مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عبرانی زبان کے اخبار جروزلم پوسٹ نے رپورٹ دی ہے کہ امریکی صدر کے قریبی بعض افراد مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ایک وسیع قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جسے وہ بظاہر ’’اعتدال پسند‘‘ حکومت قرار دیتے ہیں۔ اس حکومت میں اس صیہونی حکومت کے داخلی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر اور وزیر خزانہ بتسلئیل اسموتریچ جیسی انتہا پسند شخصیات شامل نہیں ہوں گی۔
ان افراد میں سے بعض نے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کو باری باری سنبھالنے کے معاہدے کا خیال پیش کیا ہے، جس کے تحت ابتدا میں بنیامین نیتن یاہو وزیراعظم ہوں گے۔
اخبار نے وضاحت کی کہ ’’یاشار‘‘ پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ اور صیہونی حکومت کے سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ اب بھی نیتن یاہو کی سربراہی میں بننے والی کابینہ میں شمولیت کی مخالفت کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی ارب پتی بل ایکمن، جو ٹرمپ کے نمایاں حامیوں میں سے ہیں اور ان کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں، نے اتوار کے روز کھلے عام مطالبہ کیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ایک اعتدال پسند حکومت تشکیل دی جائے، جس میں بن گویر اور اسموتریچ شامل نہ ہوں۔
جروزلم پوسٹ نے زور دیا کہ ایکمن واحد شخصیت نہیں ہیں جو ٹرمپ کے قریب ہونے کے باوجود اس نقطۂ نظر کی حمایت کرتے ہیں۔ متعدد ذرائع کے بیانات کے مطابق، واشنگٹن کی کئی دیگر شخصیات بھی اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ امریکی صدر کی صدارتی مدت کے باقی دو برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے ان کے بلند عزائم پر مبنی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے صیہونی حکومت کی کابینہ کی تشکیل میں تبدیلی ضروری ہے۔
ان منصوبوں میں سب سے اہم صیہونی حکومت اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لیے ایک تاریخی معاہدے تک پہنچنے کا ممکنہ امکان ہے۔ بن گویر اور اسموتریچ کی کابینہ میں موجودگی کے ساتھ اس معاہدے کو آگے بڑھانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
اخبار کے مطابق، ٹرمپ کے بہت سے سینئر مشیر اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ انتہا پسند دائیں بازو کی شخصیات کے بغیر حکومت کی تشکیل سے امریکی صدر کی علاقائی پالیسیوں کو آگے بڑھانا کہیں زیادہ آسان ہو جائے گا۔
آپ کا تبصرہ