مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں مظاہرین نے غزہ پر صہیونی حکومت کے حملوں، جنگ بندی کی خلاف ورزی اور انسانی امداد پر پابندیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے اسرائیل پر دباؤ بڑھانے اور اسلحے کی فروخت روکنے کا مطالبہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں سینکڑوں مظاہرین نے صہیونی حکومت کے فلسطینی عوام کے خلاف اقدامات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
یہ احتجاج شہر کے اودن پلان چوک میں متعدد غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے منعقد ہوا، جہاں شرکا نے غزہ پر حملے روکنے، انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹیں ختم کرنے اور جنگ بندی کی پابندی کرنے کے مطالبات پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
مظاہرین نے سویڈن کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صہیونی حکومت پر سفارتی دباؤ میں اضافہ کرے اور اسے اسلحہ فروخت کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے۔
احتجاج کے موقع پر سویڈش سماجی کارکن ایزابیلا لوندگرین نے کہا کہ غزہ میں جاری صورتحال کوئی تنازع نہیں بلکہ نسل کشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی کئی دہائیوں سے اپنی سرزمین سے محروم کیے جا رہے ہیں اور موجودہ جنگ بندی بھی غزہ کے شہریوں کے لیے حقیقی تحفظ فراہم نہیں کر سکی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ بظاہر جنگ بندی موجود ہے، لیکن فلسطینی بچوں اور عام شہریوں پر قاتلانہ حملے اور گرفتاریاں آج بھی جاری ہیں۔
آپ کا تبصرہ