5 ستمبر، 2026، 9:02 PM

تمام دشمنوں سے ایک وقت میں جنگ؟

تمام دشمنوں سے ایک وقت میں جنگ؟

آج ایران کے بارے میں ایک عجیب منطق سننے کو ملتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر ایران امریکہ کا مخالف ہے تو اسے اسرائیل کے خلاف بھی اسی وقت مکمل جنگ لڑنی چاہیے۔ اگر اسرائیل اس کا دشمن ہے تو پھر امریکی اڈوں کو جواب دینے کے بجائے اسرائیل پر حملے کیوں نہیں کرتا؟

مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک-پروفیسر تنویر حیدر نقوی: آج ایران کے بارے میں ایک عجیب منطق سننے کو ملتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر ایران امریکہ کا مخالف ہے تو اسے اسرائیل کے خلاف بھی اسی وقت مکمل جنگ لڑنی چاہیے۔ اگر اسرائیل اس کا دشمن ہے تو پھر امریکی اڈوں کو جواب دینے کے بجائے اسرائیل پر حملے کیوں نہیں کرتا؟ بعض لوگ تو یہاں تک پوچھتے ہیں کہ ایران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اہداف کو کیوں نشانہ بناتا ہے، اسرائیل کو کیوں نہیں؟ یہ سوال سننے میں بڑا جارحانہ اور "مجاہدانہ" محسوس ہوتا ہے، مگر جنگی حکمتِ عملی کے بنیادی اصول کے خلاف ہے۔ جنگ جذبات سے نہیں، ترجیحات سے لڑی جاتی ہے۔ دنیا کی کوئی سمجھ دار ریاست محض اس لیے کہ اس کے کئی دشمن ہیں، سب کے خلاف ایک ہی وقت میں مکمل جنگ نہیں چھیڑ دیتی۔ وہ دشمنوں کی نوعیت، ان کی طاقت، اپنے وسائل، جغرافیہ، وقت اور سیاسی مقاصد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتی ہے کہ کس محاذ کو کب کھولنا ہے اور کس محاذ کو فی الحال بند رکھنا ہے۔ اور اس سلسلے میں سیرتِ رسول اللہ(ص) ہمارے سامنے ایک غیر معمولی مثال پیش کرتی ہے۔ کیا رسول اللہ(ص) نے ہر دشمن کے خلاف ایک ہی وقت میں جنگ شروع کردی تھی؟ مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی تو مسلمانوں کے سامنے ایک نہیں، متعدد چیلنج تھے۔ مکہ میں قریش تھے۔ عرب کے مختلف قبائل تھے۔ شمال میں رومی اثر و رسوخ تھا۔ مشرق میں ساسانی فارس ایک بڑی عالمی طاقت تھی۔ بعض قبائل مختلف بڑی طاقتوں یا مقامی گروہوں کے ساتھ وابستہ تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا رسول اللہ (ص) نے ان سب کے خلاف ایک ہی وقت میں جنگ شروع کردی؟ جواب واضح ہے: نہیں۔ آپ(ص)نے حالات کے مطابق مختلف دشمنوں اور مختلف محاذوں سے مختلف انداز میں معاملہ کیا۔ کہیں جنگ ہوئی، کہیں دفاع کیا گیا، کہیں معاہدہ ہوا، کہیں سفارت کاری ہوئی اور کہیں انتظار کیا گیا۔ 

یہی حکمتِ عملی ہے۔ اس کی سب سے روشن مثال صلحِ حدیبیہ ہے۔ قریش وہی طاقت تھی جس کے ساتھ مسلمانوں کی بدر، احد اور احزاب جیسے خونریز معرکے ہوچکے تھے۔ لیکن ایک مرحلے پر رسول اللہ (ص) نے قریش کے ساتھ معاہدہ کرلیا۔ صحیح بخاری میں اس صلح کی تفصیلات موجود ہیں۔ رسول اللہ (ص) نے ایسی شرائط بھی قبول کیں جنہیں صحابہؓ کے ایک حصے نے ابتدا میں سخت سمجھا۔ یہاں تک کہ ابو جندلؓ زنجیروں میں جکڑے ہوئے مسلمانوں کے پاس پہنچے، مگر معاہدے کی پابندی کرتے ہوئے انہیں واپس کیا گیا۔ اب ذرا غور کیجیے۔ اگر اصول یہ ہوتا کہ "دشمن دشمن ہے، اس کے ساتھ امن نہیں ہو سکتا"، تو حدیبیہ کا واقعہ پیش ہی نہ آتا۔ لیکن رسول اللہ (ص) نے ثابت کیا کہ: ایک دشمن کے ساتھ وقتی صلح دوسرے بڑے مقاصد کے حصول کے لیے حکمتِ عملی ہوسکتی ہے۔ یہ کمزوری نہیں تھی، یہ قوت کو محفوظ رکھنے اور حالات کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی سیاست تھی۔ جنگ کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہر محاذ بیک وقت کھول دیا جائے۔

جنگی حکمتِ عملی کا بنیادی اصول ہے کہ آپ اپنی قوت کو غیر ضروری طور پر منتشر نہ کریں۔ اگر ایک ملک کے سامنے پانچ دشمن ہوں اور وہ بیک وقت پانچوں کے خلاف مکمل جنگ شروع کردے تو اس کا نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس کی فوج پانچ حصوں میں تقسیم ہوجائے، معیشت پر پانچ گنا دباؤ پڑے، رسد کے راستے پھیل جائیں اور دشمنوں کو اسے الگ الگ کمزور کرنے کا موقع مل جائے۔ اس کے برعکس کامیاب ریاست دشمنوں کی ترجیحات طے کرتی ہے۔ ان کی حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ ایک وقت میں ایک فیصلہ کن محاذ۔ اور باقی محاذوں پر ضرورت کے مطابق دفاع، سفارت کاری، دباؤ یا انتظار۔ رسول اللہ (ص) کی مدنی حکمتِ عملی کو سمجھنے کے لیے یہی نکتہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس وقت مدینہ کی اسلامی ریاست کے شمال میں رومی اثر و رسوخ موجود تھا۔ مؤتہ کا معرکہ ہوا، پھر تبوک کی مہم آئی۔ لیکن یہ نہیں ہوا کہ رسول اللہ (ص) نے قریش، روم، فارس اور تمام عرب قبائل کے خلاف ایک ہی وقت میں ہمہ گیر جنگ شروع کردی ہو۔ حتیٰ کہ تبوک کے موقع پر بھی اسلامی ریاست نے صرف عسکری قوت کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ بعض مقامی حکمرانوں کے ساتھ معاہدے بھی کیے۔ صحیح بخاری میں ایلہ کے حکمران کے ساتھ معاہدے کا ذکر موجود ہے۔ یعنی میدانِ جنگ کے ساتھ معاہدہ اور سفارت کاری بھی ریاستی طاقت کے اوزار تھے۔ سیرتِ رسول (ص)کا مطالعہ ہمیں یہ اصول دیتا ہے کہ دشمنوں کی تعداد دیکھ کر جنگ نہیں چھیڑی جاتی بلکہ خطرے کی نوعیت دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی دشمن کے ساتھ جنگ ہوتی ہے، کبھی صلح، کبھی معاہدہ، کبھی سفارتی رابطہ اور کبھی محض فوجی تیاری۔ ریاست کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ ہر دشمن کو ایک ہی دن شکست دے دی جائے۔ ریاست کا مقصد ہوتا ہے: اپنی قوت کو محفوظ رکھنا اور اپنے مقاصد حاصل کرنا۔ اب آئیے ایران کی طرف۔ جون 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست جنگ ہوئی۔ اسرائیل نے ایران میں فوجی، جوہری اور دیگر اہداف پر حملے کیے اور ایران نے جواب میں اسرائیل کی طرف سیکڑوں ڈرونز اور بیلسٹک میزائل داغے۔ اسرائیلی شہروں، جن میں تل ابیب بھی شامل تھا، میں میزائل حملوں سے ساری دنیا نے ایک تباہی کا مشاہدہ کیا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ "ایران اسرائیل پر حملہ ہی نہیں کرتا" تاریخی حقائق کے خلاف ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست عسکری محاذ پہلے ہی بن چکا ہے۔ لیکن اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ اگر ایران ایک وقت میں امریکہ اور اسرائیل دونوں کے ساتھ جنگ میں ہو تو کیا اس کے لیے لازم ہے کہ وہ دونوں کے خلاف ہر لمحہ ایک ہی شدت سے کارروائی کرے؟ ایسا کوئی عسکری اصول نہیں۔ یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کسی ریاست کے لیے دو دشمنوں کا ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ دونوں کے خلاف اس کی حکمتِ عملی بھی یکساں ہوگی۔

امریکہ ایک عالمی فوجی طاقت ہے جس کے خطے میں مختلف فوجی اڈے اور بحری و فضائی اثاثے موجود ہیں۔ اسرائیل ایک علاقائی قابض ریاست ہے جس کے ساتھ ایران کا براہِ راست عسکری تنازع بھی ہے۔ لہٰذا اگر امریکہ براہِ راست ایران پر حملہ کرتا ہے اور ایران امریکی فوجی تنصیبات کو جواب دیتا ہے تو یہ فوجی منطق کے اعتبار سے ایک الگ محاذ ہے۔ دوسری طرف ایران اسرائیل کے خلاف الگ نوعیت کی کارروائی کرسکتا ہے۔ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتیں۔ 2025 میں یہی ہوا۔ جون 2025 کی جنگ میں جب امریکہ براہِ راست ایران کے خلاف کارروائی میں شامل ہوا تو ایران نے امریکی فوجی موجودگی کو بھی جواب دیا۔ یعنی ایران کے سامنے مسئلہ صرف اسرائیل نہیں رہا تھا بلکہ امریکہ بھی براہِ راست جنگی فریق بن چکا تھا۔ یہاں کسی ریاست کے لیے یہ فیصلہ کرنا کہ پہلے کس محاذ کو جواب دینا ہے، محض جذبات کا نہیں بلکہ فوجی ترجیحات کا سوال ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایران پر ہونے والی تنقید میں بنیادی مغالطہ پیدا ہوتا ہے۔ "سب کو ایک ساتھ مارو" کوئی حکمتِ عملی نہیں۔ کسی بھی جنگ کے دوران یہ کہنا آسان ہے کہ "امریکہ بھی دشمن ہے، اسرائیل بھی دشمن ہے، دونوں پر ایک ساتھ حملہ کرو۔" لیکن سوال یہ ہے کہ کتنے میزائل ہیں؟ کتنے لانچر ہیں؟ کتنی فضائی دفاعی صلاحیت ہے؟ کتنی دیر جنگ جاری رکھی جاسکتی ہے؟ دشمن کی جوابی کارروائی کتنی شدید ہوگی؟ کیا مزید ممالک جنگ میں داخل ہوجائیں گے؟ معیشت کتنا دباؤ برداشت کرسکتی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر، جنگ کا آخری مقصد کیا ہے؟ یہ سوالات کسی ٹی وی اسٹوڈیو میں بیٹھ کر جذباتی نعرے لگانے سے حل نہیں ہوتے۔ ریاستیں انہیں اپنے جنرل اسٹاف، انٹیلی جنس اداروں، سفارت کاروں اور سیاسی قیادت کے ذریعے حل کرتی ہیں۔ کیا رسول اللہ (ص) نے ہمیں یہی سبق نہیں دیا؟ حدیبیہ میں ایک ایسا معاہدہ ہوا جس کی بعض شرائط صحابہؓ کے لیے بظاہر ناقابلِ قبول محسوس ہوئیں۔ لیکن رسول اللہ (ص)نے وسیع تر مصلحت کو سامنے رکھا۔ صحیح بخاری میں واضح ہے کہ آپ (ص) نے مشرکینِ مکہ کے ساتھ صلح کی اور معاہدے کی شرائط کی پابندی کی۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ جنگ مقصد نہیں، مقصد کے حصول کا ایک ذریعہ ہے۔ اور جب مقصد جنگ کے بغیر، یا جنگ کو محدود کرکے، یا کسی ایک محاذ کو وقتی طور پر بند کرکے زیادہ بہتر طور پر حاصل ہوسکتا ہو تو ریاست جنگ کو محدود کرسکتی ہے۔ ایران کی ہر پالیسی درست ہے، یہ دعویٰ ہم نہیں کرتے۔ ایران کی عسکری حکمتِ عملی پر تنقید بھی ہوسکتی ہے اور ہونی چاہیے۔ لیکن تنقید دلیل کے ساتھ ہونی چاہیے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ "ایران امریکہ سے کیوں لڑ رہا ہے؟ اسرائیل کو کیوں نہیں مارتا؟" ان سے صرف ایک سوال ہے: کیا رسول اللہ (ص)نے اپنے عہد کی ہر مخالف قوت کے خلاف ایک ہی وقت میں جنگ شروع کردی تھی؟ اگر جواب "نہیں" ہے تو پھر اصول واضح ہے۔ ہر دشمن کے خلاف ایک ہی وقت میں جنگ چھیڑ دینا نہ سیرتِ رسول (ص) کا اصول ہے، نہ ریاستی حکمتِ عملی کا۔ اصل بہادری کیا ہے؟ اصل بہادری یہ نہیں کہ ایک ریاست جذبات میں آکر چاروں طرف جنگ شروع کردے۔ اصل بہادری یہ ہے کہ ریاست اپنے دشمن کو پہچانے، خطرے کو ترجیح دے، اپنی قوت کو محفوظ رکھے، مناسب وقت پر ضرب لگائے، ضرورت پڑے تو معاہدہ کرے، ضرورت پڑے تو جنگ کرے، اور ضرورت پڑے تو ایک محاذ کو خاموش رکھ کر دوسرے محاذ پر اپنی پوری قوت مرکوز کردے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ (ص) نے کبھی جنگ کو محض جنگ برائے جنگ نہیں بنایا۔

آپ (ص) نے طاقت استعمال کی، مگر حکمت کے ساتھ۔ صلح کی، مگر مقصد کو فراموش کیے بغیر۔ معاہدہ کیا، مگر ریاستی مفاد کو سامنے رکھ کر۔ اور جب جنگ ناگزیر ہوئی تو پوری قوت کے ساتھ لڑی۔ آج ہمیں سیرتِ رسول (ص) کو صرف غزوات کی فہرست کے طور پر نہیں بلکہ حکمت، تدبر اور ریاستی بصیرت کے سرچشمے کے طور پر پڑھنے کی ضرورت ہے۔ اگر دشمن پانچ ہوں تو پانچوں سے ایک دن میں جنگ کرنا ضروری نہیں۔ اگر دو دشمن ہوں تو دونوں کے خلاف ایک جیسی حکمتِ عملی اختیار کرنا ضروری نہیں۔ اور اگر ایک دشمن کے ساتھ جنگ چل رہی ہو تو دوسرے دشمن کے ساتھ عارضی سکون، معاہدہ یا محدود محاذ اختیار کرنا شکست نہیں۔ جنگ میں فتح صرف دشمن کو نقصان پہنچانے کا نام نہیں، اپنی قوت کو بچا کر اپنے مقصد تک پہنچنے کا نام بھی فتح ہے۔ اسی لیے ایران کے بارے میں یہ سوال کہ "وہ امریکہ کو جواب کیوں دیتا ہے اور اسرائیل کو اسی لمحے کیوں نہیں؟" اپنے اندر ہی ایک غلط مفروضہ رکھتا ہے۔ ایران کو اگر جنگ لڑنی ہے تو اسے یہ بھی سوچنا ہوگا کہ جنگ کہاں لڑنی ہے، کس کے خلاف کتنی شدت سے لڑنی ہے، کتنی دیر لڑنی ہے اور جنگ کو کس مقام پر روکنا ہے۔ اور اگر ہم واقعی سیرتِ رسول اللہ (ص) سے رہنمائی لینا چاہتے ہیں تو ہمیں جذباتی نعرے نہیں بلکہ وہ حکمتِ عملی، صبر، ترجیح بندی اور دوراندیشی سیکھنی چاہیے جس کے ذریعے ایک کمزور اور محصور جماعت بالآخر عرب کی سب سے مؤثر سیاسی و عسکری قوت بن گئی۔ ہر دشمن پر بیک وقت حملہ کرنا آسان ہے، صحیح دشمن کا انتخاب، صحیح وقت کا انتظار اور صحیح محاذ پر فیصلہ کن ضرب لگانا ہی اصل حکمت ہے۔

News ID 1941161

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha