مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی محققین نے شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کو ذخیرہ کرنے کے مسئلے کے حل کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اس سلسلے میں گیلان یونیورسٹی میں ایران نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کی حمایت سے مائکروبیل فیول سیلز اور سپر کیپیسٹرز میں بیک وقت استعمال کے لیے دوہری مقاصد والے الیکٹروڈز کی ڈیزائننگ اور تیاری کے عنوان سے ایک تحقیقی منصوبہ مکمل کیا گیا ہے۔
صدرِ پزشکیان کے دفتر کے مواصلاتی و اطلاعاتی مرکز کے مطابق ڈاکٹر مریم فرہمند حبیبی نے مجید آروند کی نگرانی میں اپنی پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق کے دوران اس منصوبے پر کام کیا۔
فرہمند حبیبی نے کہا کہ فوسل ایندھن کے بڑھتے ہوئے استعمال اور توانائی کے جدید ذرائع کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے باعث توانائی کے شعبے میں نئے حل تلاش کرنا پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ غیر قابل تجدید توانائی کے ذخائر میں کمی، ماحولیاتی تباہی اور توانائی ذخیرہ کرنے کے جدید نظام تیار کرنے کی ضرورت نے توانائی کی تبدیلی اور ذخیرہ کاری کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق و ترقی کی اہمیت بڑھا دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مائکروبیل فیول سیلز اس شعبے میں ابھرنے والی نئی ٹیکنالوجیز میں شامل ہیں، جو خرد جانداروں کی سرگرمیوں سے نامیاتی مادوں کو تحلیل کرکے ان میں موجود کیمیائی توانائی کو بیک وقت برقی توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جانب سپر کیپیسٹرز بھی اپنی زیادہ طاقت کی کثافت، مناسب سائیکلنگ عمر، بہتر تحفظ اور کم دیکھ بھال کے اخراجات کے باعث توانائی ذخیرہ کرنے کے اہم ذرائع میں شمار ہوتے ہیں۔
ایرانی محقق نے الیکٹروڈز کے کردار کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مائکروبیل فیول سیلز اور سپر کیپیسٹرز کی برقی کیمیائی خصوصیات بڑی حد تک استعمال ہونے والے الیکٹروڈ کی خصوصیات پر منحصر ہوتی ہیں۔ اسی لیے اعلی کارکردگی کے حامل نئے الیکٹروڈ مواد کی ڈیزائننگ اور تیاری ان ٹیکنالوجیز کے دائرۂ استعمال کو وسعت دینے کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تحقیق میں ایسے دوہری مقاصد والے الیکٹرو کیٹالسٹس کی تیاری پر توجہ دی گئی ہے جو فیول سیلز میں آکسیجن کی کمی کے عمل، جو توانائی کی پیداوار کے لیے بنیادی مراحل میں سے ایک ہے، میں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ سپر کیپیسٹرز میں توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔
ان کے مطابق اس طریقہ کار کا مقصد ایک ہی ساخت میں توانائی پیدا کرنے کے لیے درکار کیٹالیٹک سرگرمی اور توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو یکجا کرنا ہے۔
فرہمند حبیبی نے کہا کہ الیکٹروڈز کی ساخت اور شکل و صورت کی انجینئرنگ ان کی کارکردگی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے اس منصوبے میں ایسے الیکٹروڈز تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن کی ساخت مسام دار اور مخصوص سطحی رقبہ زیادہ ہو، تاکہ مائکروبیل فیول سیلز اور سپر کیپیسٹرز میں ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاسکے۔
انہوں نے توانائی کے قابلِ تجدید ذرائع کے حوالے سے کہا کہ سورج، ہوا اور زمین کی حرارت جیسے ذرائع سے توانائی کی پیداوار میں قدرتی اتار چڑھاؤ کے باعث ہمیشہ ذخیرہ کاری کا چیلنج موجود رہتا ہے۔ پیداوار کے زیادہ ہونے کے اوقات میں حاصل ہونے والی توانائی کو ذخیرہ کرکے پیداوار کم ہونے کے وقت استعمال کرنا توانائی کے بحران سے نمٹنے کے اہم طریقوں میں شمار ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیول سیلز اور برقی کیمیائی کیپیسٹرز جیسے برقی کیمیائی نظام اس شعبے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ایرانی محقق نے روایتی کیٹالسٹس کی محدودیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پلاٹینم جیسی قیمتی دھاتوں پر مبنی تجارتی کیٹالسٹس کی زیادہ قیمت اور محدود وسائل ان ٹیکنالوجیز کے وسیع پیمانے پر استعمال میں رکاوٹ ہیں۔ اسی وجہ سے سستی اور اقتصادی دھاتوں پر مبنی مؤثر الیکٹرو کیٹالسٹس کی تیاری حالیہ برسوں میں تحقیق کا ایک اہم میدان بن گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوہری مقاصد والے الیکٹرو کیٹالسٹس نظاموں کی لاگت اور پیچیدگی کم کرنے، آلات کی پائیداری اور لچک بڑھانے اور ایک ہی الیکٹروڈ کو متعدد مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے امکان کے باعث روایتی ساختوں کے مقابلے میں نمایاں فوائد فراہم کرسکتے ہیں۔
فرہمند حبیبی نے کہا کہ مائکروبیل فیول سیلز اور سپر کیپیسٹرز کے وسیع اقتصادی اور صنعتی استعمال کے پیش نظر مؤثر اور پائیدار الیکٹروڈز کی تیاری ان ٹیکنالوجیز کو تجارتی سطح پر متعارف کرانے کے لیے ایک ضروری قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تحقیق کا مقصد جدید الیکٹروڈ ساختیں پیش کرکے صاف توانائی کی تبدیلی اور ذخیرہ کاری کے نظام کی ترقی کی راہ مزید ہموار کرنا ہے۔
آپ کا تبصرہ