مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک-پروفیسر تنویر حیدر نقوی: جنگوں کا فیصلہ صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی اصل نتیجہ اس وقت سامنے آتا ہے جب ایک بڑی طاقت اپنے ہی عسکری ذخائر کا حساب لگانے بیٹھتی ہے۔ میزائل کتنے باقی ہیں، طیارے اور جنگی جہاز کتنے دستیاب ہیں اور اگر ایک اور محاذ کھل جائے تو کیا فوج اس کا مقابلہ کر سکتی ہے؟ ایران کے ساتھ جاری جنگ نے امریکا کو اب اسی کڑے سوال کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہونے کے باوجود امریکی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈروں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جنگ میں بڑے پیمانے پر فوجی وسائل جھونکنے کے بعد اگر دنیا کے کسی دوسرے خطے میں جنگ چھڑ گئی تو امریکا شاید اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکے۔ یہ انکشاف اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ تشویش کا اظہار کسی بیرونی تجزیہ کار نے نہیں بلکہ خود امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں نے کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایران کی جنگ نے واقعی امریکی فوجی طاقت کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں واشنگٹن بیک وقت دو بڑے محاذوں کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا؟ یہ رپورٹ اسی اہم سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے۔
31 اگست کو اسی رپورٹ کے حوالے سے ایک مضمون امریکی میگزین/آن لائن جریدے Slate میں شائع ہوا ہے، اس مضمون کے مصنف فریڈ کپلن (Fred Kaplan) ہیں۔ اس آرٹیکل کا عنوان The Generals Are Worried ہے۔ اس مضمون کی اہمیت کے پیش نظر اس کا ترجمہ قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔
فریڈ کپلن اپنے اس مضمون میں کہتے ہیں کہ ” پیر کے روز واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک غیر معمولی رپورٹ اس بات کو نمایاں کرتی ہے کہ ایران کی جنگ نے دنیا کے دوسرے حصوں میں ممکنہ دشمنوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے کی امریکی فوجی صلاحیت کو کس حد تک متاثر کر دیا ہے۔ یہ رپورٹ ایک ایسی خفیہ دستاویز کے افشا ہونے پر مبنی ہے جس کے بارے میں عام طور پر بہت کم لوگوں کو علم ہے۔ خود اس دستاویز کا منظرعام پر آنا اس بات کی علامت ہے کہ اعلیٰ فوجی افسران میں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی انتشار پر مبنی حکمرانی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے چینی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ افشا ہونے والی دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ یورپ، بحرالکاہل اور جنوبی امریکا میں امریکی فوجی کارروائیوں کے ذمہ دار تین چار Star جنرلوں، اور امریکی بحریہ کے اعلیٰ ترین ایڈمرل نے ہیگسیتھ کو آگاہ کیا کہ ان کے بہت سے طیارے، جنگی جہاز اور دیگر ہتھیاروں کے نظام ایران کی جنگ میں منتقل کیے جانے کے باعث اب اگر ان کے اپنے علاقوں میں جنگ چھڑ گئی تو وہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکیں گے۔ یہ اعلیٰ فوجی افسران 14 اگست کے سیکریٹری آف ڈیفنس آرڈرز بک (SDOB) کے جواب میں اپنا موقف دے رہے تھے۔ واشنگٹن پوسٹ کے رپورٹرز الیکس ہارٹن اور تارا کاپ کے مطابق: SDOB عام طور پر ہر ماہ دو مرتبہ تیار کی جاتی ہے اور اس میں دنیا بھر میں امریکی جنگی بحری جہازوں، طیاروں، فوجی اہلکاروں اور ہتھیاروں کے نظام کی دستیابی کی صورتِ حال بیان کی جاتی ہے۔ یہ دستاویز صدر کی جانب سے فوج کے لیے مقرر کردہ ترجیحات کی عکاسی کرتی ہے، جن پر عمل درآمد وزیرِ دفاع کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اگست کے اس ایڈیشن کے جواب میں اعلیٰ فوجی کمانڈروں نے "Non-Concur"
یعنی ’’اتفاق نہیں‘‘ کا موقف اختیار کیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کے پاس اب اتنے بحری جہاز، طیارے، فوجی اہلکار اور دیگر ہتھیاروں کے نظام موجود نہیں رہے تھے جتنے SDOB کے حساب کے مطابق صدر کی ترجیحات کو جنگ کی صورت میں عملی جامہ پہنانے کے لیے درکار تھے۔ان ترجیحات میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر، مثال کے طور پر، چین تائیوان پر حملہ کرے یا اس کی ناکہ بندی کر دے، شمالی کوریا جنوبی کوریا پر حملہ کر دے، روس بالٹک ریاستوں میں فوجی دراندازی کرے، یا اسرائیل پر ایک مخصوص پیمانے کا حملہ ہو تو امریکی کمانڈروں کو کن اقدامات کے قابل ہونا چاہیے۔ فوج کے سربراہ اور فضائیہ کے سربراہ، یعنی دو دیگر اعلیٰ فوجی افسران نے اپنے پاس دستیاب وسائل کے اندازے سے اتفاق کیا، تاہم انہوں نے یہ ضرور نشاندہی کی کہ ان وسائل کے ساتھ فوجی مشن انجام دینے میں لاحق خطرات پہلے سے کہیں بڑھ گئے ہیں۔
یہ واشنگٹن پوسٹ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تقریباً ایک ماہ کی نسبتاً خاموشی کے بعد امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کے بحری جہازوں پر دوبارہ میزائل داغنا شروع کر دیے ہیں، اگرچہ یہ رپورٹ اس سے چند ہفتے پہلے کی صورتِ حال کو بیان کرتی ہے۔ یہ بات بڑے پیمانے پر رپورٹ ہو چکی ہے کہ اس جنگ کے چھ ماہ کے دوران اور حتیٰ کہ پہلے ہی ماہ میں امریکا نے اپنے انتہائی اہم جنگی اسلحے کا ایک بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے۔ ان میں کروز میزائلوں اور جدید فضائی دفاعی میزائلوں کا نصف سے زیادہ ذخیرہ بھی شامل ہے۔ امریکی فوج کو اپنے جدید ترین ہتھیاروں میں سے ایک، ٹرمینل ہائی آلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس(THAAD) میزائل نظام، جنوبی کوریا سے مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنا پڑا ہے۔ اسی طرح امریکی بحریہ کو یو ایس ایس جارج واشنگٹن طیارہ بردار جہاز اور اس کے حفاظتی جنگی جہاز جاپان سے خلیجِ فارس منتقل کرنا پڑے ہیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں بحرالکاہل میں موجود امریکی بحریہ کا واحد طیارہ بردار جہاز وہاں سے ہٹا لیا گیا۔ SDOB میں واضح کیا گیا تھا کہ 50 ہزار امریکی فوجی اہلکار اور ان کا بیشتر جنگی سازوسامان کم از کم ستمبر تک مشرقِ وسطیٰ میں موجود رہنا چاہیے، جبکہ بعض صورتوں میں یہ تعیناتی اگلے سال تک جاری رہ سکتی ہے۔ اس کے بعد اعلیٰ کمانڈروں کی جانب سے دیے گئے ’’Non-Concur‘‘ بیانات میں خبردار کیا گیا کہ اگر ایران کی جنگ زیادہ عرصے تک جاری رہی تو امریکی فوج کی جنگی تیاری کی موجودہ سطح برقرار رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔ یہ رپورٹ ایک اور وجہ سے بھی غیر معمولی ہے، اور وہ ہے اس کا دائرۂ کار۔ بحریہ کے ایک سابق اعلیٰ
افسر اور ریٹائرڈ نیول آپریشنز افسر نے مجھے بتایا کہ ماضی میں بھی بعض امریکی فوجی کمانڈروں نے کبھی کبھار اسی نوعیت کے بیانات جاری کیے ہیں جن میں فوجی خطرات سے خبردار کیا گیا تھا۔ لیکن ایک جاری جنگ کے دوران ایک ہی وقت میں اتنے زیادہ اعلیٰ کمانڈروں کا اس نوعیت کے ’’Non-Concur‘‘ بیانات دینا انتہائی غیر معمولی ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ غیر معمولی، شاید بے مثال، بات یہ ہے کہ یہ رپورٹیں انہی کمانڈروں کی طرف سے سامنے آئی ہیں جنہیں ڈونلڈ ٹرمپ اور پیٹ ہیگسیتھ سے وفاداری کی بنیاد پر ان اعلیٰ عہدوں پر منتخب کیا گیا تھا یا انہیں برقرار رکھا گیا تھا۔ متعدد خبر رساں اداروں کے مطابق ہیگسیتھ نے اپنے وفاداری کے امتحانات اور دیگر غیر معمولی مطالبات کے ذریعے امریکی دفاعی ادارے یعنی فوجی افسران، عام فوجی اہلکاروں اور سویلین
ملازمین میں شدید انتشار پیدا کر دیا ہے۔انہوں نے کم از کم 45 فوجی افسران کی ترقی روک دی ہے اور اس طرح فوجی اداروں کے اپنے ساتھی افسران پر مشتمل جائزہ بورڈز کے فیصلوں کو بھی مسترد کیا ہے۔ ایسے فیصلوں کو عام حالات میں انتہائی کم ہی چیلنج کیا جاتا ہے۔ ان 45 افسران میں تقریباً نصف سیاہ فام یا خواتین ہیں، اور بظاہر یہ محض اتفاق نہیں۔ ہیگسیتھ نے متعدد مواقع پر اس تصور ہی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ خواتین کو فوج، بالخصوص جنگی کرداروں میں، شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کھلے عام یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آیا سیاہ فام افسران کو ان کے موجودہ عہدوں تک ترقی DEI یعنی Diversity, Equity and Inclusion پالیسیوں کی وجہ سے ملی ہے۔ ہیگسیتھ اصولی طور پر DEI پالیسیوں کے مخالف ہیں۔
یہ حیران کن نہیں ہوگا اگر اب ہیگسیتھ کے یہ فیصلے خود ان کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہوں۔ ممکن ہے کہ جن لوگوں نے ’’Non-Concur‘‘ نوٹس اور پینٹاگون میں انتشار سے متعلق دوسری رپورٹس افشا کی ہیں، وہ دراصل ایسے ہی ترقی پانے والے افسران ہوں جن کی ترقیاں ہیگسیتھ نے کسی معقول وجہ کے بغیر روک دی تھیں۔ مزید برآں، گزشتہ اپریل میں ہیگسیتھ نے امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو برطرف کر دیا تھا۔ جنرل جارج ایک انتہائی اعزاز یافتہ اور فوج میں بے حد قابلِ احترام کمانڈر تھے اور انہوں نے بعض افسران کی ترقیاں روکنے کے فیصلوں پر اعتراض کیا تھا۔ اس برطرفی کے بعد چار ماہ گزر چکے ہیں لیکن ہیگسیتھ نے ابھی تک ان کا مستقل جانشین نامزد نہیں کیا۔ عام حالات میں بھی یہ انتہائی غیر معمولی بات ہوتی، لیکن جنگ کے دوران ایسا کرنا غیر ذمہ دارانہ عمل قرار دیا جا سکتا ہے۔
ڈرون جنگ سے لے کر ’’ووک‘‘ کے خلاف جنگ تک اس عبوری عرصے کے دوران ہیگسیتھ کے فیصلوں سے یہ اشارہ بھی نہیں ملتا کہ وہ اپنی پالیسی میں کوئی اصلاح یا تبدیلی لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، حال ہی میں ہیگسیتھ نے امریکی فوج کی ایک ایسی یونٹ ختم کر دی جو ڈرون جنگ پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ انہوں نے حکم دیا کہ یہ یونٹ واپس اپنے ’’بنیادی‘‘ مشن یعنی فضائی ذریعے سے پیدل فوج کی کارروائیوں کی طرف لوٹ جائے۔ حالانکہ موجودہ جنگوں میں ڈرون جنگ خود ایک بنیادی فوجی مشن بن چکی ہے۔ انہوں نے ایسے تربیتی پروگرام بھی ختم کر دیے جن کے تحت باصلاحیت اور مستقبل کے اہم فوجی افسران ایک سال بڑی یونیورسٹیوں میں تاریخ اور جنگی حکمتِ عملی کا مطالعہ کرتے تھے۔ ہیگسیتھ نے ان پروگراموں کو بھی
’’ووک‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ اس کے برعکس انہوں نے کہا کہ وہ فوجیوں کے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح جانچنے کے لیے ٹیسٹ کروانے کا حکم دیں گے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک جسمانی ہارمون کی سطح فکری اور ذہنی صلاحیت سے زیادہ اہم ہے۔ ان تمام اقدامات نے فوجی افسران میں خوف پیدا کر دیا ہے۔ یہ وہ افسران ہیں جنہیں طویل عرصے سے سکھایا جاتا رہا ہے کہ وہ سویلین قیادت کا احترام کریں۔ لیکن اب انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ اختلافِ رائے کی معمولی سی علامت بھی ان کے فوجی کیریئر کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ ادھر ہیگسیتھ اور وائٹ ہاؤس کے درمیان بھی کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔ جب امریکی فوجی اسلحے کے ذخائر میں کمی کی خبریں پہلی مرتبہ سامنے آئیں تو ٹرمپ نے ابتدا میں ان خبروں کی تردید کی، پھر بظاہر غصے کا اظہار کیا۔ ایسا محسوس
ہوا کہ ہیگسیتھ نے انہیں اس صورتِ حال سے آگاہ نہیں کیا تھا۔ اس کے باوجود اس بات کا امکان کم ہے کہ ٹرمپ ہیگسیتھ کو برطرف کریں گے۔ ایسا کرنا اس بات کا اعتراف ہوگا کہ ٹرمپ نے انہیں وزیرِ دفاع مقرر کر کے غلطی کی تھی، اور ٹرمپ اپنی غلطی تسلیم کرنا پسند نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ ہیگسیتھ ٹرمپ کے ساتھ انتہائی غیر متزلزل وفاداری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں، اور ٹرمپ کے نزدیک وفاداری شاید کسی بھی دوسری خوبی سے زیادہ اہم ہے۔ دونوں کے درمیان تعلقات اس حقیقت کی وجہ سے بھی مضبوط ہوئے ہیں کہ سینیٹ میں سماعتوں سے پہلے ہی ٹرمپ پر ہیگسیتھ کی نامزدگی واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ اس وقت ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ہیگسیتھ کو شراب نوشی کا مسئلہ درپیش تھا، انہوں نے اپنی سابق بیویوں کے ساتھ بدسلوکی کی تھی اور انہیں
بڑی تنظیموں کی قیادت کا خاطرخواہ تجربہ حاصل نہیں تھا۔ لیکن ٹرمپ ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ بالآخر سینیٹ نے ہیگسیتھ کی منظوری صرف اس لیے دی کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے ان کے حق میں فیصلہ کن ووٹ دے کر برابری ختم کر دی۔ کیا ٹرمپ ہیگسیتھ کو قربان کر دیں گے؟ ہیگسیتھ شاید ٹرمپ کی کابینہ کے سب سے زیادہ غیر مقبول وزیر ہیں اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے جس کے لیے انہیں خاصی سخت مسابقت کا سامنا ہے۔
لیکن نئی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید وہ سب سے زیادہ خطرناک وزیر بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ ہیگسیتھ کو بھی، اپنے بہت سے دوسرے وفادار معاونین کی طرح، قربان کر دیں گے، ایسے معاونین جن کی ضرورت ختم ہو جانے کے بعد ٹرمپ نے انہیں اپنے سیاسی راستے سے ہٹا دیا۔ یا پھر ٹرمپ اور ہیگسیتھ کے تعلقات اس قدر مضبوطی سے جڑ چکے ہیں کہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والے دنوں میں امریکی دفاعی پالیسی اور ایران کی جنگ کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔
آپ کا تبصرہ