مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک— آذر مہدوان: ایسے حالات میں جب عالمی رائے عامہ اب بھی اس بنیادی سوال سے دوچار ہے کہ آیا ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر ہمہ گیر جنگ میں تبدیل ہو جائے گی یا سفارت کاری کا راستہ کسی نئی جنگ کو روک سکتا ہے، اس بحران کا مستقبل سیاسی اور ذرائعِ ابلاغ کے حلقوں میں توجہ کے اہم ترین موضوعات میں شامل ہو گیا ہے۔ اس دوران آبنائے ہرمز کی صورتِ حال، تصادم کے فوجی اور اقتصادی اخراجات، ایران کی دفاعی طاقت کی صلاحیت اور علاقائی و غیر علاقائی فریقوں کے مؤقف نے اس تصادم کو دوطرفہ تنازعے سے کہیں آگے پہنچا دیا ہے۔
لیکن، مستقبل کے منظرنامے کو سمجھنے کے لیے صرف اس امکان پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا کہ جنگ دوبارہ شروع ہوگی یا مذاکرات بحال ہوں گے۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ حالیہ تصادم نے واشنگٹن اور تل ابیب کے حساب کتاب میں کیا تبدیلی پیدا کی ہے، ایران فوجی اور سیاسی دباؤ کے مقابلے میں کس حد تک مزاحمت کرنے میں کامیاب رہا ہے اور اس بحران کے علاقائی نظم اور بین الاقوامی تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
اسی تناظر میں مہر نیوز کے نامہ نگار نے ارجنٹائن کی یونیورسٹی آف بیونس آئرس کے شعبۂ صحافت و ابلاغیات کے دانشور اور پروفیسر فرناندو استیچی سے گفتگو کی ہے، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے امکان کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور اس کے ساتھ ہی مذاکرات اور معاہدے کے حصول کی جاری کوششوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، آپ موجودہ صورتِ حال کا جائزہ کیسے لیتے ہیں؟ آپ کے خیال میں جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات ٹرمپ کو ایران کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کی طرف لے جا سکتے ہیں یا وہ اب بھی فوجی آپشن پر عمل پیرا رہے گا؟
ٹرمپ بالآخر مذاکرات کی طرف جائے گا، لیکن غالباً اس سے پہلے ایک اور فوجی کارروائی کرے گا، تاکہ ممکنہ معاہدے کو امریکی عوام کے سامنے ایران کے ہتھیار ڈالنے کے طور پر پیش کر سکے۔ اکتوبر میں اس کے بیانات سے یہی تاثر ملتا ہے، جب اس نے کہا کہ مسئلہ یا تو پُرامن طریقے سے حل ہوگا یا طاقت کے استعمال سے، اور 3 نومبر کو بھی ایک اہم تاریخ کے طور پر پیش کیا۔ وہ ایک طرف مذاکرات کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اس کی توجہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات پر بھی مرکوز ہے۔
جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات ٹرمپ کو مذاکرات کی میز کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ جون تک جنگ کے اخراجات 33 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے تھے۔ براؤن یونیورسٹی کے تخمینے کے مطابق، امریکی عوام کو ایندھن کی مد میں تقریباً 100 ارب ڈالر کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے ہیں۔ اسی دوران، صرف 17 فیصد امریکی عوام روزمرہ زندگی کے اخراجات کو سنبھالنے کے معاملے میں ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔
ٹرمپ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ شروع کی، وعدہ کیا کہ یہ تنازع صرف چند ہفتوں تک جاری رہے گا، لیکن بالآخر اس نے اس نعرے کے برعکس عمل کیا جس کے ذریعے وہ وائٹ ہاؤس پہنچا تھا، یعنی نئی جنگوں سے گریز۔ اب اس کی تحریک ’’میگا‘‘ (MAGA) کے اندر اختلافات بھی واضح ہو چکے ہیں۔
امریکہ محض اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھول سکتا، مگر یہ کہ وہ ایک بڑے زمینی آپریشن کا سہارا لے، جسے جاری رکھنا اور اس کی مدد و معاونت کرنا واشنگٹن کے لیے انتہائی مشکل ہوگا۔
یہ صورتِ حال امریکی بالادستی کے زوال کی علامت ہے: ایک ایسی طاقت جو اب بھی تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے میں اسے محدودیت کا سامنا ہے۔
اس دوران نیتن یاہو کسی بھی معاہدے کے اہم مخالفین میں شامل ہے۔ اسے اپنی سیاسی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے جنگ جاری رکھنے کی ضرورت ہے اور وہ واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ مذاکرات کے ذریعے معاہدے تک پہنچنے کا راستہ بند رہے۔
چالیس روزہ جنگ کے دوران ایرانی عوام کی مزاحمت اور ایرانی مسلح افواج کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بدستور بند رکھنے کو آپ کیسے جائزہ لیتے ہیں؟ آپ کے خیال میں ان دونوں عوامل نے جنگ کے توازن اور امریکہ و اس کے اتحادیوں کے حساب کتاب پر کیا اثر ڈالا ہے؟
ایران کی مزاحمت نے واشنگٹن اور تل ابیب کے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا جس کا مقصد ملک کی قیادت کو ختم کرنا اور اس کے سیاسی ڈھانچے کو منہدم کرنا تھا۔ ایران کے رہبر کو شہید کر دیا گیا اور سی آئی اے نے کرد مسلح گروہوں کو منظم کرنے کی بھی کوشش کی، لیکن ان اقدامات کے منصوبہ سازوں کی توقعات کے برعکس، اس کا نتیجہ قومی یکجہتی کے مضبوط ہونے اور ملک کے اندر ایک متحد صف کی تشکیل کی صورت میں نکلا۔ اس عمل میں حکومت کے مخالفین کے بعض حصے بھی شامل ہو گئے۔
مغرب نے ایک بار پھر ایران کو اس کی حکومت کے ساتھ ایک ہی چیز سمجھ لیا، حالانکہ ایران سب سے پہلے ایک ایسی قوم ہے جس کی تاریخی یادداشت گہری ہے۔ اس ملک کے عوام محمد مصدق کے خلاف ہونے والی بغاوت اور عراق کے ساتھ آٹھ سالہ جنگ کو نہیں بھولے، جب مختلف طاقتیں صدام کی حمایت کر رہی تھیں۔
میناب کے اسکول پر حملے نے بھی عوامی غم و غصے کو بھڑکایا اور قومی یکجہتی اور حکومت کی حمایت میں اضافے کی راہ ہموار کی۔ ایسا نتیجہ کوئی داخلی تشہیری مہم تنہا پیدا نہیں کر سکتی تھی۔
آبنائے ہرمز نے بھی جنگ کی نوعیت تبدیل کر دی۔ اس آبی گزرگاہ میں آمدورفت کو متاثر کرنے کے لیے ایران کو لازماً اپنی بحریہ براہِ راست استعمال کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ کم لاگت والے ڈرونز اور میزائلوں نے جہازوں کی آمدورفت کو خطرے سے دوچار کر دیا اور مارچ کے اوائل میں لندن میں قائم انشورنس کمپنیوں نے جنگی خطرات کے لیے انشورنس کوریج منسوخ کر دی۔ اس طرح عدم تحفظ اور انشورنس سے متعلق پابندیوں نے عملاً سمندری آمدورفت کو متاثر کیا اور جنگ فوجی میدان سے، جہاں امریکہ کو برتری حاصل ہے، اقتصادی میدان میں منتقل ہو گئی، جہاں واشنگٹن کو سنگین کمزوریوں کا سامنا ہے۔
ان تبدیلیوں نے امریکہ کو دو ضربیں لگائیں:
پہلی یہ کہ واشنگٹن کے اتحادی ٹرمپ کے مجوزہ بحری اتحاد میں شرکت کے لیے آگے نہیں بڑھے اور یورپ و جاپان نے اپنے جنگی جہاز بھیجنے سے گریز کیا۔
دوسری یہ کہ خلیج فارس کے ساحلی بادشاہتوں کو احساس ہوا کہ امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی لازماً ان کی سلامتی کی ضمانت نہیں دیتی، بلکہ اس کے نتیجے میں وہ حملوں کی زد میں بھی آ سکتے ہیں۔
اسی دوران ایران سے چین کو خام تیل کی برآمدات جاری رہیں اور ان کی ادائیگیاں بھی ڈالر کے نظام سے باہر انجام دی گئیں۔ اب قالیباف نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی سات شقوں کی منظوری سے مشروط کر دیا ہے۔ میری نظر میں، یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق شرائط طے کرنے میں تہران اب بھی مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران خودانحصاری اسلامی جمہوریہ ایران کی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کے بنیادی محوروں میں سے ایک رہی ہے۔ اس پالیسی پر فوجی اور سفارتی دونوں میدانوں میں عمل کیا گیا ہے۔ بارہ روزہ جنگ اور چالیس روزہ جنگ کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے، آپ ایران کی خودانحصاری کا کیسے جائزہ لیتے ہیں؟ آپ کے خیال میں اس حکمتِ عملی نے امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کے مقابلے میں ایران کی مزاحمت کی صلاحیت اور آزادانہ فیصلہ سازی کو کس حد تک برقرار رکھا ہے؟
خود انحصاری ایرانی مزاحمت کے تسلسل کے اہم عوامل میں سے ایک ہے۔ یہ ملک عراق کے ساتھ جنگ کے دوران اپنے طیاروں کے اسپیئر پارٹس حاصل کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کر رہا تھا اور چار دہائیوں کی پابندیوں سے گزر چکا ہے۔ اس تجربے سے ایران نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ٹیکنالوجی کے معاملے میں انحصار سیاسی انحصار کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی لیے اس نے اپنی دفاعی صنعت کی ترقی کو اہم ترین ترجیحات میں شامل کر لیا۔
ایرانی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ بارہ روزہ جنگ اور رواں سال کی جنگ کے درمیان ملک کی فوجی پیداوار دوگنی ہو گئی ہے اور خود انحصاری کی شرح 90 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس کے برعکس، بعض مغربی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فضائی حملوں سے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تاہم، چالیس روزہ جنگ کے دوران ایران نے اپنے کمانڈروں کے قتل کے بعد بھی میزائل داغنا جاری رکھا اور اس کے میزائل دیمونا کے علاقے میں اسرائیلی دفاعی نظاموں سے گزرنے میں کامیاب ہوئے۔
اس کے سات ماہ بعد بھی امریکہ اپنے طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں بھیج رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اب بھی ایران کی فوجی طاقت کو اپنے حساب کتاب میں ایک سنجیدہ عامل سمجھتا ہے، اگرچہ محض طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعیناتی سے ایران کے اسلحہ خانے کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگانا کافی نہیں ہے۔
سفارت کاری کے میدان میں بھی خودانحصاری کی یہی منطق دکھائی دیتی ہے۔ ایران جنگ جاری رکھنے اور مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے روس یا چین کی براہِ راست جنگ میں شمولیت کا محتاج نہیں تھا، بلکہ اس نے اپنے منتخب کردہ ثالثوں کے ذریعے سفارتی راستہ اختیار کیا؛ پہلے پاکستان اور پھر قطر۔
تہران نے مذاکرات کے لیے اپنی ترجیحات بھی متعین کرنے کی کوشش کی ہے: پہلے آبنائے ہرمز کا مسئلہ اور اس کے بعد جوہری معاملہ۔ اس تناظر میں ایران مذاکرات کا ایجنڈا طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ امریکہ کو بھی ان ترجیحات کے جواب میں اپنا مؤقف ترتیب دینا پڑ رہا ہے۔
ارجنٹائنی صدر خاویر میلی ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کے اہم حامیوں میں سے ایک رہے ہیں۔ آپ کی نظر میں، یہ ہم آہنگی میلی کا ذاتی اور نظریاتی انتخاب کس حد تک ہے اور ارجنٹائن کی خارجہ پالیسی میں پائیدار تبدیلی کی کس حد تک عکاسی کرتی ہے؟ کیا یہ پالیسی ارجنٹائن کو ایسے تنازعے میں الجھا سکتی ہے جو اس کے براہِ راست مفادات سے آگے بڑھتا ہو؟ اور لاطینی امریکہ میں بیونس آئرس کے مقام اور عالمی جنوب کے ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
اس طرزِ عمل کی جڑیں نظریاتی بھی ہیں اور ساختی بھی۔ خاویر میلی کے اسرائیل کے ساتھ ذاتی اور فکری روابط ہیں، جن کا ایک حصہ یہودی حاسیدی تحریک ’’حباد لوباوِچ‘‘ سے اس کی قربت سے وابستہ ہے۔ نیویارک کے دوروں کے دوران اس نے اس تحریک کے روحانی رہنما مناحم مندل شنیرسن کے مزار پر حاضری کو ایک مستقل رسم بنا لیا ہے۔ ربی ایکسل وانیچ بھی میلی کے روحانی رہنماؤں میں سے ہیں اور اس پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ میلی نے انہیں اسرائیل میں ارجنٹائن کا سفیر مقرر کیا تھا۔
یہ مذہبی اور اعتقادی رجحانات میلی کے متعدد سخت گیر مؤقف کی وضاحت کرتے ہیں، جن میں خامنہ ای (رہبرِ شہید) کے قتل پر خوشی کا اظہار کرنے سے لے کر ٹرمپ اور نیتن یاہو کو انسانیت کے ہیرو قرار دینے تک کے بیانات شامل ہیں۔
تاہم، عالمی طاقتوں کے ساتھ ارجنٹائن کی ہم آہنگی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس ملک کے حکمران طبقات ہمیشہ اپنی کوشش کرتے رہے ہیں کہ غالب عالمی طاقت کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط بنائیں۔ کارلوس منیم نے بھی 1990ء میں ارجنٹائن کے جنگی جہاز خلیج فارس بھیجے تھے۔
آج اہم بات یہ ہے کہ یہ رجحان ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب امریکہ براعظم امریکہ میں اپنی موجودگی کو نئے سرے سے ترتیب دینے، نام نہاد ’’ڈونرو نظریے‘‘ پر عمل کرنے اور لیتھیم و اہم معدنیات سمیت تزویراتی وسائل پر مقابلے کی کوشش کر رہا ہے۔ اوشوآیا میں بحری اڈے کا قیام، طیارہ بردار بحری جہاز نیمٹز کے ساتھ فوجی مشقوں کا انعقاد، نیٹو کے عالمی شراکت دار بننے کی ارجنٹائن کی درخواست اور سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنا، یہ تمام اقدامات اسی سمت کے تناظر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
ارجنٹائن کے اس تنازعے میں گھسیٹے جانے کا خطرہ سنجیدہ ہے۔ اس ملک کے وزیر خارجہ پابلو کوئرنو نے خلیج فارس میں بحری جہاز بھیجنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا، جبکہ میلی نے ایران کو ارجنٹائن کا دشمن قرار دیا ہے۔ 1990ء کی دہائی کا تجربہ بیونس آئرس کے لیے ایک تاریخی انتباہ ہونا چاہیے۔ ارجنٹائن نے خلیجِ فارس کی جنگ میں ایک فریق کا ساتھ دیا تھا اور اس کے بعد 1992ء اور 1994ء میں اس کی سرزمین پر دہشت گردانہ حملے ہوئے۔
علاقائی سطح پر بھی میلی اب تنہا نہیں ہے۔ واشنگٹن لاطینی امریکہ میں دائیں بازو کی حکومتوں کا ایک اتحاد تشکیل دے رہا ہے، جو امریکہ کے ساتھ ساتھ اسرائیل سے بھی ہم آہنگ ہیں۔ میری نظر میں، یہ رجحان لاطینی امریکہ کی خودمختاری اور اجتماعی طاقت کو کمزور کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ دنیا کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس صورتِ حال میں ممالک کے لیے قومی خودمختاری اور آزادانہ عمل کو مضبوط بنانے کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
عالمی جنوب کے ساتھ ارجنٹائن کے تعلقات پر بھی اس پالیسی کے اہم اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ میلی کی حکومت نے برکس میں شمولیت سے دستبرداری اختیار کی، اقوامِ متحدہ میں غلامی اور اس سے ہونے والے نقصانات کے ازالے سے متعلق ووٹنگ میں امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دیا، ایران کے ناظم الامور کو ملک سے نکال دیا اور متعدد ممالک کے مقابل صف میں کھڑی ہو گئی، جن میں چین بھی شامل ہے، جو ارجنٹائن کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
میلی نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ارجنٹائن کا اتحاد مشترکہ اقدار کی بنیاد پر قائم ہے، لیکن ناقدین کا خیال ہے کہ یہ پالیسی ارجنٹائن کو واشنگٹن پر مزید انحصار کی طرف لے جا رہی ہے۔ کیا ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کی میلی کی غیر مشروط حمایت طویل مدت میں ارجنٹائن کی تزویراتی خودمختاری کو کمزور نہیں کرے گی؟
جی ہاں، یہ عمل اب بھی جاری ہے۔ مشترکہ اقدار پر زور دینے کا نتیجہ عملی طور پر یہ نکلا ہے کہ سیاسی انحصار کو ایک نظریاتی پردہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس انحصار کے اثرات ارجنٹائن کی حکومت کے فیصلوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
مالویناس جزائر کا معاملہ، جنہیں برطانیہ فاک لینڈ جزائر کہتا ہے، اس تضاد کی ایک واضح مثال ہے۔ ان جزائر کے آس پاس کے پانیوں میں ’’سی لائن‘‘ نامی تیل کا منصوبہ آگے بڑھ رہا ہے، جس میں برطانوی اور اسرائیلی کمپنیاں شریک ہیں۔ ارجنٹائن ان جزائر پر اپنی حاکمیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس طرح، اسرائیل، جسے میلی اپنا برادر اتحادی قرار دیتا ہے، ایسے علاقے کے وسائل سے فائدہ اٹھانے میں شریک ہے جس کی حاکمیت اب بھی متنازع ہے۔
مالویناس جزائر کے بارے میں امریکہ کے مؤقف میں ممکنہ تبدیلی سے متعلق ٹرمپ کے اشارے کی بھی کوئی واضح بنیاد نہیں ہے۔ امریکہ نے 1982ء کی جنگ میں برطانیہ کی حمایت کی تھی اور لندن اب بھی نیٹو میں واشنگٹن کے قریب ترین اتحادیوں میں شامل ہے۔
یہ انحصار صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں، بلکہ اقتصادی اور مالیاتی شعبوں میں بھی اس کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ 2025ء میں امریکی وزارتِ خزانہ کی جانب سے ارجنٹائن کو فراہم کی جانے والی مالی مدد اس ملک کے انتخابی نتائج سے منسلک تھی۔ ٹرمپ نے بھی اس موضوع پر علانیہ گفتگو کی۔ جب کوئی حکومت یہ قبول کر لیتی ہے کہ بیرونی مالی مدد کو اس کے انتخابی نتائج اور داخلی سیاسی تبدیلیوں سے مشروط کیا جائے تو اس کی آزادانہ فیصلہ سازی محدود ہو جاتی ہے۔
خوان پرون کی سیاسی روایت میں تزویراتی خودمختاری کا مطلب قومی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرنا اور مختلف شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینا ہے، نہ کہ کسی ایک بیرونی طاقت پر مکمل انحصار کرنا۔
ارجنٹائن کے پاس لیتھیم کے ذخائر، واکا موئرتا کے علاقے میں تیل اور گیس کے وسائل، جنہیں ہائیڈرولک فریکچرنگ کے طریقے سے نکالا جاتا ہے، قطبِ جنوبی میں علاقائی دعوے اور جنوبی بحرِ اوقیانوس میں وسیع سمندری حدود موجود ہیں۔ ان وسائل اور صلاحیتوں کی بدولت یہ ملک عالمی سطح پر ایک آزاد کردار ادا کرنے کی قابلِ ذکر استعداد رکھتا ہے۔ ایسے ملک کو اپنے قومی مفادات کی بنیاد پر واشنگٹن، بیجنگ، ماسکو اور عرب و خلیجِ فارس کے ممالک کے ساتھ مذاکرات کرنے اور مختلف طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینے کے قابل ہونا چاہیے۔
لیکن میلی نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے:
ارجنٹائن کے تزویراتی مستقبل کو ایک ہی طاقت کے ساتھ وابستہ کرنا اور ایسی جنگ میں اس کا ساتھ دینا جو براہِ راست ارجنٹائن کے قومی مفادات سے متعلق نہیں ہے۔
آپ کا تبصرہ