مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عاشورہ محرم کے موقع پر ایران کے مختلف شہروں اور علاقوں میں لاکھوں عزادار حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی یاد میں عزاداری میں مصروف ہیں۔ مساجد، حسینیوں، امام بارگاہوں اور عزا خانوں میں جمع ہو کر سیدالشہداءؑ اور ان کے وفادار ساتھیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔
ملک کے مختلف علاقوں میں عزاداری کی تقریبات مقامی روایات اور رسوم کے مطابق سینہ زنی اور زنجیر زنی کے اجتماعات اور علم برداری اور نخل گردانی کی روایتی رسومات ادا کی جارہی ہیں۔
انتہائی جوش و جذبے اور شعورِ حسینی کے ساتھ مجالس اور جلوسوں کے دوران فضا "یا حسینؑ" کی صداؤں سے گونج رہی ہے۔ عاشورۂ حسینی کے موقع پر ملک بھر میں غمِ حسینؑ کی یہ عظیم یادگار تقریبات عقیدت، اتحاد اور دینی وابستگی کا شاندار مظہر ہیں۔
ایلام میں عزاداری امام حسین علیہ السلام کا روح پرور منظر
یاسوج میں عاشوراء حسینی کے موقع پر جلوس اور سینہ زنی
بیرجند: عزاردای امام حسین علیہ السلام کا سلسلہ جاری
روضۂ امام رضاؑ عاشورۂ حسینی کے موقع پر غم و اندوہ میں ڈوب گیا
عاشورۂ حسینی کے دن اہلِ بیتؑ سے محبت کرنے والے عقیدت مند دلوں میں غمِ حسینؑ لیے روضۂ مبارک امام رضاؑ میں حاضر ہوئے اور مظلومِ کربلا حضرت امام حسینؑ کی شہادت کا پرسہ پیش کررہے ہیں۔
عاشورۂ حسینی کے موقع پر حرمِ رضوی میں خصوصی عزاداری پروگرام کا آغاز صبح 8 بجے رواقِ امام خمینیؒ میں ہوا۔ اس کے بعد اہلِ بیتؑ کے دلسوز شاعر، حجت الاسلام روح اللہ مؤید نے منظوم مرثیے کے ذریعے سیدالشہداءؑ کے مصائب بیان کیے۔
زیارتِ عاشورا کی تلاوت اور حضرت اباعبداللہ الحسینؑ کی شہادت کے غم میں مرثیہ خوانی بھی پروگرام کا حصہ تھی، جسے ذاکرانِ اہلِ بیتؑ رضا نادی، مرتضیٰ اسلامی نژاد اور ابراہیم احمدی نے اپنے مخصوص انداز میں پیش کیا۔
حرمِ مطہر رضوی کے صحنِ انقلاب میں بھی خصوصی مجلسِ عزا منعقد ہوئی۔ یہ پروگرام دو اوقات میں منعقد کیا گیا؛ صبح 7 بجے سے 11 بجے تک اور شام 4 بجے سے 6 بجے تک، جس میں بڑی تعداد میں عزاداران حسینی نے شرکت کی۔
اس موقع پر اہلِ بیتؑ کے مرثیہ خواں حمید عطائی نسب اور محمد کاظم ضمیر خرسندی نے بھی حضرت سیدالشہداءؑ کی شہادت کے غم میں مرثیہ خوانی کی اور عزاداروں کے دلوں کو سوگِ حسینؑ سے مزید بھر دیا۔
آپ کا تبصرہ