مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی جارحیت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ شادی کی تقریب اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا نام نہاد انسانی حقوق کے محافظوں کی مایوسی کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے علاقے کوہستک میں ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنانا اور بے گناہ شہریوں کا قتل، انسانی حقوق کے جعلی علمبرداروں کی انتہائی مایوسی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے اس حملے کو میناب اور لامرد میں ہونے والے سابقہ واقعات اور مظالم کی تکرار قرار دیا۔
ابراہیم عزیزی نے مزید کہا کہ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ان جرائم کو سزا کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا اور کوئی بھی چیز ان کے ذمہ داروں کو ایرانی مسلح افواج کے انتقامی عزم اور ارادے سے محفوظ نہیں رکھ سکے گی۔
یاد رہے کہ بدھ کی شام ایران کے جنوبی صوبہ ہرمزگان کے شہر بندرِ کوہستک میں امریکی فورسز نے ایک شادی کی تقریب اور رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کئی افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ