24 اکتوبر، 2026، 9:03 AM

کیا ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ، عالمی معیشت کو مفلوج کر دے گی؟

کیا ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ، عالمی معیشت کو مفلوج کر دے گی؟

امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت کی ایران کے خلاف فوجی کشیدگی نے دنیا بھر میں رسد کی تمام زنجیروں، توانائی کی قیمتوں اور غذائی تحفظ کو چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت کی ایران کے خلاف فوجی کشیدگی محض ایک علاقائی تصادم سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس نے عالمی معیشت کے ڈھانچے پر ایک تباہ کن زلزلے کی مانند اثرات مرتب کیے ہیں اور دنیا بھر میں رسد کی تمام زنجیروں، توانائی کی قیمتوں اور غذائی تحفظ کو چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔

اس بحران کا مرکزی نقطہ آبنائے ہرمز ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ اور اپنی نوعیت کا منفرد کردار ادا کرنے والا راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے پانچویں حصے کے برابر تیل اور گیس گزرتی ہے اور جو توانائی کی تجارت کی نبض اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔ اس تزویراتی اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ کو بند کیے جانے کے بعد تیل بردار جہازوں اور مائع قدرتی گیس لے جانے والے بحری جہازوں کی آمدورفت رک گئی اور عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔

اس بڑے دھچکے کے اثرات صرف پٹرول اور ایندھن کی مہنگائی تک محدود نہیں رہے، بلکہ عالمی معیشت کے باہمی طور پر جڑے ہونے کے باعث کیمیائی کھادوں کی تیاری، دھات سازی کی صنعتوں، بحری رسد و نقل و حمل اور سامان کی ترسیل کے اخراجات میں بھی شدید اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں صارفین کی منڈیوں میں ایسی مہنگائی کی لہر دوڑ گئی جس نے معیشت کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ یوں یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ جدید عالمی معیشت اس تنگ آبی راستے کی سلامتی کے معاملے میں کس قدر غیر محفوظ ہے۔

ایران کی جنگ میں معاشی نقصان اٹھانے والے اور فائدہ حاصل کرنے والے ممالک

اس گہرے بحران نے سب سے زیادہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی معیشتوں کو نشانہ بنایا اور علاقائی دارالحکومتوں کے لیے حالات کو نقصان دہ رخ پر موڑ دیا۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے ممالک کی معیشتیں غیر معمولی سکڑاؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔

یہاں تک کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسی بڑی اور ابھرتی ہوئی معیشتیں بھی، جنہوں نے تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی تھی، اس تباہ کن سونامی کے اثرات سے خود کو محفوظ نہ رکھ سکیں۔

ان ممالک کے غیر تیل شعبوں کا علاقائی استحکام، آزاد تجارت اور توانائی کی بلا تعطل ترسیل پر انحصار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور سیاحت و مالیاتی خدمات کی صنعت میں خلل کے باعث ان کی اقتصادی ترقی کی شرح کا رخ سکڑاؤ کی جانب مڑ گیا۔

اس دوران قطر اور کویت جیسے ممالک کو سب سے زیادہ بھاری ضربیں برداشت کرنا پڑیں، جبکہ عمان اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کی بدولت مثبت اقتصادی ترقی ریکارڈ کرنے میں کامیاب رہا۔ دوسری جانب ایران نے اپنے بنیادی ڈھانچے پر انحصار کرتے ہوئے ایک موقع حاصل کیا تاکہ تیل صاف کرنے کی صنعت اور پیٹروکیمیکل شعبے کو وسعت دے کر قدر میں اضافے کی زنجیر کو مضبوط بنانے اور خام تیل فروخت کرنے کے بجائے اس کی مزید پراسیسنگ کی جانب نئے انداز سے توجہ دے سکے۔

عالمی منڈیوں میں زلزلہ

اس تصادم کے اثرات خطے سے باہر بھی پہنچے اور ایشیاء و مغرب کی بڑی معیشتوں کو شدید طور پر متزلزل کر دیا۔ دنیا کی بڑی صنعتی قوت چین اور خطے کی توانائی کے بڑے خریداروں میں شامل بھارت کو پیداواری اخراجات میں ہوش ربا اضافے، تجارتی خسارے اور اپنی قومی کرنسی کی قدر میں کمی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ سیول اور ٹوکیو کی اسٹاک مارکیٹوں میں غیر معمولی گراوٹ دیکھی گئی۔

یورپ میں توانائی کی شدید مہنگائی اور بجلی و ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سائے میں اقتصادی ترقی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ یہاں تک کہ امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کے بے تحاشا اخراجات، جن میں پٹرول کی قیمتوں میں اچانک اضافہ اور درآمد شدہ پھلوں جیسی روزمرہ استعمال کی اشیا کی مہنگائی شامل ہے، شہریوں کے احتجاج کا سبب بن گئے ہیں۔

اس جنگ نے ہر امریکی خاندان پر اوسطاً دو ہزار ڈالر کے برابر مالی بوجھ بھی ڈال دیا ہے اور انتخابات سے قبل سیاسی اختلافات کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مغربی حکام کو ووٹروں کے غصے پر قابو پانے کے لیے اپنے تزویراتی تیل کے ذخائر استعمال کرنے پڑ رہے ہیں۔

اس دوران عالمی مالیاتی نظام عوامی قرضوں کے بھاری بوجھ اور گہری ناہمواریوں تلے دب کر رہ گیا ہے۔ عالمی اقتصادی ترقی کا انجن شدید عدم توازن کا شکار ہو چکا ہے اور اس ترقی کا بنیادی بوجھ مٹھی بھر ممالک کے کندھوں پر آ پڑا ہے۔

دوسری جانب، کئی دہائیوں سے ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتیں توانائی کے مسلسل دھچکوں، موسمیاتی تبدیلیوں اور قرض لینے کے ہوش ربا اخراجات کے بوجھ تلے غربت کی کھائی میں گرنے کے خطرے سے نبرد آزما ہیں، جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی لہر نے ترقی یافتہ معیشتوں کے لیے کسی حد تک سانس لینے کی گنجائش پیدا کی ہے۔

تاہم، یہ ذرائع بھی مالیاتی بلبلوں اور افرادی قوت کی منتقلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے چینی اور لاکھوں انسانوں کے بے روزگار ہونے کے خدشات کو چھپانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ دنیا کے درجنوں ممالک بنیادی ضروریات کی اشیا کی فراہمی کے بحران سے نکلنے کے لیے بین الاقوامی اداروں سے مدد طلب کر رہے ہیں، کیونکہ کمزور طبقات کی مدد کے لیے دی جانے والی سرکاری سبسڈیز اور حکومتی بچتیں اپنی آخری حد تک پہنچ چکی ہیں۔

حاصلِ کلام

عالمی معیشت کی اس تاریک اور پیچیدہ صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے، اگر امریکہ ایک بار پھر تزویراتی غلطی کرتے ہوئے ایران پر نیا حملہ کرتا ہے تو بلاشبہ عالمی معیشت ایک ایسی بے مثال اور ناقابلِ تلافی کساد بازاری اور مہنگائی کے امتزاج کی طرف دھکیل دی جائے گی جس سے نکلنا انتہائی دشوار ہوگا۔

دوبارہ حملے کا مطلب آبنائے ہرمز کی مستقل اور مکمل بندش، خلیج فارس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کی مکمل تباہی اور تیل کی قیمتوں کا ناقابلِ تصور اور فلکیاتی سطح تک پہنچ جانا ہوگا۔ اس تباہ کن منظرنامے میں عالمی ترسیل و نقل و حمل مفلوج ہو جائے گی، غذائی اشیا اور اناج کی فراہمی کی زنجیریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں گی، دنیا کی بڑی مالیاتی منڈیاں زمین بوس ہو جائیں گی اور بے قابو مہنگائی پوری دنیا میں اربوں انسانوں کے ذرائع معاش کو تباہ کر دے گی۔

فوجی مہم جوئی کو جاری رکھنا یا اسے دہرانا محض ایک علاقائی کشیدگی نہیں، بلکہ عالمی معیشت کی تباہی کا بٹن دبانے اور انسانیت کو تاریکی، قحط اور مالیاتی بحرانوں کے ایسے دور میں واپس دھکیلنے کے مترادف ہے، جس کے تباہ کن اثرات کئی دہائیوں تک ختم نہیں ہو سکیں گے۔

ایسے ماحول میں بڑی صنعتی طاقتیں بھی ہجرت کی لہروں، تجارتی بینکوں کے دیوالیہ ہونے اور بین الاقوامی تجارتی نظام کے انہدام کو سنبھالنے کی صلاحیت کھو بیٹھیں گی۔ اس معاشی خود تباہی کی بھاری قیمت انسانیت کی گزشتہ کئی دہائیوں کی فلاح و بہبود اور پائیدار ترقی کے تمام ثمرات کو سیاسی بدتدبیری کی آگ میں جلا کر راکھ کر دے گی۔ یہ ایسا انجام ہوگا جسے بین الاقوامی نظام کی کسی بھی سمجھ دار حکومت کو وقوع پذیر ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل میں رہبرِ انقلابِ اسلامی کے سیکریٹری اور نمائندے میجر جنرل محسن رضائی کی حالیہ دھمکیاں، جن میں خطے میں امریکہ سے وابستہ اقتصادی بنیادی ڈھانچے، بالخصوص متحدہ عرب امارات، کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی ہے، یہ دھمکی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ تہران نے پہلے سے زیادہ دشمن کی ’’چشمِ اسفندیار‘‘ یعنی اس کے کمزور ترین اور حساس ترین مقام کی شناخت کر لی ہے۔

ان دھمکیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر توانائی کے بنیادی ڈھانچے، مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ، کثیرالقومی کمپنیوں اور تزویراتی اہمیت کی حامل بندرگاہوں کو نشانہ بنا کر دشمن کو ایرانی سرزمین پر دوبارہ حملہ کرنے سے روکنا چاہتا ہے۔

اب انتظار کرنا ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ آیا ٹرمپ ’’ساکھ کے جال‘‘ میں پھنس کر اپنی زندگی کا سب سے بڑا جوا کھیلتے ہوئے ’’امریکی صدی‘‘ کا خاتمہ کر دے گا، یا اپنے اقتصادی مشیروں کے اس مشورے پر کان دھرے گا کہ تہران کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم سے گریز کیا جائے، کشیدگی کم کرنے کی راہ اختیار کی جائے اور اس کے بعد ایران کے خلاف جنگ سے پسپائی اختیار کر لی جائے۔

News ID 1942318

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha