مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی تعلقات کے معروف تجزیہ کار اور شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر جان مرشایمر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کبھی شکست تسلیم نہیں کرتے اور ہمیشہ فتح کا دعوی کرتے ہیں، جبکہ ان کے لیے حقیقت کی کوئی اہمیت نہیں۔
مرشایمر نے کہا کہ ٹرمپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نہ وہ اور نہ ہی امریکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول رکھتے ہیں، بلکہ ایرانی اس اہم آبی گزرگاہ پر مکمل تسلط رکھتے ہیں۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا اس کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے واشنگٹن کی کئی ماہ کی ناکام کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کو سنبھالنے میں اپنی ناکامی سے شدید مایوس ہیں۔
مرشایمر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اسلام آباد مفاہمت سے احمقانہ انخلا کے ذریعے اس معاہدے کو تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال دیا اور اب ایران کے نئے مطالبات کے مقابلے میں اس کے پاس کوئی حکمت عملی موجود نہیں۔
امریکی تجزیہ کار نے ٹرمپ حکومت کے چار ناکام اہداف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کی جوہری افزودگی روکنے، اس کی میزائل صلاحیت محدود کرنے، مقاومتی محاذ کے لیے ایران کی حمایت کمزور کرنے اور نظام حکومت تبدیل کرنے کے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ جوہری معاملہ عملی طور پر ایجنڈے سے خارج ہوچکا ہے، جبکہ ایران کے لیے اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کی ترغیب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ تاہم اسلامی جمہوری ایران بارہا واضح کرچکا ہے کہ جوہری ہتھیار اس کے دفاعی نظریے کا حصہ نہیں ہیں۔
مرشایمر نے امریکہ کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کو ایک فریب قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کا ڈھانچہ عملا تباہ ہوچکا ہے اور واشنگٹن کے علاقائی اتحادوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان تنازعات نے نہ صرف دنیا پر بھاری اقتصادی اخراجات مسلط کیے ہیں بلکہ یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ دوسرے ممالک میں امریکہ کی سماجی انجینئرنگ کی پالیسی بنیادی طور پر ایک تباہ کن ناکامی رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ