مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے خبررساں ادارے روئٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے تاکید کی ہے کہ ایران، امریکہ کی جانب سے اپنے مطالبات کا جواب دیے جانے سے پہلے، اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات نہیں کرے گا۔
اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے مزید واضح کیا کہ مکہ معاہدے کے رکن ممالک کی شرکت سے تہران میں ہونے والے اجلاس میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات نہیں کی جائے گی۔
واضح رہے پاکستان کی تجویز اور اسلامی جمہوریہ ایران کے تعاون اور معاونت سے تہران میں چار فریقی اجلاس آج بروز پیر کی سہ پہر شروع ہوا۔
ایرانی قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی اس اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر، سعودی عرب کے وزیرِ دفاع خالد بن سلمان اور ترکیہ کے ادارۂ انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالن اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
یاد رہے اس اجلاس میں علاقائی سلامتی، فوجی جارحیت کے نتائج، جارحانہ اقدامات کا تسلسل اور فلسطین و لبنان کے مظلوم عوام کی مدد کو مذاکرات کے اہم موضوعات قرار دیا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ