مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر اس وقت تہران کے دورے پر ہیں؛ اس موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
جنرل عاصم منیر نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر سے ملاقات کی۔
اس موقع پر قالیباف نے جنگ اور مذاکرات کے حالات میں ایران کے لیے پاکستانی حکومت اور عوام کی حمایت پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات پر زور دیا۔
قالیباف نے امریکہ پر ایران کے گہرے عدم اعتماد اور ٹرمپ حکومت کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا ذکر کرتے ہوئے زور دیا کہ امریکہ صرف نیویارک میں پیش کی گئی ایران کی سات شرائط پر عمل درآمد کے ذریعے ہی ایران کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، لیکن اپنے وطن اور قومی وقار کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دھمکیاں اور فوجی نقل و حرکت اسلامی جمہوریہ ایران کے تزویراتی فیصلوں کو تبدیل نہیں کر سکتیں، بلکہ امریکہ کو ہی جنگی دلدل سے نکلنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔
اس موقع جنرل عاصم منیر نے آج سے دونوں ممالک کی سرحد دوبارہ کھولنے کی اطلاع دی اور سرحدی مسائل کو عارضی اور تکنیکی نوعیت کا قرار دیا۔
آپ کا تبصرہ