مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ معاہدہ خطے کی سلامتی سے متعلق سوچ میں بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف جنگ میں ناکامی، امریکی حفاظتی چھتری پر علاقائی ممالک کے کم ہوتے اعتماد اور تل ابیب سے دور رہتے ہوئے متبادل شراکت دار تلاش کرنے کی کوشش ہے۔
لبنانی اخبار الاخبار نے مکہ معاہدے کے بارے میں صہیونی حکومت کی تشویش پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسرائیل سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے ’’مکہ سہ فریقی معاہدے‘‘ کو اپنے لیے براہِ راست فوجی خطرہ نہیں سمجھتا، تاہم یہ تسلیم کرتا ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگی مہم کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے نہ صرف مشرق وسطی کا نقشہ تبدیل کرنے کا منصوبہ ناکام ہوگیا بلکہ یہ بھی واضح کر دیا کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے تحفظ کے لیے امریکی دفاعی چھتری مؤثر نہیں، جس کے باعث یہ ممالک ایسے نئے شراکت داروں کی تلاش پر مجبور ہوئے ہیں جو انہیں متبادل یا اضافی حفاظتی سہارا فراہم کر سکیں۔
امریکی دفاعی چھتری پر اعتماد میں کمی
تل ابیب اس اتحاد کو تہران کے خلاف بننے والے کسی بلاک کے طور پر نہیں دیکھتا، کیونکہ اس کے خیال میں ریاض کا اسرائیل سے مدد طلب کرنے کے بجائے انقرہ اور اسلام آباد کی جانب رجوع کرنا ایران کے لیے ایک اطمینان بخش پیغام رکھتا ہے کہ یہ اتحاد دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد ایران کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی نہیں۔
صہیونی حکومت کے مطابق یہ معاہدہ سعودی عرب کی طاقت سے زیادہ اس کی کمزوری اور عدم تحفظ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس تشویش کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ ایران امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ سے زیادہ جرأت اور عزم کے ساتھ نکلا ہے۔ ایران نے خطے میں اپنے مؤقف کے لیے فوجی دباؤ کے استعمال کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں خلیج فارس کے ممالک اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے مزید شراکت داروں کی تلاش پر مجبور ہوئے ہیں۔
اس صورتحال میں پاکستان خطے سے باہر ایک اضافی حفاظتی سہارا فراہم کرنے والے ملک کے طور پر سامنے آتا ہے، تاہم ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اسلام آباد اس اتحاد کو ایران کے خلاف کسی دشمنانہ اقدام کے طور پر پیش کرنے سے گریز کر رہا ہے، خصوصاً اس لیے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان کوئی دشمنانہ تعلقات نہیں ہیں۔ ترکیہ کے حوالے سے بھی اس کا مقصد واضح ہے؛ انقرہ خطے میں اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے اور اسے امید ہے کہ اس کی فوجی طاقت اور صلاحیتیں اسے اس مقصد کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے میں مدد دیں گی۔
تل ابیب سے دور علاقائی شراکت داری
تل ابیب کے نقطۂ نظر سے مکہ معاہدے کے اعلان کے ساتھ ہی اسرائیل نے خطے میں ایران کو مرکزی سکیورٹی اور سیاسی خطرے کے طور پر پیش کرتے ہوئے اپنے گرد علاقائی اتحاد تشکیل دینے کی امیدوں کا ایک اور حصہ کھو دیا ہے۔ عرب ممالک کا تل ابیب سے دور رہتے ہوئے علاقائی شراکت داری کی طرف بڑھنا اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ یہ ممالک اسرائیل کو محفوظ پناہ گاہ نہیں بلکہ ایک ایسے مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے فاصلہ رکھنا ضروری ہے۔
صہیونی کابینہ نے معاہدے کے اعلان پر محتاط ردعمل اختیار کیا ہے اور اب تک اسے مسترد کرنے یا خطرہ قرار دینے کے حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ تاہم اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر برائے امور تارکین وطن عمیحائی شیکلی نے متحدہ عرب امارات، قبرص، یونان اور صومالی لینڈ کے ساتھ ایک اتحاد قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کے بقول خطرناک سنی اتحاد کا مقابلہ کیا جا سکے۔
مکہ معاہدہ؛ اسرائیل کے لیے نئی تشویش
الاخبار کے مطابق تل ابیب میں فی الحال مکہ معاہدے کو امریکہ کے متبادل کے طور پر کسی نئے حفاظتی نظام کے آغاز کے طور پر نہیں بلکہ امریکہ کے لیے ایک انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی یہ معاہدہ ایران اور اس کے اتحادیوں کو سعودی عرب کے خلاف دشمنانہ اقدامات سے گریز پر آمادہ کرنے کی ایک بالواسطہ کوشش بھی سمجھا جا رہا ہے۔
یہ معاہدہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ سعودی عرب مستقبل میں تل ابیب کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی میز پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ مطالبات اور بہتر شرائط کے ساتھ آئے گا اور اس سہ فریقی حفاظتی نظام کے قیام سے پہلے پیش کی جانے والی تجاویز کو قبول نہیں کرے گا۔
تل ابیب کے نقطۂ نظر سے مکہ معاہدہ ایک طرف عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان مزید فاصلے کا باعث بن رہا ہے، جبکہ دوسری طرف یہ بھی ظاہر کر رہا ہے کہ عرب ممالک ایران کو مشتعل کرنے سے گریز کے معاملے میں خاصی احتیاط برت رہے ہیں، اور یہی وہ صورتحال ہے جس نے اسرائیلی حکومت کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ