مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا اور مہنگا طیارہ بردار بحری جہاز، یو ایس ایس جرالڈ فورڈ، یونان کی بندرگاہ میں مرمت کے لیے لنگر انداز ہو رہا ہے۔ یہ اقدام بحیرہ احمر میں ایران کے خلاف تعیناتی کے دوران جہاز میں لگنے والی آگ کے باعث اٹھایا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے امریکی بحریہ نے تصدیق کی تھی کہ اس ایک لاکھ ٹن وزنی جنگی جہاز میں آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہوئے۔ تاہم، بحریہ نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ یہ آگ ایران کے میزائل حملوں کا نتیجہ تھی۔
اس واقعے کے باوجود، امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تناؤ کے دوران اس جہاز کے آپریشنل مشن میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں آئی۔
تاہم، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں جہاز کے عملے کی انتہائی ابتر صورتحال کو اجاگر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جہاز کے تقریباً 600 ملاحوں نے آگ لگنے کے بعد اپنے سونے کی جگہیں کھو دی ہیں اور وہ میزوں یا فرش پر سونے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ، بہت سے اہلکاروں کو کپڑے دھونے اور خشک کرنے کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔
13 ارب ڈالر مالیت کے اس بحری جہاز کو پہنچنے والے مجموعی نقصانات کی تفصیلات ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکی ہیں، لیکن یہ واقعہ امریکی بحریہ کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ