مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے میلاد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہفتہ وحدت اسلامی کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ مطلوبہ اسلامی وحدت ایسی وحدت ہے جو مسلمانوں کو طاقت فراہم کرے اور بالخصوص حکومتوں اور عوام کے درمیان اتحاد اور تعاون کو عملی شکل دے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی وحدت کا مقصد امت مسلمہ کو غلامی اور بیگانگی کی زنجیروں سے آزاد کرانا اور فرقہ وارانہ، مذہبی اور سیاسی اختلافات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرنا ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے زور دے کر کہا کہ اسلامی وحدت کا مطلب امریکہ اور اسرائیل کے ان تقسیم اور تفرقہ انگیز منصوبوں کا مقابلہ کرنا ہے جن کا مقصد ہمارے خطے کو تقسیم کرنا ہے۔ اسلامی وحدت کا مطلب امت مسلمہ کے حقیقی دشمن پر توجہ مرکوز کرنا اور داخلی اختلافات سے آگے بڑھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی وحدت کے دو نتائج ہیں؛ پہلا یہ کہ اختلافات کو روکا جائے اور اتحاد قائم کیا جائے، جبکہ دوسرا یہ کہ اس اتحاد کو قومی اور انسانی سطح تک وسعت دی جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم فلسطین کے بنیادی مسئلے پر متحد ہوں گے، جو پورے خطے کے مستقبل کی عکاسی کرتا ہے۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کوئی فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں بلکہ ایک اسلامی، قومی، عربی اور انسانی مسئلہ ہے۔ ہم عرب اور اسلامی ممالک اور ان کے عوام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متحد ہوجائیں اور ایسے وقت میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہ بیٹھیں جب دشمن ہمارے خطے میں داخل ہورہے ہیں اور ان کے بھائی مصائب کا شکار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے خطے کو اس کے ممالک کے درمیان مفاہمت کے ذریعے محفوظ بنایا جائے اور استکبار کا خاتمہ کیا جائے۔ امریکہ خطے پر تسلط قائم کرنے اور اسرائیل بزرگ کے قیام کے لیے حالات سازگار بنانے میں مصروف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دشمنوں نے جارحیت کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا، لیکن وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور آئندہ بھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ فلسطین، لبنان، ایران، یمن اور عراق میں دی جانے والی عظیم قربانیوں نے خطے کو نشانہ بنانے والے صہیونی امریکی منصوبے کو روک دیا ہے۔ ہم نے بہت سی قربانیاں دی ہیں اور ہم شکست نہیں کھائیں گے۔ حقیقی شکست اس وقت ہوگی جب ہم تسلیم ہوجائیں اور اپنے ہی ہاتھوں سب کچھ دشمنوں کے حوالے کردیں تاکہ وہ ہم سے ہر چیز چھین لیں۔
شیخ نعیم قاسم نے لبنان کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 27 اکتوبر کے معاہدے سے دستبردار ہوکر دشمن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا لبنان کے لیے باعث فخر نہیں ہے۔ لبنانی حکومت کے مذاکرات نے جنگ نہیں روکی بلکہ اسے جواز فراہم کیا ہے۔ ان کے بقول یہ دشمن کے سامنے کسی بھی قسم کی رعایت حاصل کیے بغیر ذلت آمیز تسلیم کیے جانے کے مترادف ہے۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے لبنانی حکومت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کو ملک کی خودمختاری سے دستبردار ہونے کا اختیار کس نے دیا ہے؟ آپ اقتدار میں اپنی نشستیں برقرار رکھنے اور اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والے امریکہ کو خوش کرنے کے لیے ان مذاکرات کی قیمت ملک کے وسائل سے ادا کررہے ہیں۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہم فریم ورک معاہدے کے مخالف ہیں اور اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، کیونکہ یہ غیر شرعی، غیر قانونی اور ذلت آمیز ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ہم سربلند رہیں گے اور کبھی تسلیم نہیں ہوں گے، دشمن جو چاہے اور جو کرنا چاہے کرتا رہے۔
آپ کا تبصرہ