مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے انتفاضہ الاقصی کی 26ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی سرزمین اور مقدسات کی آزادی اس کی جدوجہد کی مستقل سمت رہے گی۔
حماس نے عرب و اسلامی امت اور دنیا بھر کے آزاد لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے اپنے جائز حقوق کے حصول تک ان کی جدوجہد اور استقامت کی حمایت کریں۔
حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ انتفاضہ الاقصی کی 26ویں سالگرہ ایسے وقت میں منائی جا رہی ہے جب صہیونی حکومت فلسطینی سرزمین، عوام اور مقدسات، بالخصوص قدس اور مسجد الاقصیٰ کے خلاف جارحیت میں غیر معمولی اضافہ کر رہی ہے اور انتہا پسند آبادکاروں کو ان کے اقدامات میں حمایت فراہم کر رہی ہے۔
حماس کے مطابق ان اقدامات کا مقصد مسجد الاقصی کی یہودی شناخت مسلط کرنے، اس کی بے حرمتی، اس کی اسلامی شناخت اور تاریخی نشانات کو مٹانا اور فلسطینی علاقوں کے الحاق اور جبری بے دخلی کے منصوبوں کو آگے بڑھانا ہے۔
حماس نے کہا کہ 28 ستمبر 2000 کو شروع ہونے والی انتفاضہ الاقصیٰ تاریخ کی تمام نسلوں کے لیے ایک متاثر کن علامت رہی ہے اور رہے گی۔ اس تحریک نے قدس اور مسجد الاقصیٰ کے دفاع، قربانی اور مزاحمت کے تصورات کو اجاگر کیا اور یہ ثابت کیا کہ اسرائیلی جرائم اور مسلسل دہشت گردی فلسطینی عوام کے عزم کو توڑنے یا مزاحمت کی شمع بجھانے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔
حماس نے انتفاضہ الاقصی کی 26ویں سالگرہ پر فلسطینی شہداء کے خون اور قیدیوں کی قربانیوں سے وفاداری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام اپنی سرزمین، حقوق، اصولوں اور مقدسات سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ حماس نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومتوں کے منصوبے، چاہے ان میں جرائم اور جارحیت کا کتنا ہی اضافہ کیوں نہ ہو، ناکامی سے دوچار ہوں گے۔
حماس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیت المقدس اور مسجد الاقصیٰ فلسطینی عوام اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے مرکز میں ہیں اور مسجد الاقصی اسلامی وقف ہی رہے گی۔ یہ وقف نہ تقسیم کیا جاسکتا ہے اور نہ اس میں شراکت ممکن ہے، جبکہ اسرائیل کو مسجد الاقصیٰ کے کسی بھی حصے یا کسی بھی مقام پر حاکمیت یا قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔
حماس نے واضح کیا کہ مسجد الاقصیٰ کا دفاع اس کی آزادی تک جاری رہے گا اور اس راستے سے کوئی پسپائی اختیار نہیں کی جائے گی۔
حماس نے فلسطینی تمام سیاسی اور مزاحمتی قوتوں پر زور دیا کہ وہ ایک مشترکہ جدوجہد کی حکمت عملی پر اتفاق کریں اور کہا کہ عرب و اسلامی امت اور دنیا بھر کے آزاد لوگوں کی مسلسل اور مؤثر حمایت فلسطینی سرزمین اور مقدسات کی آزادی کے منصوبے اور اسرائیلی منصوبوں کا مقابلہ کرنے کی بنیادی بنیادوں میں شامل ہے۔
حماس نے مغربی کنارے، 1948 میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بیت المقدس اور اس کے اطراف میں موجود فلسطینیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجد الاقصیٰ میں اپنی موجودگی، وہاں آمد، حفاظت اور اعتکاف کا سلسلہ جاری رکھیں تاکہ مسجد الاقصیٰ کا دفاع کیا جاسکے اور اسرائیلی حکومت اور انتہا پسند آبادکاروں کے منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکے۔
اس تحریک نے عرب و اسلامی ممالک اور دنیا بھر کے آزاد لوگوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی، سفارتی، میڈیا اور عوامی سطح پر فوری اور سنجیدہ اقدامات کریں اور فلسطینی عوام کی حمایت کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔
حماس نے مسجد الاقصی کے خلاف اسرائیلی منصوبوں کا مقابلہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں مسجد الاقصی کو مکمل طور پر اسرائیلی قبضے سے آزاد کرانے تک جاری رہنی چاہئیں۔
حماس نے اپنے بیان کے اختتام پر انتفاضہ الاقصیٰ کے شہداء اور فلسطینی عوام کے ان تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جو سرزمین اور مقدسات کی آزادی کی راہ میں جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ تحریک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ شہداء کے خون، قربانیوں اور راستے سے وفادار رہے گی اور فلسطینی عوام کے تمام حقوق کی مکمل واپسی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
آپ کا تبصرہ