مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: تہران ٹائمز کے مدیرِ اعلیٰ محمد صرفی نے آج اس روزنامے کے اداریے میں امریکی وزیرِ خارجہ کی حالیہ تقریر پر تنقید کی ہے۔ اس یادداشت کا مکمل متن ذیل میں ملاحظہ کریں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کی شب ایتھنز کے تاریخی مقام ایکروپولس میں اپنی تقریر کے بعض حصوں میں ایران کا ذکر کیا۔ مجموعی طور پر اس کی تقریر تاریخ کی ایک انتخابی تشریح تھی، جو سیموئل ہنٹنگٹن کے نظریۂ ’’تہذیبوں کے تصادم‘‘ کا ایک کمزور نمونہ تھی۔ جب دلیل کمزور ہو تو لازماً تاریخی علامتوں سے ایک نمائشی منظرنامہ تیار کرنا پڑتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ سامعین پس منظر سے متاثر ہوں، نہ کہ دلیل کی قوت سے۔
یہی منطق جنگ کے معاملے میں بھی لاگو ہوتی ہے۔ جب کوئی جنگ درست حساب کتاب کے بغیر اور عجلت میں کیے گئے من مانے فیصلوں کی بنیاد پر شروع کی جاتی ہے تو بعد میں اسے جائز ثابت کرنے کے لیے تہذیبی اور تاریخی جواز کا لحاف چڑھانا پڑتا ہے۔ روبیو کے ساتھی، امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ، تو اس سے بھی آگے بڑھ گیا ہے اور مذہبی و انجیل کی زبان استعمال کرکے اس جنگ کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
میرا ارادہ یہاں روبیو کی تقریر کے تمام پہلوؤں پر تنقید کرنے کا نہیں ہے۔ دوسرے مبصرین، بالخصوص تاریخی نقطۂ نظر سے، کسی حد تک یہ کام کر چکے ہیں۔ میرے لیے قابلِ غور بات وہ ہے جہاں روبیو نے ایران کو ’’موت کا فرقہ‘‘ قرار دیا۔
اس عبارت نے مجھے گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد جارج بش کے ’’شرارت کے محور‘‘ والے بیان کی یاد دلا دی۔ طریقۂ کار وہی ہے: جواب دہی سے بچنے کے لیے ایک لیبل تیار کر دینا۔ ان حملوں کے بیشتر ذمہ دار سعودی عرب کے شہری تھے اور ایران کے ساتھ ان کا کوئی مستند تعلق کبھی ثابت نہیں ہوا، اس کے باوجود امریکہ کے اُس وقت کے صدر نے الزام کی انگلی ایران کی جانب اٹھانے کو ترجیح دی۔ پچیس سال گزرنے کے بعد بھی متاثرین کے اہلِ خانہ، ریاض کی جواب دہی نہ ہونے اور اس معاملے میں امریکی حکومتوں، خواہ ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ، کی چشم پوشی پر غصے میں ہیں۔
ایران کو ’’موت کا فرقہ‘‘ قرار دینا سب سے پہلے اس تقریر کے سامعین کی عقل و شعور کی توہین ہے۔ صرف سات ماہ سے جاری جنگ کا ریکارڈ دیکھ لینا کافی ہے:
جنگ کے پہلے ہی روز میناب کے ایک اسکول پر حملہ کس نے کیا؟
ایران کے پلوں، سڑکوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو کس نے نشانہ بنایا؟
ان حملوں میں ہزاروں عام شہری مارے گئے، جن میں سے تقریباً 300 صرف طلبہ تھے۔ غیر مسلح بحری جہاز ’’دنا‘‘ کو بھی سری لنکا کے قریب سمندری پانیوں میں غرق کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں سو سے زیادہ ملاح جاں بحق ہوئے۔ بعد میں ٹرمپ نے صاف الفاظ میں کہا کہ ہم نے یہ کام تفریح کے لیے کیا۔
اور یہ سیاہ کاری یہیں تک محدود نہیں ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی کس نے ایرانی قوم اور تہذیب کو مکمل طور پر نابود کرنے کی دھمکی دی؟ اور غزہ کے خلاف اسرائیلی حکومت کی جنگ کی حمایت کرکے 20 ہزار سے زائد بچوں کے قتل عام میں کون شریک ہوا؟
دس روز قبل امریکی وزیر جنگ نے ریاست ورجینیا کے شہر کوانٹیکو میں میرین کور کے اڈے پر واضح الفاظ میں کہا: قاتل ہونا ہمارا ویزیٹ کارڈ ہے۔
یہ بیان چونکا دینے والا تھا، لیکن کم از کم سچ پر مبنی تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ، آزادی اور جمہوریت کے نعروں کے ساتھ حرکت میں آنے والی فوج نے جن قوموں کو نشانہ بنایا، ان کے لیے عملی طور پر موت اور تباہی کے سوا کیا لائی ہے؟!
تو ان سیاہ کاریوں کے ہوتے ہوئے، حقیقتاً ’’موت کا فرقہ‘‘ کہلانے کا مستحق کون ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے کسی پیچیدہ تحقیق کی ضرورت نہیں۔ صرف تھوڑی سی جرأت اور حقیقت سے آنکھیں نہ چرانے کی ضرورت ہے۔
ٹرمپ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام ہلاکتیں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے کی گئیں۔ زمانے کا تلخ مذاق یہ ہے کہ تاریخ میں ایٹم بم استعمال کرنے والا اور لاکھوں افراد کو ہلاک کرنے والا واحد ملک خود کو دنیا کا جوہری پولیس اہلکار سمجھتا ہے!
جب اسرائیلی حکومت غزہ میں نسل کشی کے بعد بھی خود کو ’’دنیا کی سب سے با اخلاق فوج‘‘ قرار دیتی ہے، تو اس میں زیادہ حیرت کی بات نہیں کہ امریکی وزیرِ خارجہ بھی ایران کو ’’موت کا فرقہ‘‘ کہہ دے۔
یہاں مسئلہ تاریخ کو غلط سمجھنے کا نہیں، بلکہ تاریخ کو جنگ اور جرائم کے لیے جواز میں تبدیل کرنے کی کوشش کا ہے۔
آپ کا تبصرہ