30 اگست، 2026، 10:15 AM

ایران اور امریکا کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، عراق

ایران اور امریکا کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، عراق

عراق کے وزیرِاعظم کے مشیر قاسم الاعرجی نے کہا ہے کہ بغداد ایران اور امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرنے اور ایسا معاہدہ طے کرانے کی کوشش کر رہا ہے جو خطے کے تمام ممالک کے حقوق کی ضمانت دے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراق کے وزیرِاعظم کے مشیرِ سلامتی قاسم الاعرجی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا دونوں عراق کے دوست ہیں، تاہم بغداد کے لیے سب سے اہم ترجیح اپنے قومی مفادات کا تحفظ ہے۔

قاسم الاعرجی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراق کے ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ہم فریقین کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ایسا معاہدہ طے پایا جا سکے جو خطے کے تمام ممالک کے حقوق کی ضمانت دے۔

انہوں نے ایران اور امریکا کے ساتھ عراق کے تعلقات کے بارے میں کہا کہ دونوں ممالک ہمارے دوست ہیں، لیکن عراق کے مفادات اولین ترجیح رکھتے ہیں اور بغداد کے پاس فریقین کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے قائل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

عراقی مشیرِ سلامتی نے مزید کہا کہ مسلح گروہوں کے ساتھ ہتھیاروں کو صرف ریاست کے اختیار میں رکھنے کے معاملے پر مذاکرات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اتحاد کے عراق سے انخلا کے بعد اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مناسب موقع فراہم ہوگا اور مسلح گروہوں کے ساتھ ہتھیاروں کو ریاست کے اختیار میں محدود کرنے کے حوالے سے مذاکرات مزید سنجیدہ انداز میں آگے بڑھیں گے۔

عراق کی قومی سلامتی کونسل کے سابق سیکریٹری نے کہا کہ مسلح گروہوں نے فی الحال اس بات کا عہد کر رکھا ہے کہ وہ عراق کے اندر یا پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔

الاعرجی نے عراق میں کردستان ورکرز پارٹی کے جنگجوؤں کی موجودگی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بغداد اس مسئلے کے حل کے لیے ترکی کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عراق میں ترک فوجیوں کی موجودگی کا باعث بننے والے حالات بھی پی کے کے کے معاملے کے حل کے ساتھ ختم ہو جائیں گے۔

عراقی مشیرِ سلامتی نے کہا کہ ایران عراق سے شدت پسند گروہوں کے انخلا کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ بغداد ان تمام معاملات کو حل کرنے کے لیے پُرعزم ہے جو عراق اور اس کے پڑوسی ممالک کے لیے نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔

الاعرجی نے خلیج فارس کے ممالک، عراق اور ایران کے درمیان سکیورٹی تعاون اور رابطہ کاری کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک کے درمیان اس حوالے سے مزید تعاون ہونا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پیشمرگہ فورسز کے ہتھیار عراقی آئین کے دائرہ کار میں ہیں اور ہتھیار جمع کرنے سے مراد وہ اسلحہ ہے جو آئینی اور قانونی دائرہ کار سے باہر ہے۔

عراقی وزیرِاعظم کے مشیرِ سلامتی نے کہا کہ 30 ستمبر کو بین الاقوامی اتحاد کا عراق سے انخلا واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کے خاتمے کا مطلب نہیں ہوگا، بلکہ امریکا کے ساتھ سکیورٹی معلومات کا تبادلہ بدستور جاری رہے گا۔

News ID 1940983

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha