مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران خطے اور ملک کی صورت حال پر پوری قوت اور دانش مندی کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے اور ہر ممکن صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہفتہ وار پریس کانفرنس میں انہوں نے ایران کے دفاع سے متعلق مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی طاقت ور مسلح افواج اپنے دفاع کے معاملے میں ذرہ برابر بھی تردد نہیں کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت حالت جنگ میں ہے اور اپنے دفاع کے فطری حق کے استعمال میں کسی صورت تاخیر اور تردید نہیں کرے گا۔
ایران کی جانب سے خطے کے تین ممالک کے اعلی حکام کی میزبانی کے بارے میں بقائی نے بتایا کہ قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے نائب سیکریٹری کے اعلان کے مطابق، تہران سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے حکام کی میزبانی کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کے انعقاد کی تجویز پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کے دورۂ تہران کے دوران پیش کی گئی تھی۔
بقائی نے کہا کہ خطے کے ممالک کی جانب سے اپنے مفادات کی بنیاد پر علاقائی سلامتی کے طریقۂ کار پر غور کرنے کی کوشش ایک مثبت پیش رفت ہے اور یہ اجلاس مستقبل میں مزید تعاون کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تہران کئی برسوں سے اس مؤقف پر زور دیتا آیا ہے کہ خطے میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے علاقائی ممالک کی شرکت ضروری ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان تینوں ممالک کے حکام ایرانی صدر اور قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سے ملاقاتوں کے دوران مختلف امور پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ یہ اس سلسلے کا پہلا اجلاس ہے، اس لیے اس کے ایجنڈے پر غور کیا جانا ضروری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس نوعیت کے کسی بھی اجلاس میں امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
آپ کا تبصرہ