مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی فضائی حملوں کو فوری طور پر رکوانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، کیونکہ یہ حملے بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے فوری اور سنگین خطرہ ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام لکھے گئے خط میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ امریکہ نے صوبہ ہرمزگان میں پلوں، ریلوے اسٹیشنوں اور رہائشی علاقوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا، جو اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے۔
خط کے مطابق جمعرات کی شب اور جمعہ کی صبح کیے گئے حملوں میں بندر عباس۔لار اور کہورستان۔بندر خمیر شاہراہوں پر واقع کئی اہم پل تباہ ہوئے۔ ایک پل پر حملے کے بعد ایک شہری گاڑی پل سے نیچے گر گئی، جس کے نتیجے میں سات افراد شہید اور نو زخمی ہوئے، جبکہ بندر عباس کے ایک رہائشی علاقے پر حملے میں ایک شہری جان سے گیا اور آٹھ افراد زخمی ہوئے۔
ایران نے مزید کہا کہ بندر عباس ریلوے اسٹیشن، جو بین الاقوامی شمال۔جنوب ٹرانسپورٹ راہداری کا اہم مرکز ہے، براہ راست حملے میں نقصان کا شکار ہوا، جس سے دو ریلوے ملازمین زخمی ہوئے اور اس روٹ پر مسافر ٹرین سروس معطل کر دی گئی۔
ایروانی کے مطابق اب تک 43 افراد کی شہادت کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں تین خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 22 خواتین اور نو بچے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 47 افراد تشویشناک حالت میں اسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور جولائی کے آغاز سے اب تک زخمیوں کی مجموعی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے۔
ایران نے شہری تنصیبات، نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے اور ریلوے نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کے تمام انسانی، مادی اور ماحولیاتی نتائج کی بین الاقوامی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔
خط میں خبردار کیا گیا کہ اگر اقوام متحدہ نے کارروائی نہ کی تو ایران بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت، عوام اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
آپ کا تبصرہ