8 اکتوبر، 2026، 5:43 PM

حقائق میں تحریف سے امریکی وعدہ خلافیاں نہیں چھپ سکتیں، بقائی

حقائق میں تحریف سے امریکی وعدہ خلافیاں نہیں چھپ سکتیں، بقائی

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے امریکہ کی بار بار کی وعدہ خلافیوں کی حقیقت چھپائی نہیں جا سکتی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی حکام کے حقایق کے منافی بیانات امریکی وعدہ خلافیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس دعوے کے جواب میں کہ ایران نے کئی مرتبہ معاہدے کا موقع ضائع کیا، بقائی نے کہا کہ تاریخی حقائق کو مسخ کرنا امریکہ کی بار بار کی وعدہ خلافیوں کی حقیقت کو عوام کے ذہنوں سے نہیں مٹا سکتا۔

بقائی نے امریکہ کی بار بار کی بدعہدیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان میں 2018 میں جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری، سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنا اور مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف فوجی حملہ کرنا، جس کے بعد جون ہونے والی مفاہمت کی خلاف ورزی بھی شامل ہے۔

انہوں نے امریکہ کو خطے میں موجودہ عدم تحفظ اور اس کے امریکہ اور دنیا پر مرتب ہونے والے اقتصادی اثرات کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ الزام تراشی اور متضاد بیانات امریکہ اور دنیا کے عوام کی اس مطالبے کو پسِ پشت نہیں ڈال سکتے کہ غیر قانونی جنگ اور اس دوران کیے گئے جرائم کے ذمہ داروں کو جواب دہ بنایا جائے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی تازہ صورتحال سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ مسلط کردہ جنگ کے تمام محاذوں پر خاتمے اور خلیج فارس و آبنائے ہرمز میں امن و سلامتی کی بحالی سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران کے تحفظات اور شرائط واضح اور دوٹوک انداز میں بیان کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فریقِ مقابل کی تجاویز کا مطلوبہ جواب بھی ثالثوں کے ذریعے دیا جائے گا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ثالثوں کے ذریعے ہو رہا ہے۔

ترجمان نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی سمیت خطے میں امن و سلامتی سے متعلق سفارتی کوششوں کے بارے میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی سلامتی ایران کے لیے کسی بھی دوسرے فریق سے زیادہ اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے امریکی اقدامات کے باعث آبنائے ہرمز میں سلامتی متاثر ہوئی ہے، اسی لیے ایران نے اس آبی گزرگاہ کے دوسرے ساحلی ملک عمان کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں سلامتی کی بحالی کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

بقائی کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان مشاورت کا عمل اچھی طرح آگے بڑھا ہے اور دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کے لیے محفوظ راستوں کے جغرافیائی حدود پر اتفاق کر لیا ہے۔ دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ اس معاملے کو متعلقہ بین الاقوامی ادارے کی سطح پر کس طرح پیش کیا جائے گا، اور یہ عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا۔

ایران اور عمان کے ساتھ خلیج فارس کے دیگر ممالک کی مشترکہ نشست کے امکان سے متعلق سوال پر بقائی نے کہا کہ ایران خطے کے ممالک کے درمیان اعتماد اور باہمی روابط کو مضبوط بنانے کی اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

News ID 1941962

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha