24 ستمبر، 2026، 9:14 PM

نیویارک میں خوف کا ماحول؛ نتن یاہو کا طیارہ دور افتادہ فوجی ہوائی اڈے پر اتار دیا گیا

نیویارک میں خوف کا ماحول؛ نتن یاہو کا طیارہ دور افتادہ فوجی ہوائی اڈے پر اتار دیا گیا

اسرائیلی میڈیا کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث نتن یاہو کو نیویارک کے ایک دور افتادہ فوجی ہوائی اڈے پر اتارا گیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کو امریکہ کے دورے کے دوران سکیورٹی خدشات کے پیش نظر نیویارک کے ایک دور افتادہ اور فوجی ہوائی اڈے پر اتارا گیا۔

اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے بتایا کہ بنیامین نتن یاہو کے طیارے نے امریکہ کے سفر کے دوران سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نیویارک کے ایک دور افتادہ فوجی ہوائی اڈے پر لینڈنگ کی۔

نتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم آج رات مقبوضہ فلسطین کے وقت کے مطابق 21 بجے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔

نتن یاہو کے دفتر کے مطابق نیویارک کے دورے کے دوران وہ ارجنٹائن، بولیویا، پیراگوئے، پاناما اور ایتھوپیا کے صدور اور کولمبیا کے نائب صدر سے ملاقات کریں گے۔ نتن یاہو کی یونان، سلووینیا اور پاپوا نیو گنی کے وزرائے اعظم سے بھی ملاقات اور بات چیت متوقع ہے۔

دوسری جانب بدھ کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے قریب اسرائیل کے حامیوں اور صہیونیت مخالف مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق بنیامین نتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تقریر سے قبل سیکڑوں یہودی مظاہرین نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

نیویارک پولیس کے اہلکار مظاہرین کے درمیان تعینات رہے۔ اسرائیل کے حامیوں نے ایسے نعروں والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: ’’عالمی یہود دشمنی کو ابھی ختم کریں‘‘ اور ’’یہود دشمنی بند کریں‘‘۔

دوسری جانب آرتھوڈوکس یہودی اور صہیونیت مخالف مظاہرین رکاوٹوں کے پیچھے کھڑے تھے اور ان کے ہاتھوں میں نتن یاہو کی تصاویر والے پوسٹرز موجود تھے جن پر ’’انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے الزام میں مطلوب‘‘ درج تھا۔ انہوں نے صہیونیت کے خلاف دیگر پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔

اسی حوالے سے امریکی ادارہ انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز میں امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے تعلقات کے ماہر محقق جسی وائنبرگ نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ نتن یاہو کا یہ دورہ صرف ایک روز پر مشتمل ہونا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان سے ملاقات نہ کرنا اس پیچیدہ صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جس میں اسرائیل اور اس کی قیادت اس وقت گرفتار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل خود کو ایک خطرناک صورتحال میں دیکھ رہا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے بھی نشاندہی کی کہ نتن یاہو کو درپیش یہ عالمی تنہائی اچانک سامنے نہیں آئی۔ اخبار کے مطابق گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں نتن یاہو کی آمد کے بعد 50 سے زائد ممالک کے 100 سے زیادہ سفارت کار احتجاجاً اجلاس ہال سے باہر نکل گئے تھے، جسے ایک شدید اور غیر معمولی احتجاج قرار دیا گیا تھا۔

News ID 1941634

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha