مہر خبررساں ایجنسی، دینی ڈیسک-انلیہ سید حسنی: اس مضمون کا آغاز ایک سوال سے کرنا چاھتی ہوں کہ انبیاء کے انے کا کیا مقصد تھا کیوں خدا نے انبیاء ہو مبعوث کیا۔قرآن کی آیات بار بار کیوں ہمیں مل جل کر رہنے کی تاکید کر رہی ہیں۔ انیباء کی بعثت کا مرکزی نقطہ کیا ہے۔
ان سوال کے جواب دینے سے پہلے امام خمینی کا یہ جملہ ذکر کرنا ضروری ہے
امام خمینی فرماتے ہین کہ اسلام گمشدہ است۔پیدائیش کنید۔
اسلام تمہارے ہاتھوں سے کھو گیا ہے اسےتلاش کرو۔
امام کو یہ جملہ کہنے کی کیا ضرورت تھی آج کے دور میں جو سب دین کے پوجاری بنے پھر رہے ہیں۔اس جملہ کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
اج جو اسلام کو ہتھیاربنا کر مسلمانوں کے درمیان اتنی جنگیں ہو رہی ہے۔ یہ کس نظریہ اور فکر کے تحت کی جارہی ہیں۔ لیکن دوسری طرف قرآن بارہا مل جل کر رہنے ہر زور دے رہا یے۔
اج امت مسلمہ اسلام اور قرآن کے تمام مشترکات کو ترک کیے ہوئے ہے اور کچھ اختلافات کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کے مدمقابل میں کھڑی ہے۔ صرف آج کے دور میں نہیں بلکہ ہر دور میں ہمارا دشمن امت مسلمہ کو آپس میں لڑوانا چاہ رہا ہے۔لیکن ہم جو مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ اپنے اصلی دشمن کو پہنچاننے کی بجائے آپس می دست و گریباں ہیں۔
آج امت مسلمہ اتحاد کی بجائے تفرقہ کو عبادت سمجھ رہی ہے۔ جبکہ قرآنی آیات کی روح سے وحدت قرآن کی اصل و بنیاد ہے ۔ وحدت صرف ایک ضرورت نہیں۔بلکہ اطاعت کا جز ہے۔ آج یہ نام نہاد لوگ اسلام کے بیشتر حصے کو چھوڑ کر مسلمان اور مومن میں بٹ کر رہ گئے ہیں۔ اور یہود اور صھیونیست کہ جسے قرآن نے اسلام کا سخت ترین دشمن قرار دیا ہے۔ ان سے غافل ہو کر آپس میں ایک دوسرے سے متنفر ہو کر بیٹھے ہیں۔
ایک مصری اھل سنت جس نے اپنی کتاب میں اھل سنت کو مخاطب کر کے کہا کہ خبردار وحدت کے جھانسے میں نہ آنا۔ یہ سنی کو شیعہ کرنے کی ایک سازش ہے۔
اوردوسری طرف موصوف نے اپنی ایک کتاب میں ایرانی شیعوں کو فریب دینے کے لیے لکھا کہ وحدت شیعہ کو سنی بنانے کا نام ہے۔
ہفتہ وحدت کی بنیاد رکھنے والے عظیم علماء نے اپنے مذھب پر باقی رہتے ہوئےوحدت کو فروغ اور ترویج دی۔ کیونکہ وہ دشمن کی اس تفرقہ والی چال کو سمجھ چکے تھے۔ اور ڈٹ کر اس سازش کے خلاف کھڑے ہو گئے تھے اور یہ ثابت کیا کہ شیعہ ہونے کا ھرگز یہ مطلب نہیں کہ اھل سنت حضرات کو گلے نہ لگایا جائے۔ ان معروف شخصیات میں امام خمینی رح اور رہبر شہید آیت اللہ العظمی خامنہ ای اور پاکستانی علماء علامہ مفتی جعفر اور علامہ عارف حسین الحسینی جیسے جید علماء شامل ہیں
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہفتہ وحدت کس مناسبت کے تحت منایا جا رہا ہے۔
تو معلوم ہو گا کہ ہفتہ وحدت بارہ ربیع الاول سے سترہ ربیع الاول تک رسول اللہ صلی الہ وعلیہ وآلِ وسلم کی ولادت باسعادت کو منائے جانے کو کہتے ہیں کیونکہ ہم امت مسلمہ میں وحدت کا مرکز پیغمبر اکرم حضرت محمد کی ذات اقدس ہی ہے۔ درود وسلام ہو ان ہستیوں پر کہ جن کو وحدت کے لیے مبعوث کیا گیا یے۔
چونکہ شیعہ اور اھل سنت کے نزدیک ولادت حضرت محمد میں فرق یا اختلاف پایا جاتا یے۔ اور بحثیت امت مسلمہ ہم پر واجب ہے کہ اس اختلاف کو اختلاف ہی رہنے دیں نہ کہ تفرقہ کی شکل دیں۔
اب سوال اتا ہے کہ لوگ وحدت کے نام سے کیوں گھبراتے ہیں۔
کیونکہ وہ وحدت کے صحیح مفھوم کو نہیں سمجھ پائے ان کے نزدیک وحدت سے مراد اپنے مذھب کو چھوڑ یا تمام مذاھب کو چھوڑ کر اسلام کی ترویج کرنا ہے۔
یہ صرف دشمنان اسلام کے پھیلائے ہوئے فرضی نظریہ ہیں کہ جن کا حقیقت سے کوئی ربط نہیں۔
وحدت سے مراد تمام اختلاف کر برقرار رکھتے ہوئے اپنے مشترکات میں ایک ہو جانا"
اور ہفتہ وحدت کا بنیادی ھدف امت مسلمہ کا دشمن کے مقابلے میں ایک ہونا "ہے
تحقیق سے ثابت یے کہ شیعہ اور سنی میں نوے فیصد مشترکات موجود ہیں۔اور کچھ فیصد اختلاف ہے۔ اب اگر ان مشترکات کی نفی کر کے اختلافات کو ھوا دی جائے تو یہ عقل سلیم کے خلاف ہے۔
ہم رسول اللہ کی زندگی کو مدنظر رکھیں تو یہ بات دیکھی جائے گی کہ وہ نبی جو اسلام کے صحیح معنوں میں وارث ہے۔ اپنی زندگی میں وحدت کو تفرقے پر مقدم رکھا۔ آپ نے یہاں تک کہ عیسائیوں کے ساتھ دینی مشترکات پر معاہدے کیے۔
اور ان حضرات کی زندگیوں کا مطالعہ کریں۔جن کو بنیاد بنا کر ہم بحثیت امت مسلمہ آپ میں ایک جنگ عظیم شروع کر چکے ہیں۔ انہوں نے اسلام کے تحفظ اور امت مسلمہ کے لیے ہمیشہ وحدت کا راستہ چنا
امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: میرے لیے بعض چیزیں برادشت کرنا بہت دشوار ہے۔ لیکن اس کے باوجود دین اور امت کی مصلحت کے لیے میں نے خاموشی اختیار کی۔
امیرالمومین امام علی علیہ السلام نے اس وحدت کی خاطر ایک عمر اپنے حق سے چشم پوشی کی۔ اگر امیرالمومنین کے ان الفاظ کا بغور مطالعہ کیا جائے۔توہم کبھی بھی اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی کمر میں خنجر گھونپنے والوں کو دین کے وفادار نہیں سمجھیں گئے۔
نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا یے کہ تاریخ اور اسلام کا دقیق مطالعہ نہ کرنے کی وجہ سے آج ہم اپنے ھدف سے دور اور اور دشمن اپنے ھدف کے قریب تو ہوتا چلا جا رہا ہے۔
اب اگر اھل سنت حضرات اپنے محترم حضرات کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو انہوں نے کبھی بھی اختلاف کو تفرقہ یا جنگ شکل میں تبدیل نہیں کیا۔
اج دشمن ہمیں آپس میں لڑوا کر مقصد انسانیت سے دور کر رہا ہے۔ اج امت مسلمہ نوجوانوں سے واجب کے ترک ہونے پر کسی سرزنش کی قائل نہیں ہے۔ لیکن تفرقہ جیسی بیماری ترک نہ ہونے پائے۔ کیونکہ یہ دین سے وفاداری کا ثبوت ہے۔
تشریح آیۃ وحدت (واعتمو بحبل اللہ)
آیت اللہ جوادی آملی: واعتصمو کا مصداق صرف اطاعت نہیں بلکہ وحدت بھی ہے۔ ایک کو ترک کرنا حکم خدا کی نافرمانی ہے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی: اس رسی کو تھامنے سے مراد یہ نہیں کہ سب اسی رسی کو پکڑیں اور اپنی اپنی مسجد میں لے جائیں بلکہ سب یکجا ہو ہر اس کو تھامیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اطاعت خدا محقق نہیں ہو گی۔
آیۃ( ولا تفرقو)
یہ آیت نص صریخ قرآن ہے جو حرمت تفرقہ پر دلالت کرتی یے۔ نہ کہ کسی مجھتد کا فتوی ہے۔
تاریخ کے اوراق میں درج یے۔کہ تفرقہ جہالت کی نشانی ہے۔ عربوں کے دو قبیلے صرف ایک ملخ یا سانڈا کیوجہ سے آپس چالیس سال تک لڑتے رہے۔اور اس تفرقہ کی وجہ سے کئی افراد مارئے گئے۔پس ثابت ہوا کہ تفرقہ قوموں کی ہلاکت کا سبب ہے۔
خدواند عالم نے وحدت کو ایک نعمت عظیم یاد کیا ہے۔
سورہ آل عمران کی آیت 103 میں ارشادہے۔کہ تم سب آگ کے کنارے تک پہنچ گئے تھے۔ تو اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ایجاد کر دی۔
ہماری امت مسلمہ کا وحدت کا مرکز قرآن، رسول ہے جو ہمیں قوموں میں ممتاز بناتا یے۔جن قوموں نے ان کو اہمیت دی وہ ہمیشہ ممتاز اور کامیاب رہی۔
امام خمینی رح اور رھبر شھید فرماتے ہیں:
وحدت امت اسلامی تمام واجبات میں سے اہم واجب ہے۔اگر اسکو محفوظ نہ رکھا گیا تو دشمن اسلام اسکو نابود کر دے گا بلکہ نابود کر رہا ہے اور یہ کہنا بہتر ہو گا کہ اگر ابھی بھی ہم نے عقل سلیم سے کام نہ لیا اور باہمی اختلافات کو تفرقہ بننے سے نہ روکا تو ہماری حالت اور زمانہ جھالیت کے عربوں میں کوئئ خاص فرق نہیں رہے گا۔
اس وقت ہمارا سب سے بڑا دشمن یہودی اور صھیونیست ہیں۔جو پوری دنیا کو کنٹرول کر رہا ہے۔اور وہ اس وقت کا فائدہ بخوبی اٹھا رہا ہے۔اور ہم انجان بنے بیٹھے آپس میں دستِ گریبان ہیں۔
خدا قرآن میں فرماتا یے کہ جو شخص اسلام کے سوا کسی اور چیز کا تابع ہوا تو وہ شخص خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
دوسرا سورہ نساء کی آیت 101 میں خدا فرماتا ہے
جو لوگ بعض پر ایمان اور بعض پر کفر کرتے ہیں ۔وہ حقیقی کافر ہیں۔
پس اگر اطاعت خدا کے ساتھ ہم تفرقہ سے باز نہیں آئے۔ تو آیت کا مصداق کہیں امت مسلمہ نہ بن جائے۔
آج امت مسلمہ بچھو کے اس دم کی طرح ہے۔ جو بغیر سر کے بس حرکت میں رھتی ہے۔ہم۔بھی اپنی اصل کو بھول کر شور مچا رہے ہیں اور انانیت اور ھوا وھوس کی شکار ہوئے پڑے ہین۔
اب ہمیں سوچنا ہے کہ ہمارے اس تفرقے سے کیا حاصل کرنا چاھتا یے۔ یہ سامری کون ہیں جو حجت خدا کی غیبت میں لوگوں کو اصل سے گمراہ کر رہے ہیں۔ امت مسلمہ ایک جسم کی مانند ہے کہ جس میں کئی اعضا موجود ہیں لیکن ان اعضا کے ہوتے ہوئے وہ متحد ایک جسم کی مانند باقی ہے۔ہم بھی اگر ایسے رہے تو دشمن اپنے ھدف میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ وہ جانتا یے امت مسلمہ کو ان کے مذاھب سے جدا نہیں کیا جاسکتا ہے کیوں نہ انکو ایسی جگہ سے جدا کیا جائے جو انکو پھر کبھی بھی متحد نہ ہونے دے اور وہ یہ کام کر رہا ہے۔ہماری وحدت کا مرکز رسول اللہ کی ذات اور قرآن ہے ان مشترکات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اپنے اختلاف ہر باقی رہ سکتے ہیں۔
پس یہ کہنا درست ہو گا کہ جسطرح روح،بدن کی بقا ہے اسی طرح امت مسلمہ کہ بقا حجت خدا پر مرکوز ہے۔ خدواند متعال نے اپنے محبوب کے وجود نازنین کو وحدت کا مرکز بنا امتوں کے درمیان بھیجا۔تاکہ یہ امت ھلاکت اور تباھی سے بچ سکے۔اگر اج ہم نے ان نبیادوں اور اصولوں کو سنبھالے رکھا تو بڑے سے بڑا دشمن بھی ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا آج ہمیں اپنی اہمیت ،اپنے دین اور بالخصوص اس وحدت کی اہمیت کو پہچاننا ضروری ہے۔ تاکہ صحیح معنوں میں بندہ خدا اور رسول کا امتی ہونے کا حق ادا کر سکیں۔
اور بالخصوص اس نعرہ کو چھوڑ دینا بہتر ہے کہ کسی کے مذھب کو نہ چھیڑو اور اپنے مذھب کو نہ چھوڑو والا فارمولا دشمن کے مقابلے میں بہت کمزور ہو چکا ہے جو استقلال اور بصیرت سے دوری کا باعث بن رہا ہے۔
لہذا ایک رہیں اور وحدت کو اپنا مرکز بنائیں کیونکہ یاد رکھیں کہ ہزار اختلافات کے باوجود ہمارا خدا ایک، رسول ایک، اور کتاب بھی ایک ہے۔
آپ کا تبصرہ