مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے سعودی عرب پر پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے میں امریکی اور اسرائیلی منصوبوں کی تکمیل کے لیے اپنی سیاسی، مالی اور عسکری صلاحیتیں بروئے کار لا رہا ہے اور اسرائیل مخالف مؤقف رکھنے والی قوموں کو کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
محمد الفرح نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیانات میں کہا کہ سعودی عرب یمن کو ایک خودمختار ملک کے بجائے اپنی سرپرستی میں چلنے والی ریاست سمجھتا ہے، جو یمنی عوام اور ان کی قومی خودمختاری کی توہین کے مترادف ہے۔ یہ رویہ برسوں سے جاری فوجی کارروائیوں اور محاصرے کا تسلسل ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب یمن کے خلاف اپنی ماضی کی کارروائیوں کی براہِ راست ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ اصل مسئلہ یمن پر حملوں کا خاتمہ، محاصرے کا اٹھایا جانا اور ملکی خودمختاری کا احترام ہے۔
انصار اللہ کے رہنما نے مزید کہا کہ یمنی عوام کی عزت اور حقوق کو نظرانداز کرنا قومی وقار پر حملہ ہے، تاہم عوامی اور سرکاری سطح پر اس کی مخالفت یمنی قوم کے اپنے حقوق اور خودمختاری سے وابستگی کا ثبوت ہے۔
محمد الفرح کے مطابق یمنی مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور آئندہ مرحلے میں میدانِ عمل میں نئی پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔
آپ کا تبصرہ