11 اکتوبر، 2026، 5:56 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

سعودی فضائی محاصرہ؛ یمن پر جارحیت کا انجام کیا ہوگا؟

سعودی فضائی محاصرہ؛ یمن پر جارحیت کا انجام کیا ہوگا؟

آج سعودی عرب کی فضائی حدود میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اس بات سے خبردار کرتا ہے کہ گہری سیاسی اور علاقائی جڑیں رکھنے والے تنازعات کو حل کرنے میں فوجی طاقت کی حدود ہوتی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: یمن سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، شہروں اور تیل کی تنصیبات پر حملوں میں شدت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریاض کی جانب سے یمنی فورسز کے خلاف فوجی مہم میں دوبارہ شمولیت، سعودی حکام کی توقعات کے برخلاف، نہ صرف بحران پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے بلکہ اس نے اس ملک پر نئے سکیورٹی اور اقتصادی اخراجات بھی مسلط کر دیے ہیں۔ 10 اکتوبر کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والا حملہ، جس کے نتیجے میں سعودی عرب کی ایوی ایشن اتھارٹی کے اعلان کے مطابق 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوئے، تنازعے کے دائرے میں وسعت اور اس ملک کے اہم تزویراتی بنیادی ڈھانچے کی کمزوری کا تازہ ترین ثبوت ہے۔

ایسی صورت حال میں، جب سعودی عرب کئی برسوں سے خود کو سرمایہ کاری، سیاحت اور عالمی تقریبات کا مرکز بنانے کی کوشش کر رہا ہے، ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر بار بار ہونے والے حملے براہِ راست ان منصوبوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ

کیا ریاض فوجی کارروائیوں میں شدت پیدا کرکے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتا ہے یا ایک بار پھر ایسے طویل اور تھکا دینے والے بحران میں پھنس جائے گا جس کا کوئی واضح اختتام دکھائی نہیں دیتا؟

فوجی مداخلت اور بحران کی سعودی سرزمین پر واپسی

سعودی عرب ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے یمن میں اپنا اثر و رسوخ مستحکم کرنے اور اپنے مخالفین کی طاقت میں اضافے کو روکنے کے لیے فوجی اور سیاسی ذرائع استعمال کرتا آ رہا ہے۔ تاہم، گزشتہ برسوں کے تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ اسلحے میں برتری اور فضائی حملے سیاسی اہداف کے حصول کی ضمانت نہیں ہوتے۔ کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی کوششوں کے ایک دور کے بعد ریاض رواں سال موسمِ گرما میں ایک بار پھر تنازعے کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا؛ یہ مرحلہ فوجی کارروائیوں میں شدت اور سرحد پار حملوں کی بحالی کے ساتھ شروع ہوا۔

شائع شدہ رپورٹس کے مطابق، سعودی عرب کی حمایت یافتہ دہشت گردوں نے مخالف فورسز کے زیرِ کنٹرول علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے نئی کارروائی شروع کی ہے۔ ریاض بھی فضائی اور فوجی مدد فراہم کرکے اس کارروائی کی حمایت کر رہا ہے۔ تاہم، سعودی سرزمین کے اندرونی علاقوں تک حملوں کا پھیلاؤ ظاہر کرتا ہے کہ اب جنگ کا میدان صرف یمن کے جغرافیے تک محدود نہیں رہا۔ ریاض اور ابہا کے ہوائی اڈوں پر حملوں اور دمام میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایک ڈرون کے گرنے کی اطلاعات نے سعودی عرب کے فضائی نقل و حمل کے نظام اور اہم بنیادی ڈھانچے کی سلامتی کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔

ریاض کے ہوائی اڈے پر حالیہ حملے کے دوران اس کی سرگرمیاں کچھ وقت کے لیے متاثر ہوئیں اور فضائی کمپنیوں کو بعض پروازیں منسوخ کرنا یا ان کے راستے تبدیل کرنا پڑے۔ یہ صورت حال محض ایک فوجی مسئلہ نہیں ہے؛ ہوائی اڈے سعودی معیشت کے دنیا سے رابطے کے دروازے ہیں اور ان کی سرگرمیوں میں خلل تاجروں، سیاحوں اور سرمایہ کاروں کی آمدورفت کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو سعودی عرب کی فضائی حدود اور مواصلاتی بنیادی ڈھانچے پر ایک قسم کا دباؤ پیدا ہو رہا ہے، جس پر قابو پانے کے لیے ریاض کو بیرونی دفاعی مدد درکار ہے۔

ریاض کی تین تزویراتی غلطیاں اور امریکی حمایت کی حدود

سعودی عرب میں امریکہ کے سابق سفیر مائیکل ریٹنی نے سی این این سے گفتگو میں ریاض کی کئی غلط حکمتِ عملیوں کو یمن کے بحران کی واپسی کا مؤثر سبب قرار دیا ہے۔ اس میڈیا ادارے کی رپورٹ کے مطابق، پہلا مسئلہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات اور یمن سے اماراتی فورسز کے انخلا سے متعلق ہے۔ اس تبدیلی نے دونوں ممالک سے ہم آہنگ مقامی فورسز کے ڈھانچے کو متاثر کیا اور سعودی عرب سابقہ کمانڈ اور کنٹرول کے نظام کا فوری طور پر کوئی مؤثر متبادل قائم نہیں کر سکا۔

دوسرا مسئلہ یمنی فورسز کی کارروائیاں جاری رکھنے اور حملوں کا دائرہ وسیع کرنے کی صلاحیت کے بارے میں غلط اندازہ لگانا تھا۔ سعودی عرب کے اندر اہداف پر مسلسل حملے ظاہر کرتے ہیں کہ فضائی برتری حاصل کرنا یا فوجی ٹھکانوں کو نقصان پہنچانا لازماً مخالف فریق کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت ختم نہیں کرتا۔ اسی لیے ریاض کی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی میدانی کامیابیاں بھی کمانڈ کے نظام میں ہم آہنگی، مستقل معاونت اور قبضے میں لیے گئے علاقوں کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کے بغیر بحران کے خاتمے کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔

تیسری غلطی براہِ راست امریکی حمایت پر ضرورت سے زیادہ انحصار تھا۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق، محمد بن سلمان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطوں کے دوران یمنی فورسز پر امریکی حملے کا مطالبہ کیا، لیکن امریکی صدر نے اس کارروائی میں براہِ راست شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ اس کے بجائے واشنگٹن نے یمنی فورسز کے ساتھ اپنی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کی اور سعودی عرب کو انٹیلی جنس معاونت اور اہداف کے تعین میں مدد سمیت بعض دیگر سہولتیں فراہم کیں۔

2025 کا تجربہ بھی وائٹ ہاؤس کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ امریکہ نے اسی سال 15 مارچ کو یمنی فورسز کے ٹھکانوں کے خلاف وسیع کارروائی شروع کی اور 6 مئی کو عمان کی ثالثی سے اپنے حملے روکنے کا اعلان کیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ اس کارروائی سے یمنی فورسز کو نقصان پہنچا، لیکن ان کی طاقت ختم نہیں ہوئی۔ یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ فضائی کارروائیوں کے ذریعے بھاری اخراجات اور نقصانات مسلط کیے جا سکتے ہیں، لیکن یہ بذاتِ خود سیاسی اور فوجی توازن میں پائیدار تبدیلی کی ضمانت نہیں ہوتیں۔

بیرونی مدد؛ بحران کا حل یا تنازعے میں شدت کا پیش خیمہ؟

سعودی عرب نے اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے دوسرے ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں بھی کی ہیں۔ رپورٹس میں فرانس اور برطانیہ کے ساتھ دفاعی تعاون اور ترکیہ و پاکستان کے ساتھ سکیورٹی رابطوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ امریکی فوجی مشیروں کی موجودگی اور انٹیلی جنس معاونت کی فراہمی بھی ظاہر کرتی ہے کہ واشنگٹن نے حملوں میں براہِ راست شامل ہونے سے انکار کے باوجود ریاض کے ساتھ اپنے فوجی تعلقات ختم نہیں کیے۔ لہٰذا بنیادی مسئلہ بیرونی حمایت کا مکمل فقدان نہیں، بلکہ مداخلت کے دائرے اور اس کی نوعیت سے متعلق اختلاف ہے کہ امریکہ کس حد تک مداخلت کرنے کے لیے تیار ہے۔

مائیکل ریٹنی نے اپنے تجزیے میں امریکی فوجی صلاحیتوں کی حدود کی طرف بھی اشارہ کیا ہے؛ ان میں بعض انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر پر دباؤ، بعض جنگی بحری جہازوں کی مرمت کی ضرورت اور خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان شامل ہیں۔ ایسے حالات میں ایک نئے محاذ میں براہِ راست داخل ہونا واشنگٹن کے لیے مزید اخراجات کا سبب بن سکتا ہے۔ ان محدودیتوں کے ساتھ ساتھ تنازعات کے دائرے کو وسیع ہونے سے روکنے کی ٹرمپ کی خواہش بھی سعودی عرب کے مطالبے کے بارے میں امریکہ کے محتاط رویے کی بعض وجوہات کی وضاحت کر سکتی ہے۔

تاہم، بیرونی دفاعی مدد تنہا بنیادی مسئلے کو حل نہیں کر سکتی۔ دفاعی نظاموں کو مضبوط بنانے سے بعض میزائلوں اور ڈرونز کے اپنے اہداف پر لگنے کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں، لیکن جب تک یمن میں تنازع جاری رہے گا اور فریقین کسی پائیدار سیاسی معاہدے پر اتفاق نہیں کریں گے، حملوں کے دوبارہ ہونے کا امکان برقرار رہے گا۔ دوسری جانب سعودی حملوں میں شدت یمنی فورسز کی جانب سے جوابی کارروائیوں کے دائرے کو مزید وسیع کر سکتی ہے اور دونوں فریقوں کے سکیورٹی اخراجات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

نتیجہ

یمن کے بحران کی سعودی عرب کے اندر واپسی کو سعودی عرب کی جانب سے یمن کے کئی سالہ محاصرے اور مسلسل جرائم کے تزویراتی نتائج میں سے ایک سمجھنا چاہیے۔ ریاض کو اب ایسی صورت حال کا سامنا ہے جس میں ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کا تحفظ، اپنی سکیورٹی ساکھ برقرار رکھنا اور اقتصادی منصوبوں کو آگے بڑھانا، تینوں بیک وقت دباؤ کا شکار ہیں۔

یمنی فورسز نے اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کرکے ظاہر کر دیا ہے کہ وہ سعودی عرب پر اخراجات اور نقصان مسلط کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس چکر سے نکلنے کا راستہ نہ تو حملوں میں لامتناہی شدت پیدا کرنے میں ہے اور نہ ہی محض بیرونی مدد پر انحصار کرنے میں، بلکہ فوجی کارروائیاں روکنے، عام شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے اور ایک ایسے سیاسی معاہدے کی تشکیل میں ہے جو یمن سے قابض افواج کے انخلا اور صنعا میں یمن کی قانونی حکومت کو تسلیم کرنے پر مبنی ہو۔

اگر ریاض ایک بار پھر یہ تصور کرے کہ وہ فوجی دباؤ بڑھا کر بحران پر تیزی سے قابو پا سکتا ہے تو اسے مزید اخراجات اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آج سعودی عرب کی فضائی حدود میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اس بات سے خبردار کرتا ہے کہ گہری سیاسی اور علاقائی جڑیں رکھنے والے تنازعات کو حل کرنے میں فوجی طاقت کی حدود ہوتی ہیں۔

News ID 1942039

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha