مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی بدامنی اور عالمی تجارتی جہاز رانی میں خلل کی ذمہ داری ایران پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ اس صورت حال کی بنیادی وجہ خود واشنگٹن کی فوجی کارروائیاں ہیں۔
بقائی نے سماجی رابطے کی ایک ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے سے قبل آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی تھی۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے خطے پر ایک غیر قانونی اور وحشیانہ جنگ مسلط کی، جس کے نتیجے میں معمول کی بحری آمدورفت متاثر ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتِ حال کے باعث تیل بردار جہاز رک گئے، تجارت متاثر ہوئی اور توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ اب امریکہ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ ان رکاوٹوں اور عدمِ تحفظ کا ذمہ دار ایران ہے، حالانکہ یہ صورت حال خود امریکہ کی کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ واشنگٹن اپنی غیر قانونی کارروائیوں کی بھاری قیمت پوری دنیا سے وصول کرنا چاہتا ہے۔
بقائی نے کہا کہ امریکی بیانیے کے مطابق امریکہ کی شروع کی ہوئی جنگ کو اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جیسے دنیا کو اس کی قیمت ایران کے رویے کی وجہ سے ادا کرنا پڑ رہی ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے جنگ شروع کی، لیکن اب توقع کر رہا ہے کہ پوری دنیا اس کی قیمت ادا کرے، جبکہ ساتھ ہی ایران کو اس انتشار کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے جسے پیدا کرنے میں خود امریکہ کا کردار ہے۔
بقائی نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح حقیقت کو الٹا پیش کرنا انتہائی بے معنی اور بے بنیاد ہے۔
آپ کا تبصرہ