7 ستمبر، 2026، 5:07 PM

ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں محفوظ راستوں پر مذاکرات حتمی مرحلے میں، ترجمان وزارت خارجہ

ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں محفوظ راستوں پر مذاکرات حتمی مرحلے میں، ترجمان وزارت خارجہ

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری راستوں کے تعین کے لیے مذاکرات مکمل کر لیے ہیں اور عمانی فریق کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کو بین الاقوامی بحری ادارے میں درج کرایا جائے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان نے بحیرۂ ہرمز میں محفوظ بحری راستوں کے تعین کے لیے سنجیدہ مذاکرات کیے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اس حوالے سے بات چیت حتمی مرحلے تک پہنچ چکی ہے۔

ہفتہ وار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ ایران اور عمان دونوں ساحلی ممالک کی حیثیت سے آبنائے ہرمز میں محفوظ راستوں کے تعین کے لیے سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کر چکے ہیں اور ان مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔ اگر مذاکرات کے دوران اتار چڑھاؤ آیا تو اس کی وجہ بعض تیسرے فریقوں کی مداخلت تھی، تاہم اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات حتمی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق عمان کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کو بین الاقوامی بحری تنظیم میں درج کرایا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بعض بدخواہ عناصر دوبارہ اس عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

امریکہ کی جانب سے نئے مذاکرات کے مطالبے کے بارے میں بقائی نے کہا کہ ایران کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ امریکہ نے جو عدم تحفظ پیدا کیا ہے، اسے ختم کرنے کی ذمہ داری بھی خود امریکہ کی ہے اور اسے تمام جارحانہ کارروائیاں، اقتصادی پابندیاں اور بحری ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔ ایران نے اپنے مؤقف کو واضح طور پر مفاہمتی یادداشت میں شامل کیا تھا، لیکن امریکہ نے مفاہمت کے صرف 26 روز بعد اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کردی۔

بقائی نے کہا کہ مذاکرات کی گیند کافی عرصے سے امریکی میدان میں ہے، کیونکہ جارحیت کا آغاز امریکہ نے کیا اور مفاہمتی یادداشت میں کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی بھی اسی نے کی۔

آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کی وجوہات کے بارے میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس آبنائے کا غیر محفوظ ہونا امریکی اقدامات کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ 29 فروری سے پہلے آبنائے ہرمز میں آخر کیا مسئلہ تھا؟ بقائی نے ایران کو بحری سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینے کو کھلا جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جارحیت اور خطے کے ممالک کے علاقوں کے غلط استعمال کے باعث آبنائے ہرمز غیر محفوظ ہوئی ہے اور جب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا، حقیقی سلامتی کی بات نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق مسئلہ ایران نہیں بلکہ ایران اور ایرانی عوام کے خلاف مسلط کی گئی جارحانہ جنگ ہے۔

تہران میں قطری وفد کی آمد کے بارے میں بقائی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قطر کا وفد ایران آیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے عمان اور پاکستان سے بھی وفود ایران آئے تھے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران اور بعض ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ ان کے مطابق قطری وفد بھی کشیدگی کم کرنے کی سابقہ کوششوں کے سلسلے میں گزشتہ روز تہران آیا اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ سفارت کاری ایک متحرک عمل ہے اور ایران اپنے قومی مفادات آگے بڑھانے کے لیے سفارت کاری سے بھرپور فائدہ اٹھائے گا۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے خاتمے سے متعلق امریکی حکام کے بیانات پر بقائی نے کہا کہ ایران نے کبھی کسی معاہدے یا وعدے کی خلاف ورزی میں پہل نہیں کی، جبکہ امریکہ متعدد مرتبہ اپنے وعدوں سے پھر چکا ہے۔ عالمی برادری اور خطے کے لوگوں نے دیکھا کہ امریکہ نے وعدے کی خلاف ورزی کی اور اب فخر کے ساتھ اعلان کر رہا ہے کہ یہ مفاہمت ختم ہو چکی ہے۔

بقائی نے کہا کہ ایران کے لیے نام اہم نہیں بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ جب تک ایران کے مفادات اور سلامتی کو مدنظر نہیں رکھا جائے گا، خطے میں حقیقی سلامتی بحال نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی کے معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں کرے گا۔

سیریک میں شادی کی تقریب پر حملے کے حوالے سے امریکی حکام کے دعوے کے بارے میں بقائی نے کہا کہ امریکی حکام جھوٹ بول رہے ہیں اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ گزشتہ 80 برس کے دوران امریکہ کی حکمت عملی میں جارحانہ اقدامات شامل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شادی کی تقریب پر امریکی حملہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اور شہریوں پر امریکی حملوں کا سابقہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اسرائیلی حکومت کے طرزِ عمل کو اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

بقائی کے مطابق امریکی حکام پہلے کسی واقعے سے انکار کرتے ہیں، پھر دعویٰ کرتے ہیں کہ اس میں ایران ملوث تھا اور بعد میں جب شواہد سامنے آتے ہیں تو اسے انسانی غلطی قرار دینے لگتے ہیں۔ اس طرح کے دعوے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے لامرد اور میناب کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام نے کئی مرتبہ تحقیقات کا وعدہ کیا، لیکن یہ دراصل معاملے کو وقت گزرنے کے ساتھ دبانے کی کوشش ہے۔ ایران کو ان واقعات پر عالمی توجہ مبذول کرانے اور ان کا تعاقب جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

پیرو کے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے سے متعلق پیرو کی وزارت خارجہ کے بیان پر بقائی نے کہا کہ ان کے پاس اس حوالے سے کوئی خاص وضاحت نہیں۔ شاید پیرو نے محض ایک غیر موجود معاملے کو نمایاں کیا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان ایسا سفارتی تعلق ہی موجود نہیں تھا جسے ختم کیا جا سکے۔ پیرو کا یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ اس خطے کے دورے پر آنے والے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے 7 اکتوبر اور خطے کے ممالک کے خلاف حملوں سے متعلق بیانات پر بقائی نے کہا کہ صہیونی حکومت اپنی بقا کی بنیاد مسلسل کشیدگی اور جنگ کے جاری رہنے پر سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی ہلاکتوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں کا دائرہ خطے سے باہر تک پھیل چکا ہے اور وہ مسلسل جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بقائی نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر بیداری کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ صہیونی حکومت نے خطے میں بدترین نسل کشی کی ہے۔ عالمی برادری کا مطالبہ اب یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت کی کارروائیوں کو روکا جائے۔

News ID 1941200

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha