مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کوریائی میڈیا ’’جونگ آن‘‘ نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا ایک انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہے، کیونکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر سیئول نے اپنے فوجی اہلکار بھیجے تو اسے امریکہ کی حمایت میں جنوبی کوریا کی جانب سے جنگ میں فریق بننے کے مترادف سمجھا جائے گا۔
دوسری جانب واشنگٹن نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ جنوبی کوریا کی ایسی شرکت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مطمئن کرنے کے لیے کافی ہوگی یا نہیں، کیونکہ ٹرمپ پہلے ہی جنوبی کوریا کی کارکردگی سے ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں۔
اس میڈیا رپورٹ کے مطابق، ایرانی ایک اعلیٰ عہدیدار نے جمعے کے روز خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے تنازع میں جنوبی کوریا کی کسی بھی قسم کی مداخلت کو جنگ میں شرکت تصور کیا جائے گا۔
جونگ آن کے مطابق، مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ جنوبی کوریا کے فوجی منصوبوں کا خیرمقدم کرنے کا کوئی واضح اشارہ نہیں دے رہا، بالخصوص یہ سوال بھی موجود ہے کہ آیا سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی تعیناتی ہی کافی ہوگی یا نہیں۔
جنوبی کوریا کی جانب سے غیر جنگی سازوسامان اور اہلکار بھیجنے کے امکانات کا جائزہ لینے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد، جن میں ایک لاجسٹک سپورٹ بحری جہاز، P-8A میری ٹائم گشت طیارہ اور دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنانے والے ماہرین شامل ہیں، امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے ممکنہ تعیناتی سے متعلق سوالات کا جواب دینے کے بجائے معاملہ سیئول کی جانب بھیج دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ