مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک؛ لبنان اور صہیونی حکومت کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کو ایسے ٹائم بم سے تشبیہ دی گئی ہے جو اسرائیل کو اپنی جارحیت اور قبضہ برقرار رکھنے کا قانونی جواز فراہم کرتا ہے، جبکہ لبنان کو داخلی کشیدگی یا مستقل صہیونی قبضے کی قبولیت جیسے کٹھن انتخاب کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے۔
لبنانی ویب سائٹ النشرہ نے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ واشنگٹن میں سفارتی مسکراہٹوں اور معاہدے پر دستخط کی تصویروں کے پیچھے ایک نہایت سخت سیاسی حقیقت پوشیدہ ہے۔ بظاہر اس معاہدے کو لبنان کے لیے نجات کا راستہ پیش کیا جا رہا ہے، لیکن اس کی شقوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسا دستاویز ہے جو امریکی اور صہیونی مفادات کے مطابق ترتیب دی گئی ہے تاکہ لبنان کو سیاسی اور سکیورٹی جال میں پھنسا دیا جائے۔
خودمختاری کا تحفظ یا صہیونی جارحیت کا بہانہ
رپورٹ کے مطابق معاہدے کی پہلی شق لبنان کی خودمختاری کے تحفظ اور صہیونی فوج کے انخلا کی ضمانت دیتی ہے، لیکن دوسری شق اس انخلا کو مسلح گروہوں کے مکمل غیر مسلح ہونے اور ان کے عسکری ڈھانچے کے خاتمے سے مشروط کرتی ہے۔ یہ ایسی شرط ہے جسے عملی جامہ پہنانا انتہائی مشکل ہے، کیونکہ جس کام میں اسرائیلی فوج خود کامیاب نہ ہوسکی، وہی ذمہ داری لبنانی فوج پر ڈال دی گئی ہے۔ اس صورت میں اسرائیل اس شرط کو لبنان میں اپنی موجودگی جاری رکھنے کے لیے قانونی جواز کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے پانچویں شق کی روح کے برخلاف اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے نام نہاد سکیورٹی زون میں موجود رہے گی اور بے گھر ہونے والے لبنانی شہریوں کو اپنے علاقوں میں واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ مؤقف معاہدے کے اس دعوے سے متصادم ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو لبنان کی سرزمین پر کوئی دعویٰ یا لالچ نہیں۔ نیتن یاہو کا مقصد مکمل انخلا نہیں بلکہ سن 2000 سے قبل کی طرح ایک سرحدی مقبوضہ پٹی کو برقرار رکھنا ہے، تاہم اس بار وہ اسے امریکی سرپرستی اور لبنان کی موجودہ حکومت کے دستخطوں کے ذریعے قانونی حیثیت دلوانا چاہتے ہیں۔
لبنانی فوج کو حزب اللہ کے مقابل لا کھڑا کرنے کا منصوبہ؟
معاہدے کا ایک اور خطرناک پہلو اس کی تیسری شق میں موجود ہے، جس کے تحت دو آزمائشی علاقوں کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔ اس شق کے مطابق لبنانی فوج ان علاقوں میں مکمل کنٹرول سنبھالے گی، لیکن اس کے پس پردہ اصل مقصد فوج کی ایسی تعیناتی ہے جو عملاً اسے صہیونی رژیم کی سرحدی محافظ بنا دے۔
اس بند کے نتیجے میں لبنانی فوج براہ راست حزب اللہ کے حامی عوامی اور سیاسی حلقوں کے سامنے آکھڑی ہوگی، حالانکہ حزب اللہ لبنان کے داخلی سیاسی اور عوامی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ہے۔ یوں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی شرط کے ساتھ یہ شق درحقیقت بین الاقوامی سرپرستی میں لبنان کو ایک ممکنہ خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
رپورٹ میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس اعلان کو بھی حیران کن قرار دیا گیا ہے جس میں انہوں نے لبنانی فوج کے لیے صرف 3 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا۔ یہ رقم نہ صرف انتہائی معمولی ہے بلکہ لبنان اور اس کی فوج کی سیاسی توہین کے مترادف بھی ہے، کیونکہ اس سے ایک مکمل فوجی بٹالین کو بھی مناسب طور پر لیس نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹ کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک کرائے کی فوج سے انتہائی کم لاگت پر ایک تباہ کن نیابتی جنگ لڑوانا چاہتا ہے۔
تعمیرِ نو کے وعدے، حملوں کا جواز
معاہدے کی ساتویں اور دسویں شق میں امریکہ اور صہیونی حکومت نے لبنان میں تعمیرِ نو اور معاشی بحالی کے بڑے بڑے وعدے کیے ہیں تاکہ اس معاہدے کو عوام کے لیے پرکشش بنایا جا سکے۔ تاہم یہ وعدے حقیقت میں کھوکھلے ہیں، کیونکہ ان پر عمل درآمد کے لیے کوئی بین الاقوامی طور پر لازمی مالیاتی نظام یا ضمانت موجود نہیں۔ اسی لیے یہ وعدے محض بے بنیاد چیک اور کاغذی دعووں کی حیثیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب معاہدے کی ساتویں شق اسرائیل کو "حقِ دفاع" کے نام پر ایسا قانونی جواز فراہم کرتی ہے جس کے تحت وہ مستقبل میں لبنان پر کسی بھی پیشگی حملے، فوجی دراندازی یا جارحیت کو بین الاقوامی اور قانونی حیثیت دینے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ایک طرف لبنان کو تعمیر و ترقی کے حسین خواب دکھائے گئے ہیں، جبکہ دوسری طرف اسی معاہدے میں اسرائیل کے لیے مستقبل کی فوجی کارروائیوں کا راستہ بھی کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔
معاہدہ امن نہیں بلکہ ٹائم بم
معاہدے کے تجزیے میں آخر میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس دستاویز نے لبنان کے اندر گہری سیاسی اور عوامی تقسیم پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف صدر جوزف عون اور ان کے حامی حکومتی حلقے اس معاہدے کو ملک میں مسلسل تباہی اور جنگ کا سلسلہ روکنے کے لیے ایک ناگزیر اور حقیقت پسندانہ راستہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ریاستی اداروں کو بچانے اور بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے حزب اللہ کے ہتھیاروں کا مسئلہ حل کرنا ضروری ہے، چاہے اس کے لیے کئی دہائیوں سے لبنان کے دفاع میں کردار ادا کرنے والی مزاحمتی قوت کو قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔
دوسری جانب حزب اللہ، اس کے حامی عوامی حلقے اور اتحادی سیاسی جماعتیں اس معاہدے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کوئی امن معاہدہ نہیں بلکہ لبنان کو دشمن کے سامنے جھکانے اور اس کی دفاعی طاقت کو ختم کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس معاہدے پر عمل درآمد سے وہ مزاحمتی توازن ختم ہو جائے گا جس نے گزشتہ برسوں میں اسرائیل کو لبنان پر بڑے حملوں سے باز رکھا تھا۔ اسی لیے وہ اس معاہدے کو لبنان کی خودمختاری، سلامتی اور قومی وحدت کے لیے ایک انتہائی خطرناک جوا قرار دیتے ہیں۔
حاصل سخن
لبنانی ویب سائٹ النشرہ نے اپنے تجزیے کے اختتام پر زور دیا ہے کہ اس سہ فریقی فریم ورک معاہدے کو ہرگز ایک پائیدار امن منصوبہ نہیں سمجھا جاسکتا، بلکہ یہ درحقیقت لبنان کے لیے ایک ٹائم بم ہے، جس کے نتائج مستقبل میں مزید سنگین بحرانوں کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں۔
ویب سائٹ کے مطابق یہ معاہدہ ایک طرف اسرائیل کو اپنی فوجی موجودگی اور قبضے کو جاری رکھنے کے لیے سیاسی اور قانونی جواز فراہم کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی حکومت کو ایک سفارتی کامیابی کا موقع دیتا ہے۔ تاہم اس کی اصل قیمت لبنان کو ادا کرنا پڑے گی، کیونکہ ملک یا تو داخلی تصادم اور خانہ جنگی کے خطرے سے دوچار ہوگا یا پھر اسے صہیونی قبضے اور مسلسل بیرونی دباؤ کو ایک مستقل حقیقت کے طور پر قبول کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اس معاہدے کو امن کی دستاویز نہیں بلکہ مستقبل کے ایک خطرناک بحران کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ