مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں شہید امام خامنہ ای کی تاریخی تشییع ایک عوامی اور مذہبی تقریب سے بڑھ کر ایک ہمہ جہت سیاسی، سماجی اور جغرافیائی اہمیت کا حامل عالمی واقعہ بن گئی۔ اس تقریب کو نہ صرف ایرانی عوام بلکہ مختلف ممالک کی حکومتوں، بین الاقوامی میڈیا، علاقائی رائے عامہ اور عالمی مبصرین نے غیر معمولی توجہ کے ساتھ دیکھا۔
تشییع میں مختلف ممالک کے سرکاری وفود کی شرکت، مغربی، عرب، روسی اور چینی ذرائع ابلاغ کی وسیع کوریج اور عالمی تجزیہ کاروں کی دلچسپی نے اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ شہید امام خامنہ ای کی تشییع بین الاقوامی سیاسی ابلاغ کا ایک اہم اور موثر مظہر بن گئی۔
بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں اس نوعیت کے قومی اجتماعات صرف داخلی اہمیت نہیں رکھتے بلکہ بیرونی دنیا تک بھی اہم پیغامات پہنچاتے ہیں۔ ایران نے بھی اس موقع پر کسی سرکاری بیان کے بغیر عوامی شرکت، منظم انتظامات، عالمی وفود کی موجودگی اور تقریب کی شان و وقار کے ذریعے دنیا کو متعدد اسٹریٹجک پیغامات دیے۔
اس تقریب کا سب سے نمایاں پیغام اسلامی جمہوریہ ایران کے سیاسی نظام کے استحکام اور تسلسل کا اظہار تھا۔ گزشتہ برسوں خصوصاً جنگ کے دوران بعض مغربی ذرائع ابلاغ اور تحقیقی اداروں نے یہ تاثر دیا تھا کہ رہبر انقلاب کی عدم موجودگی ایران میں اقتدار کے خلا، داخلی کشمکش اور سیاسی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔ تاہم کئی روز تک جاری رہنے والی منظم تقریبات، اعلیٰ حکومتی شخصیات کی مسلسل موجودگی، ریاستی اداروں کی معمول کے مطابق فعالیت، موثر سکیورٹی انتظامات اور غیر ملکی وفود کی شرکت نے ان تمام قیاس آرائیوں کو غلط ثابت کر دیا۔
اس منظر نے عالمی برادری کو واضح پیغام دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا نظام کسی ایک شخصیت پر منحصر نہیں بلکہ مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے، منظم انتظامی صلاحیت اور سیاسی استحکام کی بنیاد پر ملک کے امور کو آگے بڑھانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسرا اسٹریٹجک پیغام سماجی سرمایہ اور عوامی متحرک سازی کی صلاحیت کا مظاہرہ تھا۔ آج کے بین الاقوامی نظام میں کسی حکومت کی مقبولیت اور جواز کا اندازہ صرف انتخابات یا قانونی اشاریوں سے نہیں لگایا جاتا بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ عوام کو کس حد تک منظم اور متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ شہید امام خامنہ ای کی تشییع میں لاکھوں افراد کی بھرپور شرکت، ایسے وقت میں جب ایران جنگ اور بیرونی دباؤ کے دور سے گزر چکا تھا، دنیا کے لیے اس بات کا واضح اشارہ تھی کہ اسلامی جمہوریہ ایران اب بھی معاشرے کو منظم اور متحرک کرنے کی قابلِ ذکر صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد مغربی ذرائع ابلاغ نے، اپنے تنقیدی رویے کے باوجود، اپنی رپورٹس میں عوامی اجتماع کے غیر معمولی حجم اور تقریب کے منظم انعقاد کا اعتراف کیا۔
تیسرا اسٹریٹجک پیغام اندرونی انتشار کے مفروضے کی ناکامی تھا۔ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی حکمت عملی کی ایک بنیادی بنیاد یہ تصور تھا کہ بیرونی دباؤ میں اضافہ ایرانی معاشرے کو سیاسی نظام سے دور کر دے گا۔ تاہم تشییع کی عالمی اور بالخصوص علاقائی میڈیا میں بازگشت نے ثابت کیا کہ کم از کم حساس قومی اور سکیورٹی مواقع پر ایرانی معاشرے نے ان اندازوں کے برعکس طرز عمل اختیار کیا۔ بعض عرب ذرائع ابلاغ نے بھی "پرچم کے گرد اتحاد" کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا کہ بیرونی دباؤ نے اپنے منصوبہ سازوں کی توقعات کے برخلاف ایران میں داخلی یکجہتی کو مزید مضبوط کیا۔
چوتھا اسٹریٹجک پیغام خطے میں ایران کے مسلسل اور موثر کردار کا اظہار تھا۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ تقریباً کسی بھی بڑے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے اس تشییع کو صرف ایک داخلی تقریب کے طور پر پیش نہیں کیا۔ بیشتر رپورٹس میں تشییع کی کوریج کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز، محور مزاحمت، مستقبل کے مذاکرات، توانائی کے تحفظ اور مغربی ایشیا کی تزویراتی صورت حال جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی میڈیا کی نظر میں ایران اب بھی خطے کے سلامتی کے نظام کا ایک فیصلہ کن کھلاڑی ہے اور اس کی داخلی تقریبات کو بھی ان کے جغرافیائی اور سیاسی اثرات سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔
پانچواں اسٹریٹجک پیغام اسلامی جمہوریہ ایران کے علاقائی اتحادیوں کے نیٹ ورک کے تسلسل کا اظہار تھا۔ مختلف ممالک کے سرکاری وفود، مذہبی شخصیات، محور مزاحمت کے نمائندوں اور سرکاری حکام کی موجودگی نے یہ پیغام دیا کہ ایران کے علاقائی تعلقات داخلی حالات میں تبدیلی کے باوجود متاثر نہیں ہوئے۔ بین الاقوامی تعلقات میں اس نوعیت کی تقریبات میں غیر ملکی حکام کی موجودگی محض ایک رسمی اقدام نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک سیاسی مؤقف اور تعلقات کے تسلسل کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ متعدد مغربی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں شریک غیر ملکی وفود کی طویل فہرست کو نمایاں طور پر اجاگر کیا۔
چھٹا اسٹریٹجک پیغام اسلامی جمہوریہ ایران کی علامت سازی کی طاقت کا مظاہرہ تھا۔ میڈیا کے موجودہ دور میں تصویری مناظر کسی بھی دوسرے ذریعے سے زیادہ موثر انداز میں پیغام پہنچاتے ہیں۔ لاکھوں سوگواروں کی موجودگی، بلند ہوتے پرچم، تقریب کا منظم انعقاد، مختلف نسلوں کی شرکت، مذہبی رسومات اور عالمی ذرائع ابلاغ کی براہ راست کوریج نے سیاسی اور ثقافتی علامتوں کا ایسا مجموعہ تشکیل دیا جس کے اثرات کسی بھی سرکاری بیان سے کہیں زیادہ گہرے تھے۔ درحقیقت اسلامی جمہوریہ ایران نے اس تقریب میں نرم طاقت کے ذریعے دنیا تک اپنے پیغامات پہنچائے، جو قائل کرنے، مثبت تاثر قائم کرنے اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت پر مبنی تھی۔
ساتواں اسٹریٹجک پیغام بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ایران کے بیانیے کی ازسرنو تشکیل تھا۔ گزشتہ چند برسوں میں عالمی رائے عامہ کا ایک بڑا حصہ ایران کو زیادہ تر بحرانوں، پابندیوں اور سلامتی سے متعلق کشیدگی کے تناظر میں دیکھتا رہا ہے۔ تاہم اس تقریب نے بیرونی دنیا کے سامنے ایران کی ایک مختلف تصویر پیش کی؛ ایک ایسے ملک کی تصویر جو اپنی تاریخ کے نہایت حساس مرحلے میں لاکھوں افراد کو منظم ماحول میں یکجا کرنے، تقریب کی مکمل سکیورٹی برقرار رکھنے اور بیک وقت درجنوں غیر ملکی وفود کی میزبانی کرنے میں کامیاب رہا۔ اگرچہ بہت سے مغربی ذرائع ابلاغ نے اس حقیقت کو اپنے تنقیدی تجزیوں کے دائرے میں بیان کرنے کی کوشش کی، لیکن عالمی عوام تک پہنچنے والی تصویر خود ایک مختلف اور موثر پیغام کی حامل تھی۔
آٹھواں اسٹریٹجک پیغام مذہبی اور قومی شناخت کے باہمی ربط پر زور دینا تھا۔ اس تقریب کی نمایاں خصوصیات میں مذہبی، قومی اور انقلابی علامتوں کا باہم امتزاج شامل تھا۔ ایران کے قومی پرچم کے ساتھ مذہبی پرچموں کی موجودگی، معاشرے کے مختلف طبقات کی شرکت، خاندانوں کی وسیع موجودگی اور نوجوان نسل کی بھرپور شمولیت نے مذہبی اور قومی شناخت کے امتزاج کی ایک واضح تصویر پیش کی۔ یہ منظر بہت سے غیر ملکی مبصرین کے لیے اس لحاظ سے اہم تھا کہ اس نے ظاہر کیا کہ ایرانی معاشرے کی سیاسی شناخت کو صرف طاقت کی سیاست کے تناظر میں نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ ثقافتی، تاریخی اور مذہبی عناصر آج بھی سماجی یکجہتی کے اہم ستون ہیں۔
نواں اسٹریٹجک پیغام حریفوں کو باز رکھنے کا اشارہ تھا۔ ایسے حالات میں، جب ایران کو اب بھی مختلف سکیورٹی خطرات کا سامنا تھا، اس تقریب کا انعقاد، اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی موجودگی، متعدد حفاظتی انتظامات اور پورے پروگرام کا پرامن اور منظم انداز میں انعقاد اس بات کا واضح پیغام تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نہ صرف سکیورٹی انتشار سے محفوظ ہے بلکہ داخلی اور بیرونی خطرات کا بیک وقت موثر انداز میں مقابلہ اور انتظام کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ طاقت کے توازن کے تناظر میں ایران کی پیش رفت کا جائزہ لینے والے حلقوں کے لیے یہ پیغام خاص اہمیت کا حامل تھا۔
آخر میں، اس تقریب کی سب سے اہم کامیابی بیانیے کے میدان میں برتری حاصل کرنا تھی۔ آج کی دنیا میں ممالک کے درمیان مقابلہ صرف عسکری یا اقتصادی میدان تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کا ایک بڑا حصہ بیانیہ سازی، تصور سازی اور رائے عامہ کی تشکیل کے میدان میں ہوتا ہے۔ اس تقریب کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران نے استحکام، قومی یکجہتی اور نظام کے تسلسل پر مبنی اپنے بیانیے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی، اور دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنقیدی رویہ رکھنے والے ذرائع ابلاغ بھی ان حقائق کے ایک اہم حصے کی عکاسی سے گریز نہ کر سکے۔
اس تناظر میں شہید رہبر انقلاب کی تشییع کو حالیہ برسوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کی اہم ترین اسٹریٹجک ابلاغی سرگرمیوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے سرکاری پروپیگنڈے پر انحصار کیے بغیر عوام کی غیر معمولی شرکت، موثر تصویری اظہار، عالمی وفود کی موجودگی اور وسیع بین الاقوامی میڈیا کوریج کے ذریعے عالمی رائے عامہ تک سیاسی استحکام، سماجی سرمایہ، علاقائی اثر و رسوخ کے تسلسل اور مخالفین کے بعض اندازوں کی ناکامی جیسے واضح پیغامات پہنچائے۔
اسی لیے اس تقریب کی اہمیت صرف اس کے تاریخی یا جذباتی پہلو تک محدود نہیں بلکہ اسے ایران اور اس کے بین الاقوامی حریفوں کے درمیان بیانیوں کے مقابلے اور ادراکی جنگ کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے، جہاں ہر تصویر اور ہر بیانیہ کسی ملک کی طاقت کے عالمی تصور کو تشکیل دینے میں ایک سیاسی یا سلامتی سے متعلق اقدام جتنا اثر رکھ سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ