وسطی ایشیاء کے ممالک کے لیے قابلِ استفادہ بنائے ہیں؛ جن میں ریت کو مستحکم کرنے اور مزاحم پودوں کے استعمال سے لے کر آبی وسائل کے انتظام تک شامل ہیں۔
البتہ چین کے تجربے کو وسطی ایشیاء کے ممالک میں منتقل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ایک ہی نسخہ سب پر نافذ کیا جائے۔ ان ممالک کے آب و ہوا، بلندی، مٹی، آبی وسائل اور زمین کے استعمال کے طریقوں میں فرق، استعمال کیے جانے والے طریقوں کو مقامی حالات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت کو مزید بڑھاتا ہے۔
صحرائی علاقوں کا پھیلاؤ صرف صحرائی علاقوں کا مسئلہ نہیں
کرغیزستان میں صورت حال کسی حد تک مختلف ہے۔ اس ملک کو سنکیانگ چین یا قازقستان کے بعض علاقوں کی طرح کسی بڑے صحرائی محاذ کی پیش قدمی کا سامنا نہیں، بلکہ چراگاہوں کی تباہی، مٹی کا کٹاؤ، نباتاتی غلاف کی کٹائی، آبی وسائل میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی کرغیزستان میں زمین کی تباہی کے اہم عوامل ہیں۔
اس نقطۂ نظر سے چراگاہوں کا انتظام خصوصی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ گنجائش سے زیادہ چرائی نباتاتی غلاف کو ختم کر سکتی ہے، مٹی کو کٹاؤ کا شکار بنا سکتی ہے اور زمین کی قدرتی طور پر بحال ہونے کی صلاحیت کو کم کر سکتی ہے۔ ایسے حالات میں صرف درخت لگانا کافی نہیں اور زمین کے استعمال کے طریقے کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔
زیرِ بحث لائے جانے والے طریقوں میں سے ایک چراگاہوں کو آرام کے ادوار دینا، مویشیوں کی چرائی کو عارضی طور پر محدود کرنا اور مزاحمت رکھنے والی کثیر سالہ اقسام کی کاشت ہے۔ متاثرہ علاقوں میں زمین کا جسمانی تحفظ اور مویشیوں کے داخلے کو روکنا بھی ضروری ہوسکتا ہے۔ یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ صحرائی علاقوں کی بحالی بالآخر قدرتی وسائل کے انتظام کے طریقۂ کار کا مسئلہ بن جاتی ہے۔
وسطی ایشیاء علاقائی تعاون کی جانب بڑھ رہا ہے
وسطی ایشیاء کے ممالک اب پہلے سے زیادہ ایک حقیقت پر توجہ دے رہے ہیں: زمین کی تباہی ایسا مسئلہ نہیں جسے ہر ملک اکیلے حل کرسکے۔ گردوغبار سیاسی سرحدوں کو نہیں پہچانتا۔ مٹی کا کٹاؤ آبی وسائل اور زراعت پر اثر انداز ہوسکتا ہے اور موسمیاتی تبدیلی بھی پورے خطے کو متاثر کر رہی ہے۔
اسی وجہ سے زمین اور گردوغبار کے طوفانوں کی نگرانی کے لیے مشترکہ نظام قائم کرنے کے منصوبے زیر غور ہیں۔ کرغیزستان نے زمین کی تباہی سے متعلق اعداد و شمار کی تصدیق کے لیے ایک علاقائی مرکز قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ازبکستان نے گردوغبار کے طوفانوں کی نگرانی کے لیے علاقائی نظام کی ترقی پر زور دیا ہے۔ ترکمانستان نے صحرائی علاقوں کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے علاقائی مرکز قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے اور قازقستان ’’گرین بیلٹ‘‘ کے تصور پر عمل پیرا ہے۔
تاجکستان نے بھی موسمیاتی منصوبوں کی مالی معاونت اور گرین بانڈز اور قرض کو ماحولیاتی منصوبوں میں تبدیل کرنے جیسے طریقۂ کار کے استعمال پر زور دیا ہے۔
ان اقدامات میں مشترک بات یہ ہے کہ صحرائی علاقوں کی بحالی کو اب صرف شجرکاری تک محدود نہیں سمجھا جاتا؛ بلکہ سائنس، ٹیکنالوجی، مالی معاونت، سیٹلائٹ ڈیٹا، پانی کا انتظام اور علاقائی تعاون زمین کی تباہی سے نمٹنے کی پالیسی کے بنیادی اجزا بن چکے ہیں۔
ایران اس سے کیا سبق حاصل کرسکتا ہے؟
وسطی ایشیاء کے ساتھ چین کے تعاون کا تجربہ ایران کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ایران کو بھی خشک سالی، چراگاہوں کی تباہی، مٹی کے کٹاؤ، گردوغبار پیدا کرنے اور پھیلانے والے مراکز میں اضافے اور آبی وسائل میں کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
پہلا سبق یہ ہے کہ صحرائی علاقوں کی بحالی کو صرف شجرکاری تک محدود کرنے سے گریز کیا جائے۔ درخت لگانا اس وقت پائیدار نتیجہ دے سکتا ہے جب اس کے ساتھ پانی کا انتظام، مویشیوں کی چرائی پر قابو، نباتاتی غلاف کی بحالی اور مٹی کا تحفظ بھی شامل ہو۔
دوسرا سبق زمین کی بحالی کو اقتصادی بنانا ہے۔ چین کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ خشک علاقوں میں مٹی کو مستحکم کرنے والے پودوں کے ساتھ دواؤں کے پودوں اور خطے کی آب و ہوا سے مطابقت رکھنے والی دیگر مصنوعات کی صلاحیت کو آمدنی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس صورت میں مقامی آبادی صرف سرکاری امداد حاصل کرنے والی نہیں رہتی، بلکہ خود زمین کے تحفظ کے نظام کا حصہ بن جاتی ہے۔
تیسرا سبق پانی کے استعمال کی کارکردگی میں اضافہ ہے۔ خشک علاقوں میں زمین کی بحالی کا ہر منصوبہ ابتدا ہی سے آبی وسائل کی حقیقی گنجائش کی بنیاد پر تیار کیا جانا چاہیے۔ جدید آبپاشی کے طریقوں کی ترقی، شمسی توانائی کا استعمال اور ذہین ٹیکنالوجیز بعض علاقوں میں آبی وسائل پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
چوتھا سبق مسلسل نگرانی اور اعداد و شمار کے بروقت استعمال میں ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور میدانی اعداد و شمار گردوغبار کے مراکز، نباتاتی غلاف میں تبدیلی اور مٹی کی تباہی کی فوری شناخت میں مدد دے سکتے ہیں۔
اور آخر میں ایران گردوغبار اور زمین کی تباہی سے نمٹنے کے لیے سرحد پار تعاون کے سلسلے میں وسطی ایشیاء کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جس طرح وسطی ایشیاء کے ممالک مشترکہ طریقۂ کار کی تلاش میں ہیں، اسی طرح ایران بھی صحرائی علاقوں کی بحالی کے مسئلے کو اس اہم خطے اور مغربی ایشیاء کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اپنے ماحولیاتی تعاون کے محوروں میں شامل کرسکتا ہے۔
چین کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ صحرائی علاقوں کے پھیلاؤ کے خلاف جدوجہد درخت لگانے کے لیے کیا جانے والا کوئی وقتی اقدام نہیں، بلکہ ایک طویل المدتی اقتصادی، سماجی اور ماحولیاتی عمل ہے۔ ایسی پالیسی کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب زمین کی بحالی، پانی کا انتظام، ٹیکنالوجی، مقامی آبادی کی آمدنی اور علاقائی تعاون کو پالیسی سازی اور عملی اقدامات کے لیے ایک متحدہ فریم ورک میں شامل کیا جائے۔
آپ کا تبصرہ