13 اکتوبر، 2026، 7:29 PM

فرانس؛ طلباء کا احتجاج دوبارہ شروع؛ 200 اسکول بند

فرانس؛ طلباء کا احتجاج دوبارہ شروع؛ 200 اسکول بند

فرانس میں طلباء نے تعلیمی بجٹ کی کمی اور تعلیم کے حالات کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں تقریباً 200 اسکول بند ہو گئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فرانسیسی طلباء نے منگل کے روز ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے ایک نئے دور کا آغاز کیا، جس کے باعث پورے ملک میں تقریباً 200 اسکول بند ہو گئے ہیں۔

روزنامہ لو پاریزین کی رپورٹ کے مطابق، لیون اور نانت شہروں میں احتجاجی ریلیوں کا آغاز ہوا، جبکہ پیرس، رین اور اسٹراسبرگ میں بھی طلباء نے بعض اسکولوں کے داخلی راستے بند کر دیے۔

واضح رہے فرانس میں طلباء کے احتجاج کا یہ پانچواں دور ہے۔

فرانسیسی وزیرِ تعلیم ادوار ژفری نے ریڈیو فرانس انٹر سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 200 تعلیمی ادارے بند ہو چکے ہیں، تاہم ان کے بقول یہ تعداد گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں کم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہائی اسکول کے طلباء سے مشاورت کے نظام کو 86 ہزار آرا موصول ہوئی ہیں اور اساتذہ کی جگہ متبادل اساتذہ کی فراہمی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے تقریباً ایک ہزار کنٹریکٹ اساتذہ بھی بھرتی کیے جا رہے ہیں۔

پیرس میں طلباء، والدین اور اساتذہ نے ہیلن بوشے ہائی اسکول کے قریب اجتماع کیا۔ مظاہرین نے تورگو اور مونتینی ہائی اسکولوں کے داخلی راستوں کے بعض حصے بھی بند کر دیے۔

پیرس پانتھیون آساس یونیورسٹی میں بھی تعلیمی احاطوں میں خلل پیدا ہونے کے بعد کلاسیں آن لائن منعقد کی گئیں۔ پولیس کے ایک ذرائع نے یونیورسٹی کے قریب دو گروہوں کے درمیان جھڑپ کی اطلاع دی، جبکہ طلبہ نے بتایا کہ ان کے ایک ہم جماعت زخمی ہو گئے ہیں۔

انجمنِ اساتذہ، جس میں ایف ایس یو-ایس این یو اے وائی پی اور ایس این ای ایس-ایف ایس یو شامل ہیں، نے اپنے ارکان سے احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ سرکاری تعلیم کے بجٹ میں اضافہ، کام کے حالات میں بہتری اور تنخواہوں میں اضافہ اساتذہ اور طلباء کے مشترکہ مطالبات ہیں۔

مظاہرین نے تعلیمی پالیسیوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے نظام پارکورسوپ میں تبدیلیوں کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

سویڈن سے تعلق رکھنے والی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے بھی پیرس کے شمال میں واقع شہر سینٹ ڈینس کے پل الوار ہائی اسکول کے سامنے ہونے والے احتجاجی اجتماع میں شرکت کی۔ تقریباً 20 وکلا نے بھی طلباء کی حمایت میں ان کے گرد انسانی زنجیر بنائی۔

تھنبرگ نے بی ایف ایم ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے نوجوان مظاہرین کے ساتھ پولیس کے برتاؤ کو ’’انتہائی پُرتشدد‘‘ قرار دیا اور کہا کہ طلبہ اپنے کم سے کم مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کو نوجوانوں کا تحفظ کرنا چاہیے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ اپنا سکون برقرار رکھیں اور لوگوں اور عوامی املاک کا احترام کریں۔

روزنامہ لو پاریزین کے مطابق، اس تحریک کے آغاز سے اب تک 6 ہزار 800 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں بھاری اکثریت قانونی عمر کو نہ پہنچنے والوں کی ہے۔ اس کے علاوہ، فرانسیسی پولیس کے جنرل انسپکٹر کے دفتر نے پولیس کے تشدد کے مشتبہ واقعات سے متعلق 24 مقدمات بھی درج کیے ہیں۔

News ID 1942089

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha