خبر رساں ايجنسي مہر : ہم اب بھي ديكھتے ہيں كہ پاكستان ميں آئے دن شيعوں كا قتل عام ہورہا ہے اور شيعہ ہي مارے جاتے ہيں خصوصا وہ شيعہ جو دانشور ہيں اور اعلي عہدوں پر فائز ہيں انكو شہيد كيا جاتا ہے اور يہ سب كچھ اہل سنت كے پليٹ فارم سے ہوتا ہے كيااس سلسلے ميں اہلسنت كے بزرگ علماء نے كوئي اقدام كيا ہےاور انہوں نے كبھي اہل سنت كے پليٹ فارم سے ہونے والي ان كاروائيوں كي مذمت كي ہے؟
ساجد نقوي : ميں اس سلسلے ميں آپكو تھوڑا پيچھے لے جاؤنگا ، پاكستان كے اور برصغير ميں ، شيعہ سني تصادم اور لڑائي جھگڑے وقتا فوقتا ہوتے رہے ليكن وہ سب مقامي سطح كے تھے اور ان ميں باقاعدہ كوئي مہم نہيں تھي كہ جس كے ذريعہ شيعہ كو سنيوں كے ساتھ لڑانے اور تصادم كرانےكا كوئي راستہ ہموا ركيا جائے صديوں سے شيعہ سني آباد ہيں برصغير ميں لوگوں كي عزيزدارياں اور رشتہ دارياں ہيں تصادم ہوئے ليكن بزرگ لوگ بعد ميں بيچ بچاؤ كر كے انكو حل كر ديتے اور اس طرح مسائل حل ہو جاتے تھے در حقيقت شيعہ سني تصادم كي بنياد انقلاب اسلامي كي كاميابي كے بعد ركھي گئي جب يہ خدشات ہوئے كہ يہ بيداري كي لہر پاكستان كے اندر بھي جاسكتي ہے اور پاكستان ميں بھي اسي قسم كا كوئي انقلاب آسكتا ہےجس ميں بظاہر شيعہ حكومت تونہيں ہوگي يا شيعہ انقلاب تونہيں ہوگا ليكن شيعوں كا اس كے اندر ايك اہم نقش ہوگا
چونكہ پڑوس ميں ايك انقلاب كامياب ہوا ہے جس كي سربراہي شيعہ مرجعيت كررہي ہے تواس كا راستہ روكنے كيلئے وہاں كچھ گروہوں كو تشكيل ديا گيا اوران گروہوں كے ذريعہ شيعوں كے خلاف غليظ مہم شروع كرائي گئي جس ميں تكفير كے فتوے اور بے شمار لٹريچر نشر كيا گيا اتنا شايد كوئي حكومت بھي نہيں پھيلا سكتي ہے شيعوں كے خلاف گليوں ، كوچوں ، بازاروں ،سڑكوں اور مسجدوں كو استعمال كيا گيا
اور ان لوگوں كي پشت پناہي سركاري ايوانوں سے ہو رہي تھي اور اسكي دليل يہ ہے كہ ان لوگوں كے خلاف كوئي مقدمات قائم نہيں ہوئے انكو قانون كے گرفت ميں نہيں لايا گيا انكو روكا نہيں گيا اس كا توڑ ہم نے يہ كيا كہ ہم نے وحدت كا راستہ اپنايا چونكہ مجھے امام خميني (رہ)كي نمائندگي اور ان كے بعد رہبر انقلاب اسلامي كي نمائندگي كا شرف بھي حاصل ہے تو ميں امام (رہ)كي خدمت ميں بھي حاضر ہوتا رہا اور رہبر معظم كي خدمت ميں بھي اور ان سے رہنمائي ليتا رہا ان كي رہنمائي كے نتيجے ميں ہم نے اتحاد كي كوشش كي دشمنوں كي كوشش يہ تھي كہ مسئلہ كوشيعہ سني بنائيں اور گلي كوچوں تك بازاروں تك اور عوام تك لے جائيں ہماري كوشش يہ تھي كہ اس مسئلہ كو شيعہ سني نہ بنايا جائے بلكہ چند گروہوں تك محدود كيا جائے اس لئے جيسے آپ (مہر نيوز ايجنسي) فرمارہے تھے كہ اہل سنت نے كيا كيا اس ميں اہل سنت كا رول نہيں تھا بلكہ اس ميں كچھ گروہوں كا رول تھا جن پر ليبل اہل سنت كاتھا اور اہل سنت ميں سے كوئي گروہ ان كو تسليم نہيں كرتا تھا
ليكن انہوں نے فضا كو اتنا شديد بناركھا تھا كہ اس وقت اہل سنت كيلئے بھي ان كے بارے ميں كوئي بات كرنا آسان نہيں تھا ، ليكن كلي طور پر تو وہ بھي اس مسئلہ كي مذمت كرتے تھے ليكن خصوصي طور پر كسي گروہ كي مذمت كرنا يا اس گروہ كے بار ے ميں بات كرنا كہ يہ گروہ جو ہے يہ مفسد اور فتنہ انگيز ہے يہ ان كے لئے بھي مشكل تھا اسلئے كہ انہوں نے فضا ايسي بنائي تھي كہ مسجدوں پر جاكر قبضہ كرلينا اوراپني مرضي كے پروگرام كرنا اور شيعوں كے خلاف مہم چلانا تو انھوں نے مسئلے كو شيعہ سني بنانے كي كوشش كي اور ہم نے كوشش كي كہ شيعہ سني مسئلہ نہ بنے اس لئے ہم نے وحدت كا راستہ اپنايا اس وحدت كو ہم نے اعلاميہ وحدت كے نام سے جاري كيا پھر ملي يكجہتي كونسل بنائي اور اس كے نتيجے ميں فضا بہترہوئي ليكن ملي يكجہتي كونسل يا سني علماء كے پاس ايسي كوئي فورس نہيں تھي كہ جو شيعوں كے خلاف ہونے والے اقدام كو روك سكيں يہ كام حكومت كا اور سركاري اداروں كا اور قانون نافذ كرنے والے اداروں كا تھا كہ جنہوں نے اس كام كو نہيں كيا ? جس كي وجہ سے يہ فضا بڑھتي گئي اوربڑے بڑے واقعات رونما ہوئے اور آخر كار اس كا نتيجہ يہ ہوا كہ يہ دہشت گردي ميں تبديل ہوگئي اب دہشت گردي كي صورت جو تھي وہ يہ تھي كہ شيعوں كو كمزور كيا جائے
لہذا اس سلسلے ميں شيعہ علماء ، دانشوروں ، ڈاكٹروں صحافيوں اور ججوں كو نشانہ بنانے كي كوشش كي گئي تاكہ شيعوں كو كچلا جائے شيعہ كوئي نقش اس ملك كے اندر ايفا نہ كرسكيں ہمارے پاس دو راستے تھے يا تو اسكا مقابلہ باالمثل كرتے تو مقابلہ باالمثل سے ميں سمجھتا ہوں ہمار ا نقصان اتنا زيادہ ہوتا كہ ہم اس كے متحمل نہيں ہوسكتے تھے جسكا جبران بھي نہيں ہوسكتا تھا اسكي بہت سي وجوہ ہيں اسكے لئے ظاہر ہے كہ باقاعد ہ ايك گروہ چاہئے جو منظم ہو ، تربيت يافتہ سازمان يافتہ ہو ، اس ميں سكريسي ہو ، انكے وسائل ہوں ، اور اتنے وسائل ہوں جو ختم ہونے والے نہ ہوں يہ كچھ تھوڑے معمولي وسائل سے كام ہونےوالا نہيں تھا اور دوسرا راستہ وحدت كا تھا كہ جسكي ہميں ہدايات بھي تھيں اور ہم نے قوم كے علماء كےمشورے كے ساتھ باقاعدہ حالات كا جائزہ لے كر وحدت كا راستہ اپنا يا تاكہ انكو وحدت كےذريعہ روكا جائے
چنانچہ صورت حال يہ ہوئي كہ جب ملي يك جہتي ناكام ہوئي تو ہم نے متحدہ مجلس عمل تشكيل دي جو ايك سياسي ، ديني مذہبي پليٹ فارم ہے جس ميں تمام مذاہب ، بريلوي ، ديوبندي ، اہل حديث ، شيعہ اور جماعت اسلامي شامل ہيں اور يہ سب كي سب مركزي جماعتيں ہيں تمام مذہبي سربراہ اسكے اندر موجود ہيں جن كے سامنے فرقہ واريت كا خاتمہ ہے ملك كي آزادي اور استقلال اوراستعمار كے تسلط سے اسكي نجات ، اسلام كے منصفانہ نظام كا نفاذ ، استحصال كا خاتمہ ، اور ملك كے اندر ہر شخص كو انساني شرف اور وقار اور عدل و انصاف مہيا كرانا يہ انكے مقاصد ميں سے ہے اور اب ہم يہاں پہونچ چكے ہيں كہ اب ايك "قدتبين الرشد من الغي " كہ وہ لوگ جو وحدت كے لئے كام كرنے والے ہيں جو امت مسلمہ كے وقار اور اس كي بالا دستي كيل? كام كرنے والے ہيں وہ اكثريت ميں ہيں وہ ايك طرف اور دہشت گردي پھيلانے والے جو ہيں وہ ايك طرف ہوچكے ہيں
آپ کا تبصرہ