مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی بحریہ کے نائب سربراہ ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے کہا ہے کہ ایرانی ساحل غیر ملکی افواج کے لیے جہنم ثابت ہوں گی جہاں سے واپسی ممکن نہیں اور دشمن اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے سرکاری ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت پر ایرانی عوام اور عالم اسلام سے تعزیت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کی تقریباً 70 فیصد سطح پانی پر مشتمل ہے جبکہ ایران کو شمال اور جنوب دونوں سمتوں میں سمندر تک رسائی حاصل ہے اور ملک کے پاس تقریباً 2700 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنی بحری صلاحیتوں اور سمندری وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ان کے مطابق سمندر سے وابستہ ممالک، جن میں ایران بھی شامل ہے، اپنی تقریباً 90 فیصد درآمدات اور برآمدات سمندری راستوں سے انجام دیتے ہیں کیونکہ یہ طریقہ دیگر ذرائع کے مقابلے میں زیادہ آسان اور کم خرچ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سمندر خوراک، فوسل ایندھن، قابل تجدید توانائی، ہوا اور سمندری لہروں سمیت بے شمار قدرتی وسائل کا اہم ذریعہ ہے اور عالمی طاقتوں نے اپنی ترقی میں سمندری قوت سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔
ایڈمرل سیاری نے کہا کہ شہید رہبر انقلاب اسلامی نے بھی مختلف مواقع پر سمندری طاقت اور سمندر پر مبنی ترقی کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ 1989 میں انہوں نے کہا تھا کہ سمندر ملک کی مجموعی پالیسیوں پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ 1997 میں بھی انہوں نے اس شعبے میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے سمندری وسائل سے بہتر استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ جنگ کے دوران بھی بحیرہ عمان کی اسٹریٹجک اہمیت ایک بار پھر واضح ہوئی، کیونکہ سمندری محاذ اور آبنائے ہرمز کا دفاع اسی علاقے سے انجام دیا گیا۔
ایڈمرل سیاری نے خبردار کیا کہ دشمن جانتا ہے اگر اس نے ایرانی ساحلوں پر اپنی افواج اتارنے کی کوشش کی تو وہ ایسی جنگ میں داخل ہوگا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
آپ کا تبصرہ