30 اگست، 2026، 3:29 PM

دھمکیوں کے بعد ٹرمپ کا بیٹا بیرون خانہ سرگرمیوں سے گریز کرنے لگا

دھمکیوں کے بعد ٹرمپ کا بیٹا بیرون خانہ سرگرمیوں سے گریز کرنے لگا

نیویارک پوسٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کے چھوٹے بیٹے بیرن ٹرمپ کو مبینہ قتل کی دھمکیوں کے باعث سخت حفاظتی انتظامات میں رکھا گیا ہے اور وہ زیادہ تر وقت گھر تک محدود رہتے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نیویارک پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چھوٹے بیٹے بیرن ٹرمپ کو مبینہ طور پر قتل کی دھمکیوں کے باعث گھر تک محدود کر دیا گیا ہے اور وہ عوامی مقامات پر جانے سے گریز کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، بیرن ٹرمپ اپنی زندگی کی تیسری دہائی میں داخل ہو رہے ہیں اور اس وقت انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان عوامی نظروں سے دور زندگی گزار رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ صورتحال امریکا میں بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد اور ان کے والد ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی متعدد مبینہ کوششوں کے تناظر میں پیدا ہوئی ہے۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق، ٹرمپ کے قریبی حلقے کی ایک بااثر اور دیرینہ شخصیت نے بتایا کہ بیرن ٹرمپ نے حال ہی میں نیویارک یونیورسٹی میں اپنی تعلیم کا دوسرا سال مکمل کیا ہے۔ انہوں نے موسم گرما کا بیشتر حصہ اپنی والدہ ملانیا ٹرمپ کے ساتھ نیوجرسی کے علاقے بیڈ منسٹر میں واقع ٹرمپ نیشنل گالف کلب میں گزارا۔

مذکورہ ذریعے نے نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیرن ٹرمپ اب باہر نہیں نکلتے۔

ایک دوسرے ذریعے نے دعوی کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا چھوٹا بیٹا انتہائی گوشہ نشین ہو گیا ہے اور عوامی سرگرمیوں سے تقریباً مکمل طور پر دور رہتا ہے۔

نیویارک پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جولائی 2024 کے بعد سے کم از کم تین مبینہ قاتلانہ حملوں میں بال بال بچ چکے ہیں، تاہم ان کے چھوٹے بیٹے بیرن ٹرمپ کو بھی ان کے والد کے مخالفین کی جانب سے مبینہ خطرات کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیرن ٹرمپ کی موجودہ طرزِ زندگی میں غیر معمولی رازداری اور سخت حفاظتی انتظامات نمایاں ہیں، جس کے باعث وہ عام طور پر عوامی سرگرمیوں اور میڈیا کی توجہ سے دور رہتے ہیں۔

News ID 1940994

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha