26 اکتوبر، 2026، 9:10 PM

تہران میں چار فریقی اجلاس؛ خطے میں خودمختار سلامتی کے نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم

تہران میں چار فریقی اجلاس؛ خطے میں خودمختار سلامتی کے نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم

ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی کمیٹی کے رکن نے تہران میں منعقدہ چار فریقی اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پر انحصار خطے کے ممالک کی سلامتی کو یقینی نہیں بناتا؛ لہٰذا خطے کی سلامتی کا مستقبل اندرونی صلاحیتوں پر مبنی ہونا چاہیے۔

ابراہیم رضائی نے مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے تہران میں ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے چار فریقی اجلاس کے بارے میں خطے کی حالیہ صورتِ حال کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ جنگِ رمضان نے خطے کے تمام حساب کتاب اور نام نہاد سلامتی کے نظام کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج خطے کے ممالک سمجھ چکے ہیں، یا انہیں سمجھ لینا چاہیے، کہ اس خطے میں امریکیوں کی موجودگی اور غیر ملکی فوجی دستوں کی تعیناتی نے نہ صرف ان کے لیے سلامتی فراہم نہیں کی بلکہ عدم تحفظ کا سبب بھی بنی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکیوں نے عملی طور پر اپنا دفاعی حصار صہیونی حکومت کے دفاع کے لیے قائم کر رکھا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے؛ یہاں تک کہ انہوں نے خطے کے بعض ممالک کے دفاعی نظام بھی ان کی جگہوں سے ہٹا کر صہیونی حکومت کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے استعمال کیے ہیں۔ یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ پر انحصار ان ممالک کے لیے سلامتی نہیں لاتا۔

خطے کے ممالک کو اپنے سلامتی کے نظام پر نظرثانی کرنی چاہیے

رضائی نے واضح کیا کہ اسی بنیاد پر خطے میں ایک نیا سلامتی کا نظام قائم ہونا چاہیے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اس سلسلے میں اپنے اقدامات انجام دے چکا ہے اور محورِ مزاحمت بھی ایک ایسے نمونے کی تشکیل دے رہا ہے جسے خطے میں ’’موزائیکی سلامتی‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ ان شاء اللہ، اس نمونے کے آثار بحیرۂ احمر سے لے کر خلیج فارس اور پھر بحیرۂ روم تک دیکھنے کو ملیں گے۔

خطے کے ممالک کی جانب سے نئے سلامتی کے نظام میں شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہیں

ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن نے سلامتی کے نئے انتظامات کی تشکیل میں خطے کے ممالک کی شرکت کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جن ممالک کے گزشتہ برسوں میں امریکہ کے ساتھ وسیع تعلقات اور روابط رہے ہیں، بہتر ہوگا کہ وہ ایران اور محاذِ مزاحمت کی قیادت میں خطے کے نئے سلامتی کے نظام میں شامل ہوں اور اس عمل میں حصہ لیں۔

رضائی نے مزید کہا کہ ان ممالک کا ایسے امریکہ سے فاصلہ اختیار کرنا، جو عملی طور پر ان کی سلامتی یقینی بنانے میں ناکام رہا ہے، ایک مثبت قدم ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہم انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ اپنی سلامتی کے لیے دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کریں۔ بہتر ہوگا کہ یہ ممالک اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کریں، جو خطے کی پہلی طاقت ہے اور یہ ملک بھی، اس جنگ کے بعد، اللہ کے فضل سے سربلند اور کامیاب ہو کر میدان سے نکلا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو خطے کی نئی حقیقتوں کو تسلیم کرنا چاہیے اور اس نتیجے پر پہنچنا چاہیے کہ پائیدار سلامتی صرف خطے کے ممالک کے باہمی تعاون اور ایک ایسے سلامتی کے نظام کی تشکیل سے ممکن ہے جو اپنی بنیادیں خود خطے کے اندر رکھتا ہو؛ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

سعودی عرب کو ایران کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے

رضائی نے کہا کہ میں خاص طور پر سعودی عرب کے بارے میں کہنا چاہتا ہوں کہ اس ملک کے پاس اپنی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ماضی کے طرزِ عمل پر نظرثانی کرنے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئے سرے سے مرتب کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔

انہوں نے گزشتہ برسوں میں ریاض کی علاقائی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ سعودی عرب نے خاندانِ سلمان اور بن سلمان کے دورِ حکومت میں ایران کا تختہ الٹنے، اسے تباہ کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں صرف کی ہیں۔ اس سلسلے میں اس نے ملک کے مشرقی اور مغربی علاقوں میں دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور ایران میں عدم تحفظ پیدا کرنے کی کوششوں سمیت متعدد اقدامات کیے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن نے مزید کہا کہ ان برسوں کے دوران سعودی عرب کی جانب سے ایران میں عدم تحفظ پیدا کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے، جن میں داعش کو ایران کی جانب بھیجنے کی کوشش بھی شامل ہے۔ اسی طرح بم دھماکے، مختلف قتل و غارت گری، ایران انٹرنیشنل جیسے مخالف نیٹ ورکس کا قیام، ایرانی عوام کے خلاف نفسیاتی اور ادراکی جنگ، سیاسی و سفارتی دباؤ اور بعض دیگر اقدامات بھی ان امور میں شامل ہیں جنہیں ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے حوالے سے سعودی عرب کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے بیان کرتے ہیں۔

سعودی عرب آج بحران سے دوچار ہے

رضائی نے کہا کہ سعودی عرب گزشتہ برسوں میں ان تمام راستوں پر چلتا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں کو بھی عدم تحفظ کا سامنا ہے، حالانکہ اس سے پہلے وہ ہمارے ہوائی اڈوں کو بند کرنے کے درپے تھے۔ آج وہ خود بحران سے دوچار ہیں اور اس صورتِ حال کو سعودی حکمرانوں کو کسی معقول نتیجے تک پہنچنے کا سبب بننا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سعودی حکمرانوں کو جان لینا چاہیے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا مقابلہ کرنے کا راستہ عدم تحفظ پیدا کرنا اور عدم استحکام کی پالیسیاں اپنانا نہیں ہے۔ گزشتہ ایک سے دو دہائیوں، بالخصوص حالیہ برسوں میں، ہمارے ملک کے خلاف کیے جانے والے اقدامات نے نہ صرف علاقائی مسائل کے حل میں کوئی مدد نہیں دی بلکہ کشیدگی میں اضافے اور سلامتی کی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنانے کا سبب بنے ہیں۔

سعودی عرب نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے اور ہم اس سے اپنے نقصانات کا ازالہ طلب کرتے ہیں

رضائی نے سعودی عوام اور اس ملک کے حکمرانوں کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہم سعودی عوام سے مخلص ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں، لیکن سعودی حکمرانوں اور سعودی عرب پر حکومت کرنے والے آمروں کا معاملہ مختلف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میری رائے میں اب ہمیں سعودی عرب کے ساتھ ماضی جیسا برتاؤ نہیں کرنا چاہیے اور سعودی حکمرانوں کے حوالے سے سابقہ مصلحتوں کو مدنظر نہیں رکھنا چاہیے۔ حالات بدل چکے ہیں اور ہمیں ان نئی صورتِ حال کے مطابق اپنے جائزوں اور طرزِ عمل پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

جنگِ رمضان سے پہلے ایران کے خلاف سعودی عرب کی سرگرمیاں

ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن نے جنگِ رمضان سے پہلے سعودی عرب کی بعض سرگرمیوں سے متعلق رپورٹس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے معاملے کا ایک حصہ اسی موضوع سے متعلق ہے۔ سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، سعودی وزیرِ دفاع خالد بن سلمان نے جنگ سے پہلے امریکہ کا دورہ کیا اور امریکی فریق سے کہا کہ اسے ایران پر حملہ کرنا چاہیے، کیونکہ اگر آپ ایران پر حملہ نہیں کریں گے تو ایران مزید دلیر ہو جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ خبریں ہیں جن کا تعلق جنگ سے پہلے سے ہے۔ اس کے بعد بھی، افسوس کے ساتھ، ہمارے ملک کے خلاف سرگرمیاں انجام دی گئیں، حالانکہ اس سے پہلے وعدے کیے گئے تھے۔

رضائی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آج سعودی عرب دباؤ میں ہے اور اسے اس صورتِ حال سے نکلنے کا حل خود خطے کے اندر تلاش کرنا چاہیے۔ خطے کے ممالک کی سلامتی غیر ملکیوں اور بیرونی فوجی دستوں کی موجودگی پر منحصر نہیں ہے۔ پائیدار سلامتی کی ذمہ داری ایسی طاقتوں کے سپرد نہیں کی جا سکتی جو اپنی ترجیحات اپنے مفادات کے مطابق طے کرتی ہیں، جن میں صہیونی حکومت کی سلامتی یقینی بنانا بھی شامل ہے۔

خطے کی سلامتی خود خطے کے ممالک کو یقینی بنانی چاہیے

رضائی نے خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت اور علاقائی مذاکرات کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ خطے کے ممالک ایک ایسے سلامتی کے نظام کی تشکیل کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں جو خطے کے اندرونی وسائل اور صلاحیتوں پر مبنی ہو؛ ایسا نظام جس کی سلامتی خود خطے کے اندر سے فراہم کی جائے اور خطے کے ممالک اپنے استحکام اور سلامتی کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری خود اٹھائیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کے سلامتی کے نظام کی تشکیل میں محورِ مزاحمت مرکزی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک اس سلامتی کے نظام کا محور یقیناً محورِ مزاحمت ہوگا۔ مزاحمت نے اس راستے میں بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں اور ہمارا یقین ہے کہ ان شاء اللہ خطے کا مستقبل کا سلامتی کا نظام مزاحمت پر مبنی ہوگا۔

News ID 1942389

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha