مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تل ابیب واشنگٹن کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلنے کی بھرپور کوشش کررہا ہے۔اسرائیل کا امریکہ میں اثر و رسوخ جلد سب کے سامنے آجائے گا۔
تفصیلات کے مطابق عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکی عوام کو غیر ملکی اثر و رسوخ کے بارے میں خبردار کیا جا رہا ہے، تاہم یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ اسرائیل کس طرح امریکی انتظامیہ کو ایک ایسی جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں کامیابی ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے استعمال کرتے ہوئے امریکہ میں اپنی پالیسیوں کے ناقدین کی آواز دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ تمام حقائق جلد سامنے آ جائیں گے اور اسرائیل کے اثر و رسوخ کی حقیقت بے نقاب ہو جائے گی۔
عباس عراقچی نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ٹائم میگزین کی ایک رپورٹ بھی شیئر کی، جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے منظم تشہیری مہم کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کو اسرائیلی پالیسیوں، خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی مخالفت کے لیے متحرک کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹ میں ٹرمپ کی انتخابی مہم کے منتظم اور ڈیجیٹل حکمت عملی کے ماہر بریڈ پارسکیل کا نام بھی اس اسرائیلی حمایت یافتہ اقدام سے جوڑا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ