مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: روزنامہ ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے ساتھ جنگ، جو امریکی صدر کے بقول صرف تین ہفتے جاری رہنی تھی، چھ ماہ گزرنے کے بعد ایک طویل، تھکا دینے والی اور مہنگی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اخبار کے مطابق واشنگٹن نہ صرف اپنے ابتدائی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، بلکہ اس جنگ کے خطے اور عالمی معیشت پر بھی وسیع اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
ٹیلی گراف نے مزید لکھا ہے کہ ٹرمپ نے دنیا کی طاقتور ترین فوجی قوت کے مقابلے میں ایران کی مزاحمت کی صلاحیت کو کم سمجھا۔ یہاں تک کہ جو جنگ ٹرمپ کی سیاسی میراث کو مضبوط بنانے کے لیے تھی، اب وہ ان کے سیاسی ریکارڈ پر ایک منفی اور دیرپا داغ بن سکتی ہے۔
واشنگٹن جنگ جلد ختم کرنا چاہتا تھا، ایران نے اسے مہنگا بنا دیا
اس جنگ کے آغاز میں واشنگٹن کا اندازہ واضح تھا کہ ایران پر شدید فوجی حملے کرکے تہران کو مختصر مدت میں پسپائی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ یہ اندازہ اس بنیادی مفروضے پر قائم تھا کہ امریکہ اور ایران کی فوجی طاقت میں موجود بہت بڑا فرق تیزی سے سیاسی برتری میں تبدیل ہوجائے گا اور تہران کو مزاحمت جاری رکھنے کی بھاری قیمت قبول کرنا پڑے گی۔
لیکن جنگ کے میدان میں جو کچھ ہوا، وہ اس منظرنامے سے مختلف تھا۔ ایران نے اپنی فوجی اور تزویراتی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے جنگ کو ایک مختصر اور یکطرفہ کاروائی کے بجائے ایک مہنگی اور طویل کشمکش میں تبدیل کردیا۔
اس معاملے کا مطلب یہ نہیں کہ فوجی طاقت کے اعتبار سے ایران امریکہ کے برابر ہے؛ اصل معاملہ یہ ہے کہ تہران جنگ جاری رکھنے کی قیمت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے بھی بڑھانے میں کامیاب ہوا۔
غیر متوازن جنگوں میں یہی نکتہ فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔ نسبتاً کمزور فریق لازمی طور پر طاقتور فریق کو براہِ راست شکست دینے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ وہ اس کی فتح کی قیمت اتنی بڑھانے کی کوشش کرتا ہے کہ اپنے سیاسی اہداف کا حصول اس کے لیے مشکل ہوجائے۔
اگر واشنگٹن کا مقصد جنگ کو تیزی سے ختم کرکے اپنی شرائط منوانا تھا تو چھ ماہ تک جنگ کا جاری رہنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ کے ابتدائی اندازے جنگ کے میدان کی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔
امریکی فوجی برتری سیاسی فتح میں تبدیل نہ ہوسکی
امریکہ اب بھی فضائی طاقت، جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس، رسد اور حملہ کرنے کی صلاحیت کے اعتبار سے برتر مقام رکھتا ہے؛ لیکن جنگ محض فوجی طاقت کا کھیل نہیں ہوتی؛ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ فوجی طاقت کب اور کس طرح سیاسی نتیجے میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
واشنگٹن ممکن ہے اپنے اہداف کو تباہ کرنے اور شدید حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، لیکن اگر وہ اپنی فوجی برتری کے باوجود جنگ کو اپنی مقررہ مدت میں ختم نہ کرسکے اور مخالف فریق کو اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور نہ کرسکے تو اسے ایک اہم تزویراتی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
درحقیقت، جنگ کا چھ ماہ تک جاری رہنا ایک اہم اشارہ ہے۔ جو جنگ صرف تین ہفتوں میں ختم ہونے والی تھی، وہ اب ایک طویل بحران میں تبدیل ہوچکی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ جنگ کو اپنے متوقع وقت اور سیاسی فریم ورک کے مطابق قابو میں رکھنے میں ناکام رہا ہے۔
اس تناظر میں اصل مسئلہ صرف ایران کو پہنچنے والا نقصان نہیں، بلکہ وہ قیمت بھی ہے جو جنگ جاری رہنے کی صورت میں خود امریکہ کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ فوجی اخراجات، فوجی دستوں کی تعیناتی، مسلسل جنگی تیاری برقرار رکھنا، اقتصادی دباؤ اور سیاسی اثرات، وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتے جاتے ہیں۔
جنگ جتنی طویل ہوگی، ادا کی جانے والی قیمت اور متوقع سیاسی فائدے کے درمیان فاصلہ بھی اتنا ہی بڑھ سکتا ہے۔
ایران نے امریکہ کے خلاف ’’قیمت کی مساوات‘‘ تبدیل کردی
اس جنگ کی سب سے اہم تبدیلی کو ’’قیمت کی مساوات‘‘ میں آنے والی تبدیلی کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ امریکہ اس تصور کے ساتھ میدان میں اترا تھا کہ وہ جنگ کی قیمت ایران پر مسلط کرسکتا ہے، لیکن ایران یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوا کہ جنگ جاری رکھنا امریکہ کے لیے بھی قیمت کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔ شاید یہی اس معاملے کا سب سے اہم پہلو ہے۔ ایران امریکہ کے ساتھ فوجی طاقت کا توازن تبدیل کرنے کے لیے جنگ میں داخل نہیں ہوا؛ ایسا دعویٰ دونوں فریقوں کی طاقت کے حقیقی توازن سے مطابقت نہیں رکھتا۔ زیادہ مؤثر مقصد یہ ہے کہ امریکہ کی فوجی برتری کو ایک آسان اور کم قیمت سیاسی فتح میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔
ایران فوجی دباؤ کے مقابلے میں مزاحمت اور جوابی کاروائی کی صلاحیت برقرار رکھتے ہوئے واشنگٹن کے غلط اندازوں کی قیمت بڑھانے میں کامیاب ہوا ہے۔ یہی صورتحال مستقبل میں امریکہ کے فیصلوں پر بھی اثرانداز ہوسکتی ہے۔
کیونکہ اگر ایک بڑی طاقت کو یہ معلوم ہو کہ ایران کے خلاف جنگ میں داخل ہونا لازمی طور پر فوری فتح کا باعث نہیں بنے گا، بلکہ اسے ایک طویل اور مہنگی جنگ کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے تو مستقبل میں دوبارہ فوجی طاقت استعمال کرنے کا فیصلہ اس کے لیے کہیں زیادہ مشکل ہو جائے گا۔ یہ معاملہ صرف امریکہ تک محدود نہیں ہے۔ واشنگٹن کے دیگر اتحادی اور عالمی طاقتیں بھی اس جنگ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس سے ایک اہم پیغام اخذ کر رہے ہیں: فوجی برتری کا حامل ہونا لازمی طور پر اس بات کی ضمانت نہیں کہ جنگ کا سیاسی نتیجہ بھی اپنی مرضی کے مطابق طے کیا جاسکے۔
نتیجہ
ایران اور امریکہ کے درمیان چھ ماہ سے جاری جنگ میں سب سے اہم مسئلہ صرف جنگ کا طول پکڑنا نہیں ہے، بلکہ ایک تزویراتی اندازے کی ناکامی ہے۔ واشنگٹن کا خیال تھا کہ وہ اپنی فوجی برتری کو استعمال کرتے ہوئے ایک مختصر اور قابو میں رکھی جانے والی جنگ کو سیاسی فتح میں تبدیل کرسکتا ہے، لیکن ایران اس مساوات کو تبدیل کرنے اور جنگ جاری رکھنے کی قیمت امریکہ کے لیے بڑھانے میں کامیاب رہا۔
لہٰذا امریکہ کی شکست کو صرف فوجی شکست کے مفہوم میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اہم بات یہ ہے کہ بے پناہ فوجی برتری رکھنے کے باوجود اپنے سیاسی اہداف کو تیزی سے حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی۔ جو جنگ صرف تین ہفتے جاری رہنے والی تھی، وہ چھ ماہ گزرنے کے باوجود، آج بھی جاری ہے۔ یہ حقیقت اس بات کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ واشنگٹن کے ابتدائی اندازوں کا ایک اہم حصہ پورا نہیں ہوسکا۔
آخرکار، اس جنگ سے امریکہ کے لیے شاید سب سے اہم پیغام یہ ہو کہ صرف فوجی طاقت پر انحصار کرتے ہوئے ایران جیسے ملک کو فوری طور پر تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ ایران یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوا ہے کہ ایک طاقتور قوت کے مقابلے میں بھی جنگ کی قیمت بڑھا کر مخالف فریق کی فیصلہ سازی کے دائرے کو محدود کیا جاسکتا ہے۔
اگر یہ صورتحال اسی طرح جاری رہی تو معاملہ صرف ایران اور امریکہ کی جنگ تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ واشنگٹن کی تزویراتی ساکھ اور عالمی نظام میں اپنی مرضی مسلط کرنے کی امریکی صلاحیت کے بارے میں قائم تصور بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔
آپ کا تبصرہ