مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: مغربی ایشیاء کا خطہ ایک بار پھر اپنے سلامتی اور اقتصادی توازن کے حوالے سے ایک خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ ایران-امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے اور واشنگٹن و تل ابیب کی جانب سے فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کیے جانے کے قوی امکان کے سائے نے خلیج فارس کو توانائی کی برآمدات کے لیے ایک اہم تزویراتی آبی گزرگاہ سے نظامی سطح پر غیر یقینی صورتِ حال کے مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔
اس دوران جس بات نے پہلے سے زیادہ توجہ حاصل کی ہے، وہ علاقائی فریقوں، بالخصوص خلیج فارس کے عرب ممالک اور ان کے یورپی اتحادیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور گہری تشویش ہے۔ یہ فریق بحران پر قابو پانے اور اس صورتِ حال کو ختم کرنے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں جسے ’’سفارتی کٹھ پتلیوں کی جنگ‘‘ کہا جا سکتا ہے۔
اس تشویش کی وجوہات کو سمجھنے اور یہ جاننے کے لیے کہ ماضی میں جنگ کے حامی منظرناموں کے برخلاف عرب اور یورپی دارالحکومت آج فوری طور پر مخاصمت کے خاتمے کے خواہاں کیوں ہیں؟
اس بحران کے بنیادی اثرات کا تین اہم پہلوؤں سے جائزہ لینا ضروری ہے: یورپ کی مجموعی معیشت، توانائی کی جغرافیائی و اقتصادی سلامتی اور عرب ممالک کی قومی سلامتی کو درپیش خطرات۔
توانائی کا جھٹکا اور یورپ کے اقتصادی بحران میں شدت
تشویش کی پہلی اور سب سے نمایاں وجہ یورپ کی معیشت اور اس کے مالیاتی نظام کو پہنچنے والا غیر معمولی دھچکا ہے۔ یورپی معیشتیں، جو اب بھی علاقائی جنگوں اور توانائی سے متعلق پابندیوں کے طویل مدتی اثرات سے دوچار ہیں، آبنائے ہرمز کی بندش یا وہاں شدید خلل کے باعث ضروری مصنوعات کی رسد کے سلسلے میں سنگین رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی بارہا خبردار کر چکی ہے کہ عالمی منڈی میں ڈیزل اور تقطیری مصنوعات کی کئی ملین بیرل کی کمی نے آئل ریفائنریوں کے منافع کا مارجن ختم کر دیا ہے اور فرانس جیسے ممالک میں ایندھن کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ کر فی لیٹر 2.3 یورو سے بھی تجاوز کر گئی ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی پیش گوئیوں کے مطابق، فرانس کی اقتصادی ترقی کی شرح تقریباً 0.6 فیصد رہنے اور 2026ء میں مہنگائی جاری رہنے کا امکان ظاہر کرتا ہے کہ یورپ کے پاس توانائی کے شعبے میں قیمتوں کے نئے جھٹکوں کو برداشت کرنے کی زیادہ گنجائش نہیں ہے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے نقل و حمل، رسد کی خدمات اور صنعتی پیداوار کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جبکہ یورپی گھرانوں کی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے۔ زندگی کے اخراجات کا یہ دباؤ وسیع سماجی بے چینی، لاکھوں افراد کی شرکت کے ساتھ سڑکوں پر ہونے والے احتجاج اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کو بھی ہوا دیتا ہے۔ ان حالات میں CAC 40 اسٹاک انڈیکس میں کمی اور سرکاری بانڈز کے منافع کی شرح میں اضافہ بھی شامل ہے۔
ایسی صورتِ حال میں یورپی رہنما اس تزویراتی نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ خلیج فارس میں جنگ کا جاری رہنا مغرب کے فرسودہ فلاحی ڈھانچوں کے لیے اقتصادی خودکشی کے مترادف ہو سکتا ہے۔
خلیجِ فارس کے عرب ممالک کی سلامتی اور معیشت کی نازک صورتِ حال
دوسرے پہلو میں خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع عرب ممالک کی جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال اور ان کی قومی سلامتی و معیشت کی بنیادوں کو لاحق سنگین خطرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ عرب شیخ نشین ریاستیں کئی دہائیوں تک یہ سمجھتی رہی ہیں کہ امریکہ کی سلامتی کی چھتری اور بڑے فوجی معاہدوں پر انحصار کرتے ہوئے وہ محفوظ ماحول میں اپنی اقتصادی ترقی جاری رکھ سکتی ہیں۔ تاہم، حالیہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتِ حال نے مکمل تحفظ کے اس تصور کو توڑ دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر اور کویت نے اپنی کئی سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ ڈیٹا سینٹرز اور سیاحتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی بنیاد پر استوار کیا ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں فائبر آپٹک کی زیرِ سمندر کیبلز اور اہم ڈیجیٹل مراکز کو نشانہ بنانے سے متعلق جوابی دھمکیوں نے اس تلخ حقیقت کو آشکار کر دیا ہے کہ خلیج فارس کی جدید معیشت انتہائی نازک ہے۔ ان کیبلز کی بندش یا مالیاتی منڈیوں میں خلل، خواہ اس کے نتیجے میں عالمی انٹرنیٹ مکمل طور پر منقطع نہ بھی ہو، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں الیکٹرانک تجارت، ڈیجیٹل بینکاری اور مصنوعی ذہانت پر مبنی مثالی شہروں کی ریڑھ کی ہڈی کو چند ہی دنوں میں مفلوج کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے وہ چونکا دینے والے اعداد و شمار بھی قابلِ توجہ ہیں جن کے مطابق 2026ء میں خطے کے ممالک کی معیشتوں میں شدید سکڑاؤ متوقع ہے۔ ان میں عراق کی اقتصادی ترقی میں 16 فیصد، قطر اور کویت میں 15 فیصد اور سعودی عرب میں 3.3 فیصد منفی شرحِ نمو شامل ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ خلیج فارس میں جنگ ایسا مکمل نقصان کا کھیل ہے جس میں تمام فریق خسارے سے دوچار ہوتے ہیں۔
بحری محاصرے اور تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے ان ممالک کی زرمبادلہ کی آمدنی میں شدید کمی کر دی ہے اور ان کے بڑے ترقیاتی منصوبوں کو جمود سے دوچار کر دیا ہے۔ اسی لیے عرب دارالحکومتوں کو احساس ہو گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر دوبارہ کسی بھی حملے کے نتیجے میں فوری طور پر تہران کا غیر متناسب بازدارندگی کا نظریہ فعال ہو سکتا ہے، جنگ کی لپیٹ میں خطے کے توانائی کے مراکز، بشمول آرامکو، یا دبئی اور دوحہ کے تجارتی ہوائی اڈے آ سکتے ہیں اور بالآخر علاقائی عدم تحفظ کی آگ بھڑک سکتی ہے۔استنبول کی سفارت کاری؛ جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش
اس مشترکہ تزویراتی جائزے کی نمایاں مثال اکتوبر 2026ء کے اواخر میں استنبول میں ہونے والے اہم اجلاس میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس اجلاس میں ترکی، مصر، پاکستان اور مملکت سعودی عرب پر مشتمل علاقائی طریقۂ کار کے وزرائے خارجہ اپنے یورپی شراکت داروں، جن میں برطانیہ، جرمنی، فرانس اور اٹلی شامل تھے، کے ساتھ جمع ہوئے۔
ہاکان فیدان کے مرکزی کردار میں تشکیل پانے والے اس سفارتی اقدام نے ظاہر کیا کہ علاقائی اور یورپی ممالک مشترکہ تشویش کی اس سطح تک پہنچ چکے ہیں جس نے انہیں واشنگٹن اور تل ابیب کی یک طرفہ فوجی پالیسی کے خلاف مؤقف اختیار کرنے کی جانب مائل کیا ہے۔
اس اجلاس میں اگرچہ یورپ کے سلامتی سے متعلق نقطۂ نظر، جو اب بھی ایران کے جوہری معاملے پر مرکوز ہے اور ایشیائی و مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے مؤقف کے درمیان گہرے اختلافات موجود تھے، تاہم تمام فریق ایک نکتے پر متفق تھے۔
ایشیائی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بحران کی بنیادی وجہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں اور جنگ کے پورے خطے میں پھیل جانے کے خطرے کو قرار دیتے ہیں، جبکہ یورپی فریق ایران کے جوہری معاملے سے متعلق اپنے مخصوص تحفظات پر بدستور توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔
ان اختلافات کے باوجود ایک بنیادی اتفاقِ رائے سامنے آیا: کوئی بھی فریق جنگ کو وسعت دینا نہیں چاہتا اور تباہی سے بچنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔
فرانس کے وزیرِ خارجہ سمیت یورپی حکام نے واضح طور پر خبردار کیا کہ کشیدگی کو نئے سرے سے ہوا دینے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا اور اس کے نتیجے میں توانائی کی منڈی کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے اقتصادی اور سلامتی سے متعلق نتائج کے بارے میں تشویش، خطے اور یورپ کے ممالک کی سفارتی سرگرمیوں میں ایک فیصلہ کن عامل بن چکی ہے۔
حاصلِ کلام
آخرکار، خلیج فارس کے بحران کو ختم کرنے کے لیے عرب اور یورپی ممالک کی خواہش، اپنی بظاہر دوستانہ صورت کے برخلاف، ایک محتاط طرزِ فکر اور اقتصادی انہدام کے خوف پر مبنی ہے۔
یورپ کو مہنگائی میں اضافے، سڑکوں پر احتجاج اور جمود کے ساتھ مہنگائی (اسٹگفلیشن) کا خدشہ ہے، جبکہ عرب ممالک اپنے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی تباہی، مجموعی قومی پیداوار میں شدید کمی اور پائیدار ترقی کے اپنے امکانات کھو دینے کے بارے میں فکرمند ہیں۔ انہی خدشات نے انہیں اس نتیجے پر پہنچایا ہے کہ واشنگٹن کی جنگ پسندی کو قابو میں رکھنا اور تہران کے ساتھ بات چیت کا راستہ کھولنا، عالمی معیشت اور سلامتی کو تیزی سے تباہی کی جانب جانے سے روکنے کے لیے واحد حفاظتی راستہ ہے۔
اگرچہ استنبول کی سفارت کاری کو عملی میدان میں مختلف فریقوں کے مفادات کے تضاد سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم اس نے ظاہر کیا ہے کہ خلیج فارس میں امن اب محض ایک نظریاتی انتخاب نہیں، بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے بنیادی ڈھانچے کی بقا اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔
آپ کا تبصرہ